Type to search

انسانی حقوق انصاف تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست

فوج کی سیاست میں مداخلت، جبری گمشدگیوں سمیت کوئٹہ جلسے میں اٹھائے گئے پانچ اہم ترین نکات

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے اتوار کی شام کوئٹہ میں ایک بار پھر ایک بڑا مجمع لگایا اور اس بار بھی گوجرانوالہ کی طرح پوری پی ڈی ایم قیادت، ماسوائے محسن داؤڑ کے، نے جلسے سے خطاب کیا۔ مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف ایک مرتبہ پھر خوب گرجے اور برسے۔ انہوں نے نہ صرف گوجرانوالہ میں کی گئی تقریر کے مندرجات کو دہرایا بلکہ اسے ایک قدم آگے لے جاتے ہوئے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید پر بھی بار بار سیاست میں مداخلت کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کارگل کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان کے فوجی کارگل میں پھنس چکے تھے اور ان کو نہ ہتھیار نہیں پہنچائے جا رہے تھے بلکہ خوراک تک پہنچانا ناممکن ہو چکا تھا۔ اس ناکام آپریشن کے بعد جب جنرل پرویز مشرف کو خطرہ ہوا کہ ان کے خلاف کارروائی ہوگی تو انہوں نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

تاہم، نواز شریف کی تقریر اور باقی مقررین کی تقاریر میں بنیادی فرق کوئی نہیں تھا۔ پوری پی ڈی ایم قیادت نے یک زبان ہو کر بات کی اور ہر لیڈر نے تقریر کا متن کچھ بھی ہو، اس کا پیغام چند مخصوص نکات پر ہی مرکوز رکھا۔ ان میں سے پانچ اہم ترین نکات یہ تھے:

سیاست میں مداخلت

جہاں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل فیض حمید پر سیاست میں مداخلت کا الزام لگایا، وہیں انہوں نے خصوصی طور پر کہا کہ میں نام اس لئے لے رہا ہوں تاکہ یہ تاثر نہ جائے کہ پوری فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے بلکہ یہ چند مخصوص لوگ ہیں جو اس قسم کے کاموں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی تقریر کی تو انہوں نے کوئٹہ سٹاف کالج میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی تقریر کا حوالہ دیا۔ ان کا اشارہ بھی اسی تقریر کی طرف تھا جس میں قائد اعظم نے افواج پاکستان کو یہ باور کروایا تھا کہ آپ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل تقریر کرنے آئے تو انہوں نے بھی اسی چیز کو موضوعِ بحث بنایا اور کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ نام نہ لیے جائیں۔ تمہارا نام نہ لیں کیونکہ الیکشن میں جو کچھ ہوا وہ تم نے تو نہیں کیا ہوگا نا، وہ بھی پھر ہم نے کیا ہوگا۔ ان کا اشارہ بھی فوج کی جانب سے سیاست میں مداخلت کی طرف تھا۔ بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی سمیت تمام قائدین نے ہی اس نکتے کو اپنی تقاریر میں اٹھایا اور کم از کم یہ بات تو طے ہے کہ 20 ستمبر 2020 کو پی ڈی ایم کے اجلاس میں جو فیصلے کیے گئے تھے، تاحال یہ تمام جماعتیں ان پر قائم ہیں۔

عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ سے نکالنے کا مطالبہ

وزیر اعظم عمران خان کو نکالنے کا مطالبہ بھی بار بار دہرایا گیا۔ اس جلسے میں ایک نئے بات یہ تھی کہ نواز شریف جو اس سے پہلے کی تقاریر میں عمران خان سے زیادہ وقت فوج کو ان کا پشت پناہ ثابت کرنے پر لگاتے تھے، انہوں نے اس مرتبہ عمران خان کو بھی خوب آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ تمہیں جیل میں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے ملک کی تمام برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے جہاں ’عمران خان کے لانے والوں‘ کو موردِ الزام ٹھہرایا وہیں عمران خان کو بھی خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی خاص طور پر عمران خان حکومت کو چلتا کرنے کے عزم کو دہرایا اور عمران خان سے ایک مرتبہ پھر استعفا طلب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کی تقریر جو کہ انہوں نے گلگت بلتستان سے ویڈیو لک کے ذریعے کی تھی کا محور بھی عمران خان حکومت اور اس کی گورننس کی ناکامیاں ہی رہیں۔

مہنگائی

مہنگائی نے جہاں ملک بھر میں عوام کو مشکل میں مبتلا کر رکھا ہے، تمام لیڈران نے اس کے حوالے سے حکومت پر بھرپور انداز میں تقریر کی، سبزیوں کے نرخ بھی عوام کو یاد دلائے اور عمران خان صاحب کی تقاریر بھی یاد دلائیں جن میں وہ کہا کرتے تھے کہ مہنگائی تب ہی ہوتی ہے جب حکمران کرپٹ ہوں۔

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مہنگائی کے حوالے سے تو خود حکومتی عہدیدار بھی پریشان ہیں۔ اب سے چند روز قبل شیخ رشید بھی کہہ چکے ہیں کہ مہنگائی کی وجہ سے عمران خان سے عوام ناراض ہیں۔ گذشتہ روز وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چودھری نے بھی کہا کہ عوام مہنگائی سے تنگ ہیں اور پی ڈی ایم اسے اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ خود عمران خان صاحب کہہ چکے ہیں کہ یہ واحد چیز ہے جس نے ان کی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ تاہم، ان کی یقین دہانیوں اور حکومتی وزرا کی جانب سے اظہارِ تشویش کے باوجود مہنگائی کا جن ہے کہ کسی صورت قابو نہیں آ کر دے رہا۔

جبری گمشدگیاں

بلوچستان میں لوگوں کا جبری طور پر گمشدہ کیا جانا اور مسخ شدہ لاشوں کا ملنا گذشتہ کئی سالوں سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ اس حوالے سے مختلف ادوار میں سیاستدان آواز بھی اٹھاتے رہے ہیں لیکن اتوار کو ہونے والے جلسے میں پہلی مرتبہ پنجاب کی ایک بڑی مین سٹریم جماعت کی اہم ترین رہنما مریم نواز نے کوئٹہ میں جبری طور پر گمشدہ افراد کے لواحقین کے ساتھ ملاقات کی۔ ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ پھر انہوں نے تقریر میں بھی بھرپور انداز میں اس مسئلے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بچوں اور بوڑھے ماں باپ کی صورتحال خود پر طاری کر کے دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ کس قدر تکلیف دہ ہے کہ بیوی کو یہ تک پتہ نہ ہو کہ وہ بیوی ہے یا بیوہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی بچی ان کے پاس آئی جس کے تین بھائی لاپتہ ہیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی نے بھی اس مسئلے پر بات چیت کی لیکن ایک پنجابی لیڈر کی طرف سے ایسی بات آنا ایک خوشگوار حیرت کا باعث بنا اور سوشل میڈیا پر مریم نواز کے اس عمل پر ان کی خوب تعریف بھی کی گئی۔ تبصرہ نگاروں کی جانب سے ایک پنجابی جماعت کی لیڈر کا بلوچستان کے جبری گمشدگیوں کے معاملے کو یوں اجاگر کرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم لمحہ تھا جس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔

’گستاخانہ خاکے‘

جلسے سے دو روز قبل فرانس میں شائع ہونے والے ’گستاخانہ خاکوں‘ پر بھی جلسے کے دوران بات ہوتی رہی۔ تمام سیاستدانوں نے اسے ایک عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسلام پر حملہ قرار دیا۔

تاہم، یہاں جس چیز کی کمی نظر آئی وہ پاکستان کے اندر اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ ابھی دو روز قبل ہی سندھ کے ایک مندر میں گھس کر یہاں مورتیوں کو نقصان پہنچایا گیا لیکن کسی مقرر نے بھی اس موضوع پر لب کشائی نہ کی۔ اگر آپ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر تو آواز اٹھائیں لیکن اپنے ملک میں جو کچھ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ آپ کو نظر نہ آتا ہو تو دنیا ہماری ان باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لے گی۔

پی ڈی ایم نے عوام کو درپیش زیادہ تر مسائل پر کھل کر بات کرنے کی روش اپنائی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ یہ اتحاد آنے والے دنوں اور مہینوں میں عوامی ایجنڈے کو ہی اپنا مطمع نظر بناتا ہے یا اس کے لیڈران کے بیانات اپنے ذاتی مفادات کے گرد گھومتے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *