Type to search

تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست

مریم نواز سے بد تمیزی پر میڈیا میں آواز کیوں نہیں اٹھتی؟

پاکستانی سیاست میں بہت سی ریڈ لائنز یا سرخ لکیریں ہیں جنہیں عبور کیا جائے تو پر جل جاتے ہیں۔ کوئی بضد ہو تو پھر اسکا وجود بھی۔ ان تمام ریڈ لائنز میں بھارت سے دوستی، اقلیتوں کو حقوق، اور بیت مقتدرہ پر تنقید سمیت کسی مذہبی معاملے پر غیر مقبول یا متنازع سیاسی بیانیہ ہے۔ لیکن اس صورتحال پر پہنچنے کے لئے ایک شخص کو کافی محنت درکار ہوتی ہے اور کئی بار وارننگ پاتا ہے اور مرتے مرتے بھی کئی پڑاو ایسے در پیش ہوتے ہیں جہاں اکثر معاملہ فہم معاملے سنبھال لیتے ہیں۔ بہر حال پاکستانی سیاست میں ایک شناخت ایسی بھی ہے کہ اگر وہ آپ ہیں تو پھر آپ کو کوئی وارننگ نہیں، کوئی سمجھانے کا کشٹ نہیں اور کوئی ہتھ ہولا نہیں ملتا۔ اور وہ ہے کسی کا خاتون ہونا۔

اگر آپ خاتون ہیں اور آپ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو چیلنج بھی کر رہی ہیں تو بس پھر آپ کی خیر نہیں۔ آپ کا بیانیہ نہیں سنا جائے گا۔ آپ کے سیاسی وجود پر بات نہیں ہوگی۔ بات ہوگی تو صرف آپ کے کردار پر۔ آپ پر جنسی حملے ہوں گے۔ رکیک نعروں اور مغلظات کے گھناؤنےہتھیاروں کے ساتھ آپ کا مقابلہ ہوگا۔ اخلاق باختہ جملوں سے آپکو اور آپ کے حامیوں کو شرمندہ کیا جائے گا۔ ایسا ماحول بنایا جائے گا کہ آپ کو اپنے وجود سے ہی نفرت ہونے لگے اور آپ کے سیاسی مقاصد کہیں دور رہ جائیں۔

ساٹھ ستر سال پہلے کی بیگم رعنا لیاقت علی خان ہوں یا فاطمہ جناح جن کے مقابلے پر جماعت الااحرار ہو یا پھر ایوبی فسطائیت، وہ طاقتورںکی جانب سےفحاشہ کا لقب پاتیہیں۔ انکے بارے میں انکی کردار کشی کرتے پمفلٹ چھپتے ہیں۔تیس چالیس سال پہلے کی بے نظیر ہو جس کے مقابلے پر ضیائی مطلق العنانی کی کاسہ لیس آئی جے آئی، اپنی جعلی فحش تصاویر جہازوں سے گرتی دیکھتی ہے۔ پارلیمنٹ میں پیلی ٹیکسی کو اپنے نام سے جڑتا دیکھتی ہے۔ اسکی برطانیہ میں گزری زندگی میں غلاظت کے رنگ بھر کر پیش کیے جاتے ہیں۔

یا پھر آج کی مریم نواز ہو جس کے مقابلے میں مذہب کی دکان دونمبر انداز میں چلانے والے حکمران جماعت کے ایم این اے عامر لیاقت،وہ ٹوئٹر پر اپنی سیاسی مخالفت گری ہوئی ٹوئٹر گردی کی صورت میں دیکھتی ہے۔

الغرض، کل معاملہ یہی ہے۔ پاکستان ستر سال کا ہوا۔ کہنے کو بہت کچھ تبدیل ہوچکا۔ لیکن سیاست میں ایک خاتون کے لئے سب کچھ ادھر ہی کھڑا ہے۔ بس پمفلٹ کی جگہ ٹوئٹر نے لے لی۔ جماعت الاحرار کی جگہ عامر لیاقت نے۔ دلچسپ یہ ہوا کہ وہ جو کبھی خواتین کے مجرم ہوا کرتے تھے انکے خانوادے کو آج ایک خاتون کی پناہ ہے۔

ابھی چند ہی روز پہلے خواجہ آصف بھی محترمہ شیریں مزاری کے خلاف بولے تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ انہیں تقریر کے دوران حکومتی بنچوں کی طرف سے بار بار ٹوکا جا رہا تھا۔ ان میں مرد حضرات بھی شامل تھے اور خواتین بھی۔ شیریں مزاری بھی کوئی نکتہ اٹھانے کے لئے بے چین تھیں۔ خواجہ آصف نے لیکن بجائے ان کی بات کا جواب دینے کے، ان کی جنس پر حملہ کیا۔ بولے حکومتی بنچوں کی طرف سے آواز آتی ہے تو سمجھ نہیں آتی کہ مرد بول رہا ہے یا خاتون۔ انہوں نے کسی مرد کے بارے میں ایسی بات نہیں کی، کسی نے ٹوکا بھی تو بات کا جواب دیا، جنسی حملے نہیں کیے۔ لیکن شیریں مزاری کے لئے ان کے پاس بغیر سوچے سمجھے جواب دینے کا موقع موجود تھا، صرف ان کی جنس پر ہی تبصرہ کافی ثابت ہوا۔

تحریک انصاف کی جانب سے اس وقت مریم نواز شریف پر جس قسم کے رکیک حملے کیے جا رہے ہیں، ٹوئٹر اور فیسبک پر ذرا جا کر دیکھیے تو ان تبصروں سے ایسا تعفن اٹھ رہا ہے کہ جلا دینے کو جی چاہتا ہے۔ مریم نواز نے اپنے کزن حمزہ شہباز جنہیں وہ اپنا چھوٹا بھائی کہتی ہیں سے جا کر جیل میں ملاقات کی، انہیں گلے لگایا تو اس پر بھی لوگوں کو ان پر جنسی حملے یاد آ گئے۔ ان کے کردار پر انگلیاں اٹھائی گئیں، خود عامر لیاقت نے نامحرم کے ساتھ گلے ملنے پر انہیں دشنام کا نشانہ بنایا۔

یہ وہی عامر لیاقت ہیں جنہیں ماضی میں کسی پی ٹی آئی کے سپورٹر نے ٹوئٹر پر گالی دی تھی، تو تین دن تک ٹی وی اور سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کو لتاڑتے رہے تھے کہ میری والدہ کے خلاف انہوں نے یہ زبان استعمال کی ہے، میں انہیں بخشوں گا نہیں۔ اور اب آئے روز مریم نواز کے بارے میں گھٹیا جملے بازی کرتے پائے جاتے ہیں اور کوئی روک ٹوک تو دور کی بات، پارٹی میں شاید اس پر انہیں شاباشی دی جاتی ہو کیونکہ جس جماعت کا گورنر سندھ اس قسم کی جملے بازی کرتا رہا ہو، وہ بھی ٹوئٹر پر کھلے عام، وہاں یہ امید کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ ایک ایم این اے مریم نواز کے بارے میں یہ بیہودہ گفتگو نہیں کرے گا؟

لیکن اس سب سے اگر کوئی ایک چیز واضح ہوتی ہے تو وہ یہی ہے کہ پاکستان کی سیاست وہ جگہ ہے جہاں کوئی بھی خاتون، خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتی ہو، ان حملوں سے بچ نہیں سکتی کیونکہ یہ ایک انتہائی عورت دشمن معاشرہ ہے اور ہماری سیاسی جماعتیں نئے بولتے ہوئے آدمی کے نئے الم میں کسی صورت شریک ہونے کو تیار نہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *