Type to search

عوام کی آواز

سرجیکل تھری والوں کی باتیں‎

’’شافع! میں تمہیں بتا رہا کہ S3 میں بڑی سختی ہے، روزانہ راؤنڈ کروانا پڑتا ہے، بیڈز بتانے ہوتے ہیں، روزانہ viva ہوتا ہے، کوئی جواب غلط ہو تو اچھی خاصی ڈانٹ پڑ جاتی ہے، کیوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے پر تلا ہوا ہے؟‘‘ میرا دوست ڈاکٹر مخدوم مجھے سمجھا رہا تھا، لیکن میں فیصلہ کر چکا تھا، کہ سرجری کی روٹیشن کرنی ہے تو صرف S3 ہی کرنی ہے، اور کسی یونٹ نہیں جانا۔

میں اپنی ضد کا پکا، دوستوں کے منع کرنے کے باوجود S3 آ گیا، اور یکم اگست کو یہاں joining دے دی۔ اب وارڈ میں داخل ہوا تو پتا چلا کہ دوست غلط نہیں کہتے تھے، جیسی انہوں نے منظر کشی کی، ماحول بھی ویسا تھا۔ مجھے 5 بیڈ ملے، ان 5 مریضوں کی ذمہ داری مجھ پر تھی۔

سرجیکل یونٹ 3 میں روزانہ راؤنڈ 8:25 پر شروع ہو جاتا تھا۔ آپ نے اس ڈیڈ لائن سے پہلے آ کر سارے بیڈ تیار کرنے ہوتے ہیں، کون سی دوائی کب، کیوں دی سمیت ساری باتیں پروفیسر صاحب کو بتانا ہوتی ہیں، S3 کا ایک ہی اصول تھا کہ ’مریضوں کے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں‘۔ اس اصول پر آپ نے عمل کرنا ہی ہے، اس پر کوئی کمی بیشی قابل قبول نہیں۔

آپریشن کے دن ہوتے تھے منگل اور جمعہ، تو سوموار اور جمعرات کو ٹیچنگ راؤنڈ ہوتے تھے۔ اس دن پروفیسر صاحب ہر بیڈ پر اوسط 30 منٹ لگاتے تھے، ساتھ ساتھ پڑھاتے بھی تھے، اس دن یوں لگتا تھا کہ آپ دوبارہ سالانہ امتحانات میں واپس آ گئے ہیں، اگر جواب نہ دیا تو میاں فیل کر دیے جاؤ گے، تو سب پڑھ کر آتے تھے۔

جس دن ہمارے وارڈ کی ایمرجنسی ہوتی، اس دن صحیح مزا آتا تھا، ایک بیچ ٹراما کرتا تھا جب کہ ایک minor ot جس میں آپ کو suturing سمیت چھوٹے موٹے procedures سکھائے جاتے ہیں، ہفتے میں یہ دو دن میرے پسندیدہ ہوتے تھے، کیونکہ یہاں آپ کو عملی کام کرنے کا موقع میسر ہوتا تھا۔

اس یونٹ کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے PGRS تھے، جو آپ کو ہر کام سکھاتے تھے، مجال ہے جو کبھی کسی کو غصے ہوئے ہوں، یہ لوگ ہمیں کہتے تھے کہ آپ یہ کام کریں، ہم بس آپ کو دیکھیں گے، جہاں آپ غلطی کریں گے، ہم وہاں آپ کو بتائیں گے، یہاں سے ہی آپ میں کانفیڈنس آتا ہے۔

دوستوں کی مخالفت کے باوجود بھی S3 آنا، شاید میری زندگی کا سب سے زیادہ خوبصورت فیصلہ تھا، میرے کالج کے سینئیر ڈاکٹر مبشر یہاں ہی ٹرینر تھے، انہوں نے کہا کہ تم نے ہاؤس جاب میرے پاس ہی کرنی تو میں نے کہا ایسا ہی ہو گا تو بس ایسا ہی ہوا۔

کہتے ہیں کہ جب انسان سزا کو انجوائے کرنا شروع کر دے، تو سزا سزا نہیں رہتی، جزا بن جاتی ہے، شاید میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ سر نے مجھ سے ایک مریض کے متعلق پوچھا، جو کہ مجھے نہیں معلوم تھا، اس کے بعد بھی سر نے مختلف سوال پوچھے، میں اتنا کنفیوزڈ ہو گیا تھا کہ سبھی سوالات کے غلط جوابات دیے، جب میری غلطیوں اور نالائقیوں کو برداشت کرنا مشکل ہو گیا تو سر بولے کہ میاں! جب تک سارے بیڈز یاد نہ ہوں، تب تک وارڈ سے نہیں جانا۔

یہاں سے سرجیکل یونٹ 3 سے محبت کا آغاز ہوا، تو 5 بیڈز دیکھنے والے نے اب سارے وارڈ کے مریض دیکھنے تھے، میں افسرده بھی تھا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔

میں نے بیڈز دیکھنے اور یاد کرنے شروع کر دیے، اب جو بھی پروفیسر راؤنڈ کرنے آتے، تو مجھے سب آگے پاتے، میں نے سوموار والے دن، یونٹ کے ہیڈ کو سارا راؤنڈ کروایا، کوئی 55 بیڈز میرے فنگر ٹپس پر تھے، کس مریض کو کیا مسئلہ، کون سی دوا جا رہی، کیا کھا رہا، حتیٰ کہ اس کے کتنے بچے ہیں، مجھے یہ بھی معلوم تھا، راؤنڈ کے اختتام پر سر نے مجھے شاباش دی۔

ان تین دنوں میں پورا وارڈ میرا دوست بن گیا، سب سے پکی یاری ہو گئی، ڈاکٹر مبشر نے کال کی اور بولے پریشان نہیں ہونا، ڈاکٹر حمیرا نے فون پر ہمت بندھائی، ڈاکٹر ذیشان ہاسٹل سے خصوصی طور پر ملنے آئے، ڈاکٹر ظہیر آئے اور بولے لڑکے کچھ نہیں ہوتا، ڈاکٹر بشریٰ نے مجھے ct scan دیکھنا سکھا دیا، ڈاکٹر سعد ہر وقت رابطے میں رہتے، ڈاکٹر ریحان نے ct scan کی ہر تفصیل بتا دی، ڈاکٹر اورنگ زیب شوکت تومجھے ہنساتے رہتے تھے، مرشد ڈاکٹر شاہد کہتے یار بس ٹکا رہ، ڈاکٹر افاف تو اکثر آ جاتے تھے، ڈاکٹر تارم، ڈاکٹر اقرا، ڈاکٹر عائشہ، ڈاکٹر عاقب نے بھی بہت ہمت بندھائی کہ ہو جائیں گے بیڈ تیار، میرے دوسرے سنئیر ڈاکٹر دانش تو مجھے کہتے تھے کہ پڑھ لینا، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ بھی آ جاتے تھے، یہ سب میرے سینئیر تھے، لیکن ان لوگوں نے حد سے زیادہ سپورٹ کیا۔

اوپر سے میرے بیچ میں ماریہ، فاریہ بلال تھے، یہ حد سے زیادہ cooperative تھے۔ ان لوگوں نے صحیح معنوں میں بہترین دوست ہونے کا حق نبھایا، ساتھ ساتھ عائشہ، ایمن، ماہم، ثانیہ اور عمیر کو میں کیسے بھول سکتا ہوں، اگر آپ کے کولیگز ان جیسے ہوں تو یقین مانیے آپ ہر جگہ سروائیو کر سکتے ہیں، اس ماریہ نے پہلا IM انجیکشن بھی مجھے لگایا، میں نے اسے یہ بتا دیا تھا کہ اگر میرے بازو کو کچھ ہو گیا نا تو میں نے کبھی معاف نہیں کرنا۔

سرجیکل تھری میں جو سب سے اچھی بات تھی وہ یہ تھی کہ آپ کی رائے کا احترام کیا جاتا تھا، سر ہمیں ہر تین ہفتے بعد بلاتے، فیڈ بیک پوچھتے، اور موقع پر ہی آرڈر دیتے تھے اور کام فوراً ہو جاتے تھے، میں نے دو تین دفعہ وارڈ کے کچھ مسائل کی نشاندہی کی، سر نے اس پر بھرپور ایکشن لیا۔

میں روزانہ 7:40 پر وارڈ ہوتا تھا، آپا سے کہہ کر ڈاکٹرز روم کی صفائی کرواتا، ڈسپنسر میں پانی بھرواتا، ان دو کاموں کے بعد میں بیڈز دیکھتا، سپیڈ بن چکی تھی تو میں تقریباً عورتوں کے سارے بیڈز دیکھ لیتا تھا، میں واحد ہوتا تھا جو سر کے ساتھ تقریباً سارا راؤنڈ کروا دیتا تھا، آخری دنوں میں تو یہ ہو گیا تھا، جیسے ہی کوئی مریض ایمرجنسی آتا، میں اورنگ شوکت بھائی کو کہتا کہ یہ اس مرض میں مبتلا ہے، اور وہ ٹھیک بھی ہوتا تھا، وہ اس بات کو بڑا انجوائے کرتے تھے۔

ایمرجنسی میں ہم سب اکھٹے کھانا کھاتے تھے۔ میں اور ڈاکٹر شاہد کھانے کا انتظام کرتے، اور انتظام ایسا کہ سب حیران رہ جاتے۔ جب میں نے اپنی پہلی appendectomy کی، تو ہم نے لنچ میں بریانی کی دیگ منگوائی، سب نے جی بھر کر کھائی، کھانے کے بعد چائے لازمی ہوتی تھی اور ڈھیر ساری باتیں۔

ڈاکٹر ظہیر کہتے تھے کہ یہاں کے MS لگ جاؤ۔ ڈاکٹر ریحان اور ڈاکٹر ذیشان کے ساتھ ڈائننگ روم میں جو شغل لگتا تھا کہ بس خدا کی پناہ۔ ڈاکٹر بشریٰ کشف جب بھی آپریشن کے لئے واش اپ ہوتیں، میں ان کا پکا اسسنٹ ہوتا تھا، میں S3 کے سبھی کنسلٹنٹس کے ساتھ ot میں واش اپ ہو جاتا تھا، ڈاکٹر طاہر تو پوری artery کا کورس دکھا دیا کرتے تھے، ڈاکٹر زاہد امتیاز ڈوگر نے مجھے continuous suturing سکھائی، میں سر کے ساتھ جب بھی واش اپ ہوا، مجھے ہر دفعہ نئی چیز سیکھنے کو ملی۔

سرجیکل یونٹ 3 کی سب سے اچھی خصوصیت، اس کے ہیڈ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال تھے۔ سر روزانہ راؤنڈ کرتے تھے، آتے ہی ہمیں کہتے کہ وبا کے دن ہیں جلد از جلد ماسک پہنو، گلوز پہنو، مریضوں کے معاملے میں سر کی زیرو tolerance پالیسی تھی، وہ ہمیں ہمیشہ یہی سمجھاتے تھے کہ آپ مریضوں کو ایسے ٹریٹ کریں جسیے آپ اپنے گھر والوں کو ٹریٹ کرتے ہیں، سر ہماری ہر بات مانتے تھے، خواہ وہ کرونا کے متعلق پالیسی میٹنگ ہو یا ٹور کی، سر ہماری رائے کا بہت احترام کرتے تھے، سر کی جو خصوصیت سب سے ممتاز تھی وہ ہم جونیئر ڈاکٹرز سے کہتے تھے کہ اپنا بیڈ بتاؤ، اس سے ہمارے اندر کانفیڈنس آتا تھا۔ جب بھی ہم میں سے کوئی اچھی presentation دیتا، سر حوصلہ افزائی کے لئے انعام ضرور دیتے تھے۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ ہم ایمرجنسی میں کرونا SOPs فالو کر رہے ہیں، سر رات کے دو بجے ایمرجنسی بھی آ جاتے تھے۔ رات کے 12:15 بجے تھے، میں تھوڑی بریک لے کر سونے آیا تھا، ابھی لیٹا ہی تھا کہ سر ڈاکٹر روم میں آ گئے۔ سر بولے، شافع ابھی سے سو گئے ہو، میں نے کہا سر تھکاوٹ بہت ہے، سر مسکرا کر بولے، اچھا پھر سکون سے سو جائیں۔

ہم نے سر سے کہا کہ ہم S3 چھوڑ کر جا رہے ہیں، ہمیں فئیرویل دیں، سر نے ڈاکٹر عبداللہ بن سعید سے کہہ کر ارینج کروایا، خود آئے، ہمارے ساتھ تصاویر لیں، ہمیں ڈھیر ساری نصیحتیں کیں، میری نظم بھی سنی اور شاباش بھی دی۔

ڈاکٹر عبداللہ بن سعید ہمارے ایڈمن رجسٹرار تھے، سر بھی ہماری ہر بات مان لیتے تھے، اگر پروفیسر صاحب سے ٹور کی بات کرنا ہوتی تو ہم ڈاکٹر عبداللہ کے ذریعے ہی بات کرتے تھے۔ ہر دن راؤنڈ کے بعد ہم ٹی میس جاتے، پورا وارڈ وہاں چائے پیتا تھا۔

کہنے کو تو سرجری ختم ہو گئی ہے، لیکن دل ابھی S3 میں ہی ہے۔ ڈاکٹر ظہیر، ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر کشف، ڈاکٹر اقرا، ڈاکٹر افاف، ڈاکٹر اورنگزیب کہتے ہیں کہ واپس آ جاؤ، دل تو میرا بھی بہت کرتا کہ اڑ کر واپس چلا جاؤں، لیکن جا نہیں سکتا۔

بس خوشیوں کا یہی مسئلہ ہے، کہ ان کے گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے۔ S3 کے تین مہینے تو پلک جھپکتے ہی گزر گئے۔ اب میڈیسن ہے، لیکن دل تو وہی انکل اخلاق والی چائے پر اٹکا ہوا ہے۔ سرجیکل 3 یاد آتا ہے اور بے انتہا یاد آتا ہے۔ شاید یہی زندگی ہے کہ آپ کو بس چلتے ہی رہنا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *