Type to search

تجزیہ سیاست میڈیا

کیا کامران خان میں تبدیلی آ گئی ہے؟

لوگ کہتے ہیں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی ذاتی دوست اور دشمن نہیں ہوتے نہ ہی کوئی مستقل ساتھی اور مستقل مخالفین ہوتے ہیں۔ اپنا اپنا مفاد دیکھ کر سب ہی چلتے ہیں۔ اور جس وقت مفاد جس کے ساتھ ہو، اسی کا ساتھ دیا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ملک کے کئی صحافی محض اس لئے بڑے صحافی بن گئے کہ جب نئے نئے نیوز چینلز کھلنا شروع ہوئے تو یہ صاحبان کسی کی good books میں تھے۔ کسی کو current affairs کا پروگرام مل گیا تو کسی کو پاکستان سے باہر کسی مغربی ملک میں بیٹھ کر مرغے لڑانے کا موقع ہاتھ آ گیا۔ گذشتہ قریب دو دہائیوں میں ان صاحبان نے اپنے لئے پاکستان کے میڈیا میں بڑی جگہ بنائی ہے۔ جب بیانیہ بنانا ہو، تو انہیں ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ خواہ وہ جنرل پرویز مشرف کے آخری دور میں افتخار چودھری کے حق میں کیا گیا ہو، پیپلز پارٹی کے خلاف ’عجب کرپشن کی غضب کہانیاں‘ ہوں، یا پھر مسلم لیگ نواز کے دور میں ’معیشت کی حالت بری نہیں تو بہت اچھی بھی نہیں ہے‘ کے دعوے ہوں، ہر بار آخری وقت میں حکومتوں کو ڈھانے کے لئے ان کرداروں کے کردار بہت اہم رہے ہیں۔

حکومتوں کو زچ کرنے میں ان پے در پے کامیابیوں کے بعد لیکن شاید ان صحافیوں کو اپنے حد سے زیادہ طاقتور ہونے کا گمان ہونے لگا اور یہ سمجھنے لگے کہ اگر حکومت گرانے کے ہم کام آ سکتے ہیں تو شاید حکومتوں کو ان کے پیروں پر کھڑا رکھنے کے لئے بھی ہماری فراہم کی ہوئی بیساکھیاں کافی ہوں گی۔ یہی وجہ تھی کہ روزانہ نہیں تو ہفتے میں کم از کم ایک بار حکومت کی جانب سے بڑی بڑی خوشخبریاں سنائی جاتیں، عوام کو بتایا جاتا کہ حکومت بہت اچھا کام کر رہی ہے، اقتصادی محاذ پر ملک کو مستحکم کر دیا ہے، اقوامِ عالم میں ہماری اب بڑی عزت ہے وغیرہ۔ عوام بھی مگر ہمارے سادہ ہیں پر اتنے بھی نہیں۔ ٹوئٹر پر جہاں ان صحافیوں کو ٹرول فارمز سے ہزاروں کی تعداد میں ریٹوئیٹس ملتی رہیں، عام آدمی جانتا ہے کہ ان خوشخبریوں سے کوئی فائدہ عوام کو نہیں پہنچتا۔ ایل این جی کے ٹھیکے نہ کر کے خساروں کو کم کرنا کوئی عقلمندی کا فیصلہ نہیں لیکن یہ صحافی اسے کارنامہ بنا کر پیش کرتے رہے۔ عوام کو لیکن فرق محض اس چیز سے پڑتا ہے کہ انہیں بجلی، گیس، آٹا، گندم، چینی دستیاب ہے یا نہیں، اور اگر دستیاب ہے تو کس قیمت پر دستیاب ہے۔

بالآخر پاکستان کے سینیئر اور نامور صحافی اور جیو نیوز اور بعد ازاں دنیا نیوز پر سالہا سال سے حالاتِ حاضرہ پر ہفتے کے پانچ دن پروگرام کرنے والے کامران خان صاحب جو کئی ہفتوں سے عوام کو کسی نہ کسی موضوع پر نوید ساتے پائے جاتے تھے، اب تھک ہار کر اعتراف کر بیٹھے ہیں کہ ان کی ’مثبت رپورٹنگ‘ کا عوام پر اثر نہیں ہو رہا اور وہ محض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو جانتے ہیں جن پر رقم ان کو اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ آپ چاہے کرنٹ اکاؤنٹس خسارے کو کم کریں یا قرضے بڑھائیں، عوام کے نزدیک ان چیزوں کی اہمیت کاغذ پر لکھے چند ہندسوں سے زیادہ نہیں۔ جب وہ آٹا اور چینی 2018 کے مقابلے میں دگنی قیمت پر خریدتے ہیں، ادویات چار گنا قیمت پر خریدتے ہیں تو ان کے دل سے حکومت کے لئے اس لئے تعریف نہیں نکل سکتی کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو چکا ہے۔

یوں بھی تمام معاشی اشاریے یہی پیغام دے رہے ہیں کہ حالات انتہائی خوفناک ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار ہی کے مطابق گذشتہ دو سالوں میں لاکھوں کی تعداد میں عوام بیروزگار ہوئے ہیں، شرح نمو محض دو سال میں 5.5 فیصد سے نیچے آ کر منفی 0.4 فیصد پر جا چکی ہے اور اس سال کے لئے بھی مختلف اداروں کی مختلف پیشن گوئیاں ہیں جن میں سے خود حکومت ہی کی سب سے بہتر ہے اور اس کے مطابق بھی شرح نمو محض 0.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ شرح نمو یعنی GDP growth کا مطلب ہی یہ ہے کہ ملک میں کل پیداوار کتنی ہو رہی ہے۔ اسی سے آپ کے ملک میں پیداوار کا پتہ چلتا ہے، پیداوار زیادہ ہوگی تو روزگار بھی زیادہ لوگوں کو ملے گا، روزگار ہوگا تو لوگ خرچ زیادہ کریں گے جس سے مزید کھپت پیدا ہوگی اور پیداوار کو بھی مہمیز ملے گا۔ لیکن جب وہی کم ہوتی چلی جا رہی ہو تو باقی تمام اشاریے تو ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ مہنگائی حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 9.02 فیصد پر پہنچ چکی ہے، آزاد ذرائع اسے کہیں زیادہ بتا رہے ہیں۔

یہ تمام حقائق ایسے ہیں کہ ان سے صرفِ نظر ممکن نہیں اور بالآخر کامران خان بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ میری خوشخبریوں سے لوگ مطمئن نہیں ہوتے، وہ سوال کرتے ہیں، مہنگائی کے بارے میں پریشان ہیں۔ حکومت کو اپوزیشن سے نہیں لیکن مہنگائی سے خطرہ ہے۔

کچھ لوگوں کے خیال میں یہ بدلتی ہواؤں کی ایک علامت ہے، کچھ کے خیال میں مہنگائی اور معاشی تنزلی نے ہی سب ہوائیں بدلی ہیں۔ مگر ایک بات طے ہے۔ اور وہ یہ کہ اب مصنوعی طریقے سے بیانیہ بنانا ممکن نہیں رہا۔ خلقِ خدا جو سوچتے ہیں، وہ سامنے آ کر رہتا ہے۔ ٹی وی کی کوئی ساکھ باقی نہیں بچی، اخبار لوگ خریدتے نہیں۔ لے دے کر ایک سوشل میڈیا ہی بچا ہے اور یہاں اطلاعات کا پھیلاؤ ایک خاص حد سے زیادہ کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ تو پھر خاطر جمع رکھیے کہ آپ کی ہمدردیاں کسی کے بھی ساتھ ہوں، مٹی کو سونا کہنے سے آپ صرف اپنی ساکھ کو ہی نقصان پہنچائیں گے، حقائق سامنے آنے سے نہیں روکے جا سکتے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *