Type to search

انسانی حقوق خبریں ریاستی دہشت گردی میڈیا

بلوچستان حکومت پر تنقید کرنے والے صحافی بایزید خان اغوا کے بعد پولیس حراست میں

بلوچستان کے مسائل پر چھوٹی چڑیا کے عنوان سے لکھنے والے صحافی بایزید خان کھروٹی کو جبری طور پر اغوا کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ جس کے خلاف صحافی تنظیموں اور اہل خانہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔ اس اغوا کے متعلق سردار اختر مینگل نے ٹویٹ کی تھی ۔

تاہم بلوچستان حکومت کے سپوکس پرسن لیاقت شاہوانی نے کہا تھا کہ بایزید خان کھروٹی اغوا نہیں کیا گیا بلکہ انہیں حوالہ پولیس کیا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ  ڈی جی لیویز کی ایک تقریب میں زبردستی گھس آئے تھے۔ اور جب انہیں باہر نکلنے کا کہا گیا تو انہوں نے سٹاف کے ساتھ بد تمیزی کی اور گالیاں نکالیں اس لیے ان پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اب انہیں مجسٹریٹ کے ہاں پیش کیا جائے گا۔

بایزید خان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا اور انکی حراستگی کی کوئی اطلاع نہیں کی گئی۔ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے سے قبل بھی انکے اہل خانہ کو نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں۔ اسی لئے انکے بھائی اور دوستوں نے خروٹ آباد روڈ کوئٹہ میں دھرنہ بھی دیا تھا۔ تاہم جب سوشل میڈیا پر انکی گمشدگی کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور سردار اختر مینگل نے ٹویٹ کی تب بلوچستان حکومت کے نمائندے نے بتایا کہ وہ کوئٹہ پولیس کی حراست میں ہے۔ ان کے خاندان کو نا ہی بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں اور نا ہی انہیں کوئی ایف آئی آر دکھائی گئی بلکہ پولیس نے انکی گمشدگی سے لا علمی کا اظہار کیا۔

تاہم بعد میں ان کے خلاف جو ایف آئی آر درج کی گئی اس میں ان پر کار سرکار میں مداخلت، اور سرکاری افسران کو انکے کام سے روکنے ، گمراہ کرنے اور بے عزت کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔

بایزید خان کو آج مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پیشی کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے انکا کہناتھا کہ انہیں اغوا کیا گیا لیکن بعد میں خبر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایف سے کے پروٹوکول کی فوٹیج بنا رہے تھے تو سیکورٹی اہکاروں نے انہیں روکا اور انکا موبائل چھین لیا، زد و کوب کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *