Type to search

تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست

مسلم لیگ ’ش‘ کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو گئے، انجام ق لیگ والا ہی ہوگا

سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب جس وقت سیاسی درجہ حرارت کو بڑھانے میں محو تھے، تو بہت سے جمہور پسندوں کو لگ رہا تھا کہ شاید وہ اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ملک میں مزاحمت کا ایک نیا استعارہ بن کر ابھر رہے ہیں۔ پاکستان کی ڈرائنگ رومز اور بند کمروں، سات پردوں کے پیچھے ہوئی ملاقاتوں سے چلنے والی سیاست کو بیچ چوراہے میں لا رہے ہیں، عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں اور ان سے فیصلہ لینے پر مصر ہیں۔ سہیل وڑائچ نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ مریم نواز شریف ایک عام سی لڑکی سے اب قومی لیڈر بننے کی طرف گامزن ہیں اور ’وہ شرمیلی تھی اور اس کے آنسو اس کی ناک پر رکھے ہوتے تھے ادھر کچھ خراب ہوتا، ادھر اس کے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگتے وہی بات بات پر رو دینے والی لڑکی اب مریم نواز بن کر سٹیج پرسے سب طاقتوروں کو للکارتی ہے جیل میں دال روٹی کھاتی ہے مگر مراعات نہیں مانگتی اب اس کی آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے شعلے نکلتے ہیں جو اپنی گفتگو سے مخالفین کو بھسم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں‘۔

جذبات کی دھارا میں بہتے ہوئے شاید سہیل وڑائچ صاحب یہ بھی بھول گئے کہ وہ مسلم لیگ کی بات کر رہے ہیں۔ اس جماعت کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے، یہ مزاحمت کے لئے بنی ہی نہیں۔ 1906 میں مسلم لیگ بنانے کے وقت اس کے زعما کی طرف سے طے کیے گئے اغراض و مقاصد اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور اس کے لئے انگریزوں اور ہندوؤں کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لئے کام کرنا اس کے بنائے جانے کی اصل وجوہات تھیں۔ گذشتہ قریب سوا سو سال کی تاریخ میں اس نے کبھی مزاحمت کا رستہ نہیں اپنایا۔ قانون دیکھا، حالات دیکھے، معاملات طے کیے اور اقتدار حاصل کر لیا۔ یہی اس کی روش ہے، اور یہی اس کا خمیر۔

اس مزاحمتی تحریک کے آغاز سے ہی جہاں یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر اعتماد کر سکتی ہیں یا نہیں، مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ میں اس اتحاد کی کمان دینا درست ہوگا یا نہیں، وغیرہ۔ اور اس سب میں تجزیہ کاروں کو یہ بھی بھول گیا کہ ان جماعتوں کے اندر بھی کچھ لوگ ہیں جو ان کی حکمتِ عملی پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اور پھر سیاسی جماعتیں ہوتی ہی کیا ہیں؟ ایک جیسے خیالات رکھنے والے افراد ایک چھتری کے نیچے اکٹھے ہو جایا کرتے ہیں، اور پاکستان میں تو یہ چھتری بھی شخصیات ہی کی ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کے عوام سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ چونکہ یہ سیاسی جماعتیں عوام کو اپنی فیصلہ سازی میں شریک نہیں بناتیں، ان کی یہ مجبوری بن جاتی ہے کہ یہ چند افراد کے ہاتھوں میں جب چاہے یرغمال بن سکتی ہیں۔

اس وقت شاید مسلم لیگ نواز کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ گذشتہ کئی روز سے آکاش وانیوں کے بے تاج بادشاہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کہتے آ رہے ہیں کہ جلد مسلم لیگ ’ن‘ میں ’ش‘ نکلے گی۔ تجزیہ کاروں کا دھیان فوراً شہباز شریف کی طرف گیا لیکن ان کا نواز شریف کے خلاف بغاوت کرنا ممکن نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر انصار عباسی نے خبر دی کہ مسلم لیگ نواز کے کچھ سینیئر رہنما نیب جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کر کے آئے ہیں۔ اس ملاقات کی خواجہ آصف نے بھی تصدیق کر دی لیکن انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی ڈیل وغیرہ سے متعلق گفتگو نہیں ہوئی، صرف شہباز شریف صاحب کچھ باتیں جاننا چاہتے تھے پارٹی کے حوالے سے اور اسی سلسلے میں بات چیت کے لئے انہیں بلایا تھا۔ پھر 26 اکتوبر کی شام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے کہا کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے ہی آگے بڑھانا ہوگا۔ یہ مسلم لیگ کے کسی بھی سطح کے لیڈر کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنے کا پہلا موقع تھا۔ اس کے بعد لیکن اگلی صبح دنیا اخبار میں ایک خبر لگی کہ سینئر رہنمائوں نے پی ڈی ایم کے جلسوں اور مریم نواز کے اہم اجلاسوں میں شرکت کرنے سے بھی معذرت کر لی، ن لیگ کے سینئر رہنمائوں کے قریبی عزیز یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ گوجرانوالہ جلسے کے بعد مریم نواز کی جانب سے بلائے جانے والے اجلاس میں ان افراد میں سے کسی نے شرکت نہیں کی۔مسلم لیگ ن کے اہم ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ گوجرانوالہ جلسے کے بعد شاہد خاقان عباسی،خواجہ آصف، سعد رفیق، احسن اقبال اور دیگر شہبازشریف سے جیل میں ملاقات کر چکے ہیں، ملاقات کرنے والے سینئر لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ ملاقات میں انہوں نے شہباز شریف کو بتایا کہ ہم اس معاملے میں نوازشریف اور مریم نواز کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ شاہد خاقان عباسی نے شہباز شریف کو کہا کہ ہم آپ کے ساتھ تو چل سکتے ہیں لیکن اس طرح اداروں کے خلاف بات کرنا مناسب نہیں اس سے معاملات مزید بگڑ جائیں گے۔ ن لیگی ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس وقت شاہد خاقان، خواجہ آصف اور سعد رفیق نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ نہیں ہیں۔ وہ اہم جلسوں میں شرکت نہیں کررہے اور اب اہم اجلاسوں میں بھی نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کے کچھ قریبی حلقوں سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایسے بیانیے کو ختم کیا جائے ورنہ پارٹی کو اس سے شدید نقصان پہنچے گا۔

ان خبروں کے باوجود حسن ظن رکھنے والوں کا قیاس تھا کہ یہ خبریں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ لیکن پھر بدھ کی شام جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے ذاتی حیثیت میں پیشکش کر ڈالی کہ اداروں کے درمیان مذاکرات ہونا بہت ضروری ہے، ان مذاکرات میں ملک کے تمام اہم سٹیک ہولڈرز بیٹھ جائیں تو ہی معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اس بیان کے بعد ایک پنجابی محاورے کا استعمال شاید یہاں بالکل درست ہوگا کہ ’او پئی جے مزاحمت‘۔ ساتھ ہی ساتھ شیخ رشید کی مسلم لیگ ’ش‘ کے خدوخال بھی کچھ واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

سوال لیکن یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تجزیہ کاروں کو ان سب باتوں کا پتہ ہے تو پھر خود نواز شریف نے بھی تو شاید یہ سب سوچا ہی ہوگا۔ وہ تو بار بار 1999 کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں کہ مجھے قدم بڑھانے کا کہتے رہے اور جب میں نے قدم بڑھایا تو پیچھے کوئی تھا ہی نہیں۔ کیا اس بار بھی انہوں نے بغیر سوچے سمجھے کسی کے کہنے پر قدم بڑھا دیا ہے؟

فی الحال تو کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے۔ ان خبروں کے ساتھ ہی شنید ہے کہ ادارہ بھی اپنا چپ کا روزہ توڑنے والا ہے۔ ادارے سے متعلق ہر طرح کی خبر رکھنے والے صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ اگلے 24 سے 72 گھنٹوں کے درمیان جواب آنے والا ہے۔ ان کی خبر درست ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دوسری طرف سے بھی مسلم لیگ کے اندر یہ دراڑیں واضح ہونے کا ہی انتظار کیا جا رہا تھا۔ اب نواز شریف صاحب لندن بیٹھے کیا سوچ رہے ہوں گے، یہ تو وہی جانتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ نواز شریف اس معاملے کو سلجھا کر اپنا بیانیہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن مان لیجئے کہ وہ ناکام ہو گئے، بیانیہ واپس لے لیا۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ اگر ق لیگ بننے سے کچھ نہیں ہوا تو ش لیگ کیا کر لے گی؟ نواز شریف اور اس کی بیٹی کو کچھ عرصے کے لئے مزید باہر رکھنا اگر مقصود ہے تو یہ تو بالکل ممکن ہے۔لیکن سوال تو وہیں کا وہیں پڑا رہے گا۔ عوام سویلین بالادستی چاہتے ہیں۔ یہ طے ہے۔ اس پر بحث فضول ہے۔ چند روز اور یہ کہانی چلا بھی لی جائے تو بالآخر اقتدار تو ملک کے اصل مالکوں کے حوالے کرنا ہی ہے۔ ہنسی خوشی دے دیا جائے، یہی ملک و قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔ کیونکہ یہ بات تو گذشتہ دو سال میں واضح ہو چکی ہے کہ ن میں سے ش نکلے یا نہ نکلے، ’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *