Type to search

تجزیہ

بحریہ ٹاؤن کراچی کی مزید توسیع۔۔۔۔۔ترقی یا تباہی؟

کیا شہرکراچی کی دیہی آبادیاِں خطرے سے دوچار ہیں؟

زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی اور ترقی شہری مراکز کی ایک اہم خصوصیت ہےکیونکہ  زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی کا گردونواح کی  زمین اور   ماحول پر براہ راست اثر پڑتا ہے اس لئے زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی کے لئے زمین کا بہترین انتخاب وہی ہے جو علاقے کے ماحول کو خراب کیے بغیر موجودہ معاشرتی ضرورت کو پورا کرتا ہو ۔مگر عام مشاہدہ ہے کہ پاکستان کے  بڑے  شہروں کی دیہی حدود میں رہائشی ترقیاتی عوامل نہ صرف مضر  ماحولیاتی اثرات کے حامل ہیں بلکہ معاشرتی ضروریات کے اعتبار سے دیہی غریب طبقے   کے لئے نقصان دو ہیں۔

جیسا کہ کراچی،  جو  دنیا کے سب سے تیزی سے ترقی پذیر شہری مراکز میں سے ایک ہے  لیکن اسکی  تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی  نہ صرف ماحولیاتی نظام  بلکہ  ان کے انفرادی اجزاء پر بڑھتے ہوئے دباؤ  کا باعث  ہے۔گویا یہ ترقیاتی عوامل  شہر کے معاشرتی ، معاشی ، سیاسی اور  ساتھ ساتھ ماحولیاتی صورتحال پرپوری طرح  اثرانداز ہیں۔کیونکہ  زرخیز زرعی اراضی اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو ایک تعمیر شدہ علاقے میں تبدیل کرنا منفی ماحولیاتی اثرات لاتا ہے۔

شہر کراچی میں زمین کے استعمال کی تبدیلی کو ئی انوکھی یا نئی بات تو نہیں  کیونکہ شہر کے کئی علاقوں بشمول ملیر ندی سے ملحقہ کورنگی کے علاقے سے لے کر ملیر تک ایسی مثالیں ملتی ہیں مگرجب تک  یہ واقعات چھوٹے پیمانے پر ہوتے رہے تو متاثرہ خاندان کم تھے اور نسبتا کم منفی و مضر ماحولیاتی اثرات تھے کہ 2014 میں ایک ریئل اسٹیٹ اسکیم “بحریہ ٹاؤن کراچی” کا نام ابھر کر سامنے آیاجس کی بدولت کراچی کے ضلع ملیر کے دیہی مکینوں  کی زندگیاں، گھر اور روزگار خطرے کی ذد پر آگیا کیونکہ بحریہ ٹاؤن کراچی کا مقصد شہر کراچی کے ان دیہی علاقوں میں زرخیز زرعی اراضی اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو ایک تعمیر شدہ علاقے میں تبدیل کرناٹہرا یعنی ایک ایسا شہر جس سے دیہی  کراچی کی آبادیات تبدیل ہو جائے ۔تحقیقات سے یہ بات  باآسانی ثابت ہوسکتی ہے کہ  بحریہ ٹاؤن کا بیشتر رقبہ صدیوں سے آباد گوٹھوں کے قدیمی  مکینوں کو  جبری طور پر بے دخل کر کے حاصل کیا گیا ہے-

مقامی لوگوں کے مطابق شہر کراچی کے دیہی علاقوں میں   ترقی کے نام پر ایک بہت بڑا کھیل کھیلا جارہا  ہے۔جس کو بیان کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے بتایا کہ حقیقت میں کوئی نہیں جانتا کہ  بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کی گئی زمین کا کل رقبہ کتنا ہے ؟ کیونکہ اس کا کوئی باقاعدہ نقشہ جاری نہیں کیا گیا –  زرائع کے مطابق  بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے اسکی توسیع کے نام پر کئی ہزار ایکڑ پر اپنا قبضہ جما لیا ہے  اور  حتیٰ  ایک صدی سے مقیم مقامی گوٹھوں کی زمین کو بھی بحریہ ٹاؤن اپنی   زمین قرار دے کر ان گوٹھوں کے مکینوں کو بے دخل  کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔جبکہ کراچی کے مختلف ماسٹر پلانز  کے مطابق کراچی کے آس پاس کے دیہی علاقےدہائیوں سے زراعت کے لئے مختص رہےہیں ۔

عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما اور دیہی ملیر کے نمائندے حفیظ بلوچ  کے مطابق یہ ترقی نہیں تباہی ہے یہاں مقامی لوگوں کے حقوق  کو ضبط کیا جارہا ہے اور غریبوں کے گوٹھوں کا صفایاکیا جارہا ہے مگر کوئی آواز بلند کرنے والا اور ان کو روکنے والا نہیں  اور توسیع کے نام پر  مزید ہزاروں ایکڑ  زمین پر قبضہ ان کا ہدف ہےجس سے مزید آٹھ سے نو گوٹھ یا دیہات صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔جبکہ پہلے ہی کم و بیش  45 سے زائددیہات ان کی سرگرمیوں سے متاثر ہوئے ہیں ۔لیکن چونکہ متاثرین کا تعلق انتہائی غریب طبقے  سے تھا اس لئے کوئی شنوائی  نہ ہوسکی۔

حالیہ واقعات جمعہ 2 اکتوبر 2020 سے شروع ہوئے جب ایک بار پھر   بحریہ ٹاؤن کے اہلکار سرکاری مشینری خاص کر پولیس افسران کو استعمال کرتے ہوئے زبردستی ضلع ملیر ڈیہہ لانگیجی میں واقع حاجی علی محمدگبول  گوٹھ میں داخل ہو گئے۔چادر اور چہاردیواری کا خیال تو دور کی بات بحریہ کے بلڈوزر اور دیگر بھاری مشینری کو اس بے دردی سے گاؤں پر چڑھایا گیا کہ کئی شہری زخمی ہو گئے۔ لوگوں کے جان  و مال کی پروا کئے بغیر ان  کا ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح پشتوں سے یہاں مقیم آبادی کی زمینوں پر قبضہ حاصل کیا جائے۔ جبکہ مکینوں کے مطابق پچھلے ماہ بھی بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے علی داد گبول گوٹھ سمیت دیگر دیہاتوں میں اس ہی طرح کے ہتھکنڈے اپنا کر سودیشی آبادی کو ڈرایا دھمکایا اور زدوکوب کر کے انہیں زمینوں سے بے دخل کیا تھا۔

کراچی بچاؤ تحریک کے اعلامیے کے مطابق بحریہ ٹاؤن کی جانب سے غنڈہ گردی اور قبضہ گیری کا یہ پہلا واقعہ نہیں ایک عرصے سے ملیر و گڈاپ کی سو دیشی آبادی کو ڈرا دھمکا کر زدوکوب کر کے اور تشدد کا نشانہ بنا کر اپنے ہی گاؤوں سے بے دخل کرنے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔اس سے قبل اپریل2020 میں بھی یہ بلڈر مافیا اس علاقے میں داخل ہوئی تھی اور مختلف گھروں پر نشانات لگا کر دھمکی دے گئی تھی کہ انہیں خالی کر دیا جائے کیونکہ وہ سو سال سے موجود ان گھروں کو مسمار کر کے یہاں سے سڑک نکالیں گے۔

حفیظ بلوچ نےمزید کہا کہ ہم ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں، اگر بات بقا کی ہو تو آخری دم تک لڑنا پڑتا ہے، افسوس تو اس بات کا ہے جن سے وفا کی امید ہے وہ ہمیں خاموشی سے مٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں وہ کیتے ہیں کہ اس وقت جب  میں نے ان دونوں گوٹھوں کا دورہ کیا ـتب تک علی داد گوٹھ کو چاروں طرف سے باؤنڈری میں بند کر دیا گیا تھا  اور علی محمد گبول گوٹھ کو چار دیواروں میں قید کرنے کا کام جاری تھاـ

کراچی بچاؤتحریک کے مطابق  یہ بھی تشویشناک امر ہے کہ  بحریہ ٹاؤن کیرتھر نیشنل پارک اراضی پر اپنا بحریہ گرین پروجیکٹ تعمیر کر رہا ہے جو یونیسکو کے تحت محفوظ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملیر میں بحریہ کی تجاوزات کے سبب   علاقے کی آب و ہوا اور ماحولیات کی تبدیلی کو مزید خطرہ لاحق ہو گا ۔ گوٹھ کے مکینوں کے مطابق یہ ایک مستقل عذاب ہے جس نے گڈاپ و کاٹھور کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور میڈیا ، سندھ اور وفاقی حکومتیں سب خاموش ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کا کافی علاقہ ملیر کے دیہہ لنگیجی میں آتا ہے اگر ہم  بورڈآف ریونیو سندھ کے ڈسٹرکٹ ملیر، تعلقہ گڈاپ کے دیہہ لنگیجی کا نقشہ (جو کہ 1933-1964 میں بنایا گیا)  دیکھیں تو اس میں  سات  قدیمی گوٹھوں کو واضح دیکھا جا سکتا ہے- جن میں گوٹھ گاجیان،  گوٹھ رادو جوکھیو، گوٹھ جوریو گبول، گوٹھ جمعہ خان،  گوٹھ حاجی گبول (موجودہ نام- گوٹھ حاجی علی محمد گبول)،  گوٹھ الھیار ( موجودہ نام – گوٹھ عثمان اللہ رکھیو) اور گوٹھ خدا بخش ( موجودہ نام – گوٹھ نور محمد گبول) شامل ہیں-  مقامی افراد کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے نہ  صرف ان کی زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں  ان کی زمینوں سے بے دخل کیا بلکہ  ان کے خلاف مقدمات بھی بنوائے اوریوں مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد نہ صرف بے گھر ہوئی بلکہ ان کی روزی روٹی بھی  چھن گئی جس کا انحصار ذراعت پر تھا-

یہ ایک ایسا پراجیکٹ ہے جس میں اب تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ اس کا رقبہ کتنا ہوگا؟ اس کی  ماحولیاتی اثرات سے متعلق رپورٹ کیا کہتی ہے؟ اس  پراجیکٹ کے تحت کتنی  زمین / رقبے کی توسیع کی گنجائش ہے؟  البتہ اس کا ایک حصہ  جامشورو سندھ سے جا ملا ہے-اس وقت صورتحال یہ ہے کہ  ایک جانب بحریہ ٹاؤن  توسیع کے نام پر مزید گوٹھوں کو بے دخل کر رہا ہے  تو دوسری جانب  صدیوں سے آباد خاندان پریشان ہیں کہ جائیں تو کدھر جائیں؟

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *