Type to search

تجزیہ سیاست

سب بھائی ماں پر تہمتیں لگانا بند کریں

یوں تو جب سے یہ ملک بنا ہے، اس کے شہریوں کو غدار کہنے کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن گذشتہ چند روز سے جس طرح غدار بنانے کی فیکٹریاں اوور ٹائم کام کر رہی ہیں، ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ یعنی روزانہ کے حساب سے کسی نہ کسی پر غداری کا الزام لگتا ہے۔ ایک دن نواز شریف پر لگا، اگلے روز مسلم لیگ نواز عمران خان کی پرانی ویڈیوز اٹھا لائی، پھر اویس نورانی کی زبان پھسل گئی تو اس پر ہاہاکار مچ گئی۔ انہوں نے جواب دے دیا تو سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق حکومتی بنچوں سے غدار غدار کی گردان سن سن کر اتنے تنگ آئے کہ سیدھا ابھی نندن کو پاکستان سے واپس بھیجنے کے وقت جو تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس بلایا گیا تھا، اس کے اندر کی کہانی ہی بیان کر ڈالی۔ انہوں نے کیا کہا، ذرا سنیے:

اس بیان کو سن کر حکومتی وزرا بہت خوش ہوئے، کیونکہ انہیں لگا کہ یہی وہ بیان ہے کہ جس کی بنیاد پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو وطن دشمن، بھارت نواز اور غدار ثابت کیا جا سکے گا۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس کو اپنی کامیابی بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا کہ پاکستان نے ابھی نندن کو اس لئے واپس کیا کیونکہ اسے بھارت کی طرف سے حملے کا خطرہ تھا۔ یہاں وزرا نے بھارتی میڈیا کا حوالہ دے دے کر ایاز صادق پر خوب لعن طعن کی۔ یہاں تک کہ ایاز صادق کو اس بیان کی وضاحت جاری کرنا پڑ گئی۔

بیچارے ایاز صادق نے تو اپنا بیان قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت واپس لے لیا اور اسے بھارت کے بجائے اپوزیشن کا خوف بنا کر پیش کر دیا لیکن سماء ٹی وی کے پروگرام میں بیٹھے رانا ثنااللہ نے کوئی لحاظ نہ کیا اور صاف کہہ دیا کہ وہ بھی اس اجلاس میں موجود تھے اور واقعتاً شاہ محمود قریشی کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔

ابھی یہ سلسلہ کچھ تھمنے میں آتا، اس سے پہلے ہی وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی نے قومی اسمبلی میں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کے چکر میں ایک تقریر کر ڈالی اور اسی تقریر کے دوران ان سے کچھ ایسا منہ سے نکل گیا کہ جس کے لئے اردو زبان میں بڑا خوبصورت محاورہ ہے کہ اڑتا تیر بغل میں لینا۔ فواد چودھری نے کیا کہا، پہلے سن لیجئے:

اب بیچارے چودھری صاحب کہنا تو چاہ رہے تھے کہ ہم نے پلوامہ کے بعد جب بالاکوٹ پر حملہ ہوا تو پاک فضائیہ نے بھارت کے اندر ایک آپریشن کیا، ان کا پیچھا کرتا ہوا بھارتی پائلٹ پاکستان کی سرحد کے اندر داخل ہو گیا جہاں اس کا جہاز گرا کر اس کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ لیکن ان کے منہ سے نکلا کہ ہم نے پلوامہ میں گھس کے مارا۔ اس بات کا بھی بھارتی میڈیا نے ویسے ہی بتنگڑ بنایا جیسے ایاز صادق کی بات کا بنایا تھا۔ اب مسلم لیگ ن کی جانب سے فواد چودھری کے بیان پر بھارتی میڈیا کی کوریج کو بنیاد بنا کر انہیں غدار قرار دیا جانے لگا۔

معاملہ دراصل یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت، خواہ وہ فوجی ہو یا سیاسی، بھارت سے جنگ نہیں چاہتی۔ نواز شریف، بینظیر بھٹو یا عمران خان کو تو چھوڑیے، جنرل پرویز مشرف کی دوستی کی کوششوں کو بھی ایک طرف رکھ چھوڑیے، جنرل ضیاالحق بھی کبھی بھارت سے جنگ نہیں چاہتا تھا۔ لیکن جس عجلت میں ابھی نندن کو واپس بھارت بھجوایا گیا، وہ واقعی حیران کن تھا۔ کلبھوشن یادیو کو بھی پاکستان کے اداروں نے پکڑا تھا۔ یہ واقعہ 2016 مارچ کا ہے۔ وہ ابھی تک پاکستان کی ایک جیل میں موجود ہے لیکن دوسری طرف ابھی نندن کو دو دن کے اندر اندر واپس بھجوا دیا گیا۔ شاید حکومت کو واقعی جنگ کا خطرہ ہو اور وہ ایسی کسی صورتحال سے بچنے کی کوشش کر رہی ہو لیکن پھر دوسروں کو کلبھوشن کا نام نہ لینے کے طعنے دینا، غدار قرار دینا اور خود ہاتھ آئے دشمن پائلٹ کو ہاپڑ داپڑ میں واپس بھیجنا، دونوں کچھ ساتھ نہیں بیٹھتے۔ ان سب باتوں کے باوجود، سردار ایاز صادق نے قومی سلامتی کے ایک معاملے کو یوں سرِ عام موضوعِ بحث بنایا، یہ بات بہت سے حلقوں میں ناپسند کی گئی۔

گذارش یہ ہے کہ ایک دوسرے پر اس طرح کے الزامات لگا کر حکومت یا اپوزیشن کو ملتا کیا ہے؟ یہ درست ہے کہ اس کی شروعات حکومت کی طرف سے کی گئی لیکن اپوزیشن بھی اپنے دفاع میں وہی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔

اس سے پہلے بھی اسد عمر نے بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے سکرین شاٹس کے پرنٹ نکال کر پریس کانفرنس میں لہرائے تھے۔ اب بھی وہ پروین شاکر کے اشعار ٹوئیٹ کر رہے ہیں۔ لیکن عوام کو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہیں حکومت سے کارکردگی چاہیے ہوتی ہے۔ غداری کے الزامات سے نہ پہلے کبھی کسی کو کچھ ملا ہے نہ آئندہ ملے گا۔ آپ سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ یہ تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے والا شعر سنانا بند کریں، کیونکہ آپ بھائیوں کی لڑائی میں گندی ماں ہی ہو رہی ہے۔

ہمارے سیاستدانوں اور خصوصاً حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی کہ ہم بھارتی میڈیا کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ پاکستان کی سیات کو ڈکٹیٹ کرے۔ کیونکہ اگر آپ اس راہ پر چل پڑے تو پھر اس کا نشانہ آپ خود بھی بنیں گے کیونکہ زبان تو کسی کی بھی پھسل سکتی ہے۔

ذرا ہوش کے ناخن لیں۔ حکومت بچانی ہے تو اس کے لئے کارکردگی پر توجہ دینا ہوگی۔ عوام کو حب الوطنی کا لالی پاپ کسی بھی زمانے میں نہیں بیچا جا سکا، اب بھی نہیں بیچا جا سکے گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *