Type to search

تجزیہ فلم

جب سلطان راہی اور رنگیلا کا دلچسپ دنگل ہوا

رستم  زماں بھولو پہلوان بڑی بے چینی کے ساتھ سلطان راہی کا شارٹ ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے ۔ فلموں سے انہیں کوئی خاص رغبت نہیں تھی لیکن یہ دو تھا  1973 کا ۔  اِس وقت تک سلطان راہی کا چاروں طرف خوب بج رہا تھا  ۔  ایک سال پہلے ہی ان کی فلم ‘  بشیرا ’  نے تو جیسے ان کو راتوں رات ہر فلم ساز کی ضرورت بنا دیا تھا ۔ ان کے ایکشن اور ماردھاڑ دیکھنے کے لیے دور دور سے سنیما گھروں میں فلم بین آتے ۔ پروڈیوسرز  سلطان راہی  کے نام پر رقم لگانے کو تیار بیٹھے رہتے ۔ پسندیدگی کا گراف بلندی کی جانب بڑھ رہا تھا اور ان کے ادا کیے ہوئے مکالمات اور ایکشن کی دھوم مچی تھی ۔

رستم  زماں  اس بات سے واقف تھے کہ وہ ایسے اداکار سے ملاقات کے خواہش مند ہیں جو بہت سوں کا آئیڈل بنتا جارہا ہے ۔  لیکن اس وقت وہ سلطان راہی کو کسی فلم میں شامل کرنے کی آرزو لے کر نہیں آئے تھے اور ناہی خود شوبزنس کی چکا چوند دنیا میں قدم رکھنے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے بلکہ وہ تو خاص نیک مقصد کے لیے سلطان راہی کے در پر آپہنچے تھے ۔۔

ذوالقفار علی بھٹو کو حکومت سنبھالے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور ان کی قائدانہ صلاحتیوں کی پہلی آزمائش سیلاب کی صورت میں آپڑی تھی ۔  بدترین سیلاب نے گاؤں دیہات کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا تھا ۔ متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار بیٹھے تھے ۔ حکومت اس قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنے تمام تر صلاحیتوں کا استعمال کررہی تھی لیکن دریائے سندھ سے آنے والی خوفناک طغیانی نے کئی شہروں اور دیہات کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا اور حزب اختلاف نے حکومت کے خلاف مورچہ بنا رکھا تھا ۔ جس کا ماننا تھا کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ناتجربے کار افراد صرف زبانی جمع خرچ اور وعدوں کا جھانسا دے کر کام چلا رہے ہیں  ۔ بدقسمتی سے اس سیلاب نے تیار کھڑی کئی فصلوں کو بھی برباد کر کے رکھ ڈالا اور بھٹو صاحب کو معاشی میدان میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔ ایسی صورتحال میں حزب اختلاف کا یہ مطالبہ زور پکڑ گیا تھا کہ ناقص اور ناکافی حکومتی انتظامات نے جہاں متعدد افراد کی جانوں کو نقصان پہنچایا وہیں ان کی املاک کو بھی ۔ سیلاب متاثرین کی امداد اُس طرح نہیں کی جارہی جو ان کا حق تھا ۔ اس نازک اور بحرانی صورتحال میں مخیر حضرات نے بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالا ۔ قوم کے اندر متاثرین کی مدد کے لیے وہی جذبہ تھا جو دو ہزار پانچ میں آنے والے زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کے موقع پر دیکھا گیا تھا ۔

جہاں مالدار اور مخیر حضرات اپنی ذمے داری نبھا رہے تھے وہیں کھلاڑی بھی ‘ انہی میں رستم زماں بھولو پہلوان  بھی تھے ۔ جنہوں نے دیگر پہلوانوں کو اس بات پر متفق کیا کہ وہ بھی کوئی امدادی دنگل کا اہتمام کرتے ہیں ۔ مصبیت کی اس گھڑی میں اپنا قومی فریضہ سرانجام دیتے ہیں ۔ اس امدادی دنگل  سے حاصل ہونے والی آمدنی متاثرین میں تقسیم کرنے کی حکمت عملی بھی تیار کرلی گئی  ۔  پہلوانوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ کیوں ناں مہمان خصوصی کے طور پر سلطان راہی کو مدعو کیا جائے ۔ جن کی شہرت اور مقبولیت دیکھ کر تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد میدان کا رخ کرنے پر مجبور ہوجائے گی اور معقول آمدنی کا خواب بھی پورا ہوجائے گا ۔

یہی سوچ لے کر اب   رستم زماں  ’  سلطان راہی  کا انتظار کررہے تھے ۔ جو سین عکس بند کرانے کے بعد اب ان کے مقابل آ بیٹھے تھے ۔ سلطان راہی کو جب ان کی اس پیش کش کا علم ہوا تو ان کا چہرہ بھی خوشی سے کھل اٹھا  لیکن انہوں نے اس دنگل میں نیا رنگ بھرنے کے لیے یہ خیال دیا کہ کیوں ناں اس کشتی کو فلمی دنگل کا نام دیا جائے ۔ جس میں فلمی ستاروں کا اکھاڑے میں ایک دوسرے سے مقابلہ بھی کرایا جائے ۔ یہ تماشائیوں کے لیے کسی دلچسپ تجربے سے کم نہیں ہوگا ۔

پہلوان اس منفرد اور اچھوتے خیال پر جیسے اور مسرور ہوگئے ۔ جنہیں یہ جان کر اور زیادہ خوشی ہوئی کہ اس فلمی دنگل میں سلطان راہی ، سدھیر اور الیاس کاشمیری کے ساتھ ساتھ ہنسی کے فوارے چھوڑنے والے رنگیلا کو بھی اکھاڑے میں اتار ا جائے گا ۔ رستم زماں تو  ایک چمکتے دمکتے ستارے کو مہمان بنانے کے لیے آئے تھے اور اب انہیں تین اور اداکاروں کی شمولیت کی خوش خبری مل رہی تھی ۔ سلطان راہی نے پیش کش کی کہ ان کی کشتی کسی اورسے  نہیں رنگیلا سے کرائی جائے کیونکہ اس اوٹ پٹانگ دنگل کو دیکھنے  کے لیے تو ضرور تماشائی سب کام کاج چھوڑ دیں گے ۔

اس منفرد اور عجیب  و غریب کشتی کی اب تیاریاں شروع ہونے لگیں ۔۔۔ 12 ستمبر 1973 کو اس دنگل کے لیے کراچی کے ہاکی اسٹیڈیم کا انتخاب کیا گیا ۔ جس میں نامی گرامی پہلوانوں کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے پہلوانوں کو بھی موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس کشتی کو ‘  فلمی دنگل ’  کا ہی نام دیا گیا ۔ جس کے پوسٹرز شائع کیے گئے ۔ جس پر جان بوجھ کر سلطان راہی اور رنگیلا کی تصاویر لگائی گئیں ۔ اب جس نے یہ پوسٹرز دیکھے اس کا جوش و خروش عروج پر رہا ۔ اس دنگل کے لیے عوام کے لیے ٹکٹس کی تین اقسام رکھی گئیں ۔ کھڑے ہو کر دیکھنے کا ٹکٹ صرف تین روپے تھا  لیکن کوئی یہ چاہتا ہے کہ کرسی پر بیٹھ کر  نظارہ کرے تو اس  خواہش کو پورا کرنے کے لیے دس روپے کا خرچا کرنا ہوگا  ۔ اسی طرح وی آئی پی ٹکٹ پچاس روپے کا تھا کیونکہ اس کے اہل افراد صوفے پر بیٹھ کر یہ دنگل دیکھ سکتے تھے ۔ ٹکٹس کی فروخت بڑے ہوٹلز ، سنیما گھروں اور ریس کورس میں ہونے لگی ۔ دن گنے جانے لگے اس کشتی کے لیے ۔ مشاہدے میں تو یہاں تک آیا کہ  ہر کوئی اس دنگل میں دلچسپی لے رہا تھا ۔ جبھی ٹکٹس کی فروخت ہاتھوں ہاتھ ہونے لگی ۔ عوام کو اس بات میں لگاؤ تھا کہ جب اکھاڑے میں سلطان راہی اور کامیڈین رنگیلا اتریں گے تو کیا دلچسپ منظر ہوگا ۔

اور آّخر کار وہ دن بھی آگیا جب یہ عظیم الشان دنگل ہونا تھا ۔ گو کہ 12 ستمبر کو چھٹی کا دن نہیں تھا  لیک عوام کا رش قابل دید تھا ۔  بدھ کی شام ہونے والی اس کشتی میں عوام کا ایک سیلاب تھا جو امڈ آیا تھا ۔ روایتی پہلوانوں کی کشتیوں کے بعد جس دنگل کا تماشائیوں کو انتظار تھا وہ سلطان راہی اور رنگیلا کا تھا ۔ دونوں اکھاڑے میں   اترے تو تماشائیوں نے نعرے لگا کر اور سیٹیاں بجا کر آسمان سر پر اٹھا لیا ۔ اب تصور کریں کہ رنگیلا جہاں ہوں تو وہاں تو قہقہوں کا آئے گا ناں طوفان اور اکھاڑے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ اب سلطان راہی سے رنگیلا کشتی تو جیت نہیں پائے لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی عجیب و غریب اور اوٹ پٹانگ حرکتوں سے عوام خاصے محظوظ ہوئے ۔ مقررہ وقت پر یہ اکھاڑہ ختم ہوا تو میدان سے باہر نکلتے ہوئے ہر کوئی ہنستا مسکراتا نکلا ۔   ٹکٹس کی فروخت کی مد میں انتظامیہ کو خطیر رقم حاصل ہوئی ۔ جو انہوں نے سیلاب متاثرین میں جوں کی توں عطیہ کردی اور یوں ایک نیک اور فلاحی مقصد کے لیے ہونے والے دنگل نے تفریح کے ساتھ ساتھ نیک مقصد کو بھی پالیا ۔۔۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *