Type to search

فلم فیچر

جب موسیقار جوڑی ندیم شرون کو ہزاروں فلمی شخصیات کے سامنے چربہ سازی کا طعنہ ملا

اسٹیج سے جب ندیم شرون کا نام پکارا گیا تو موسیقار جوڑی انتہائی پرمسرت انداز میں خود اعتمادی کے ساتھ نشست سے اٹھی  اور اب اُس مقام کی جانب بڑھنے لگی  جہاں اُنہیں  فلم فئیر ایوارڈ تھمایا جاتا ۔ دونوں کے چہرے پر خوشی کا عالم تھا   اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہ ان کا مسلسل دوسری بار بہترین موسیقار کے لیے  فلم فئیر ایوارڈ جو تھا ۔ گزشتہ سال ہی انہیں میوزیکل رومنٹک فلم ’ عاشقی ‘ کے مدھر اور رسیلے گیت ترتیب دینے پر پہلی بار فلم فئیر ایوارڈ ملا تھا ۔ جس نے گمنامی اور جدوجہد کے اندھیروں میں گم ندیم شرون کو پلک جھپکتے ہی صف اول کا موسیقار بنادیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس جوڑی پر فلموں کی تو سمجھیں جیسے برسات ہوگئی ۔ کام اتنا مل رہا تھا کہ کئی پروڈیوسرز کو ندیم شرون کی جوڑی معذرت کرلیتی اور پھر جب 1991 آیا تو ان کی جن فلموں کے گانے زبان زد عام ہوئے ۔ ان میں سڑک ‘ ساجن ‘  پھول اور کانٹے اور دل ہے کہ مانتا نہیں نے اس جوڑی کو کامیاب ترین موسیقار کا درجہ دے دیا تھا ۔ ندیم شرون دھیرے دھیرے اسٹیج کی جانب آرہے تھے ۔ جبکہ فلم فئیر ایوارڈ کی تقریب میں اُس سال کی ان کی  فلموں  کے مشہور گیت گونج رہے تھے ۔ ان میں ’ سڑک ’ کا ‘  تمہیں اپنا بنانے کی قسم کھائی ہے بھی کانوں میں جیسے رس گھول رہا تھا ۔

برسوں سے فلم نگری سے جڑے تجربہ کار اور سنئیر موسیقاروں کی موجودگی میں  ندیم شرون کی بہت بڑی کامیابی ہی تھی انہوں نے مسلسل جدوجہد کے بعد بلند مقام پالیا تھا  ۔ جس پر وہ فخریہ انداز میں بسا اوقات دوسرے موسیقاروں پر جملوں کی چوٹ لگانے سے بھی بازنہ آتے ۔ الزام تو یہ بھی لگتا رہا ہے کہ دونوں موسیقار بڑے دھڑلے اور ڈھٹائی کے ساتھ  پرانے پاکستانی گانوں اور انگریزی دھنوں  پر کمال مہارت سے ہاتھ صاف کرکے کبھی من و عن تو کبھی تھوڑی تبدیلی کے ساتھ اپنی دھن ہونے کا دعویٰ کرتے  ۔ اس ساری کارستانی میں نغمہ نگار سمیر کی  اس جوڑی کو بھرپور رہنمائی ملتی  ۔ درحقیقت اس تکون نے  دیکھا جائے تو نوے کی دہائی میں بالی وڈ پر حکمرانی ہی کی ۔ نغمہ نگار سمیر ‘ انجان کے صاحبزادے ہیں بیٹے کے برعکس انجان نے کم لیکن معیاری گیت لکھے ۔ خیر بولوں کی چوری پر سمیر بھی کئی بار ہدف تنقید بن چکے ہیں ۔

فلم فئیر ایوارڈ تقریب میں تالیوں کا شور بھی تھا ۔ 1992 میں ہونے والے ان ایوارڈز میں ندیم شرون کی جوڑی دو فلموں ’ ساجن ‘ اور ’ پھول اور کانٹے ‘  کے لیے نامزد ہوئی تھی ۔ جبکہ ان کے مقابلے میں لمحے کے لیے شیو ہری ‘  لیکن کے لیے ہردیانتھ منگیشکر اور سوداگر کے لیے لکشمی کانت پیارے لال نامزد ہوئے تھے ۔ لیکن اسٹیج پرموجود پاکستانی اداکارہ زیبا بختیار نے حقدار کا لفافہ کھولا تو اس میں ندیم شرون کو’ ساجن ‘  کے لیے چنا گیا تھا اور جو  اب کم و بیش اسٹیج پر ہاتھ ہلاتے ہوئے پہنچ گئے تھے ۔ وہ تو اس بات پر بھی خاصے مسرور تھے کہ بہترین مرد اور خاتون پلے بیک سنگرز کے لیے کمار سانو اور انورادھا پوڈیل کو جو ایوارڈز ملے وہ بھی ان کے ترتیب دیے ہوئے گانے ہی تھے ۔

تالیوں کے شور میں ’ سڑک ‘  کا گیت  ’ تمہیں اپنا بنانے کی قسم ‘ ختم کیا گیا تو ’  حنا ‘  سے بالی وڈ میں قدم رکھنے والی خوبرو اور پرکشش پاکستانی فنکارہ زیبا بختیار نے ایوارڈ دینے سے پہلے کہنا شروع کیا کہ ’ کیا خوبصورت اور مدھر گیت تمہیں اپنا بنانے کی قسم کھائی ہے  آپ دونوں نے ترتیب دیا ہے ۔ ہم نے  یہ گانا تو  1983 میں پاکستان کی گلیوں میں سنا تھا اور اب یہ بالی وڈ فلم میں سنا تو اچھا لگا ۔‘

زیبا نے یقینی طور پر کوئی طنز نہیں کیا تھا بلکہ ایسے ہی تذکرہ کیا تھا ۔ لیکن ندیم شرون اسے طنز سمجھ بیٹھے ۔ ادھر ہال میں موجود فلمی شخصیات بھی ان جملوں سے خوب محظوظ ہوئے ۔ ایسی صورتحال میں ندیم شرون  کے چہرے پر ناگواری اور ناپسندیدگی کے آثار نمایاں ہونے لگے ۔ کیونکہ یہ ان کی دکھتی رگ تھی جس پر زیبا نے ہاتھ رکھ دیا تھا ۔ ’ سڑک ‘  کایہ گیت دراصل پاکستانی گلوکارہ مسرت نذیر کے گانے ’  چلیں کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ‘  کی دھن پر تیار ہوا تھا ۔ ندیم شرون دونوں ہی یہ جان چکے تھے کہ زیبا بختیار نے جتادیا ہے کہ وہ چربہ ساز موسیقار ہیں ۔ ایوارڈ حاصل کرنے کی ساری خوشی تو جیسے دونوں سے کوسوں دور چلی گئی تھی ۔ جنہوں نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ ایوارڈ تو وصول کرلیا لیکن زیبا کے ہاتھوں ہونے والی اس ’عزت افزائی ‘ کو دل کا روگ بنا کر بیٹھ گئے ۔

کہا جاتا ہے کہ ندیم شرون نے ایوارڈ تقریب میں ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ کسی ایسی فلم کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں زیبا بختیار ہوں گی ۔ یہ اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ ’ حنا ‘  کے بعد زیبا نے کوئی تین سال بعد ’  محبت کی آرزو ‘  میں کام کیا ‘ جس کے موسیقار  لکشمی کانت پیارے لال تھے اور اس تخلیق کے بعد ’ اسٹنٹ مین ‘  میں وہ جیکی شروف کی ہیروئن بنیں ۔ اب دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کے موسیقی کے حقوق آنجہانی گلشن کمار کی کمپنی نے حاصل کیے اور ایک معاہدے کے تحت ندیم شرون پابند تھے کہ وہ گلشن کمار کی حاصل شدہ فلموں کی موسیقی ترتیب دیں گے ۔ یہی وجہ تھی کہ خود پر نقال ہونے کا الزام سہنے کے باوجود ندیم شرون کو بحالت مجبوری زیبا بختیار کی اس فلم کی موسیقی دینی پڑ گئی ۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *