Type to search

فلم فيچرڈ فیچر

جب سلمیٰ آغا کے کریئر میں میوزیکل پاپ بینڈ ’اِبا‘ نے اہم کردار ادا کیا

یہ 1975 کے آس پاس کی بات ہے کہ دنیا بھر میں سوئیڈش میوزیکل پاپ بینڈ ’اِبا‘ کا ڈنکا بج رہا تھا۔ گروپ کے گانے ماما میا، ڈانسنگ کوئن، ہنی ہنی، چک چیتا، منی منی اور گمی گمی تو انگریزی گیت سمجھنے اور سننے والوں کی زبان پر تھے۔ نوجوان نسل چاہے اس کا تعلق دنیا کے کسی بھی کونے سے ہو، وہ ان گانوں کو اپنے جذبات اور احساسات کی بہترین ترجمانی تصور کرتے۔

بھارتی موسیقار جو غیر ملکی دھنوں پر خاص طور پر ہاتھ صاف کرتے، انہوں نے بھی ’اِبا‘ کے گانوں کی دھنوں کو تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ دیسی انداز میں خوب پیش کیا لیکن سلمیٰ آغا ان سب پر بازی لے گئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب سلمیٰ آغا نے بھارتی فلم ’نکاح‘ میں بھی کام نہیں کیا تھا۔ سلمیٰ آغا کی شناخت ماضی کی مشہور مغینہ زرینہ آغا کی بیٹی کے طور پر ہی تھی۔ لندن میں رہائش پذیر تھیں اور سلمیٰ آغا والدہ کی طرح گلوکاری کے میدان میں اپنا نام چمکانے کی جستجو میں تھیں۔ دو آڈیو البمز آ چکے تھے لیکن بس اوسط درجے کی پذیرائی ملی تھی۔

اب ایسے میں برٹش ایشین میوزک کمپنی کے پران گوئل کو سوجھا ایک ہٹ کر خیال۔ انہوں نے میوزیکل پاپ بینڈ ’اِبا‘ کے گانوں کو دیسی انداز میں پیش کرنے کی ٹھان لی۔ اس مقصد کے لئے سب سے پہلے انہوں نے اس گروپ کے میوزیکل رائٹس حاصل کیے اور پھر رابطہ کیا بھارتی پروڈیوسر اور نغمہ نگار امیت کھنہ سے کہ وہ ان دھنوں پر ہندی زبان میں بول لکھیں۔ اب یہاں سے امیت کھنہ کی تلاش شروع ہوئی ایسے گلوکاروں کی جو ’اِبا‘ کے ان گیتوں کو دیسی انداز میں گنگنائیں تو سننے والوں کو بھی مزا آئے۔ کوشش بس یہ تھی کہ گلوکاری میں ویسٹرن انداز نمایاں رہے۔

امیت کھنہ کے ذہن میں سلمیٰ آغا اور ان کی بہن سبینا آغا کا خیال آیا۔ سلمیٰ آغا کے ساتھ وہ پہلے بھی برطانیہ میں ریکارڈنگ کر چکے تھے۔ ان کے سامنے یہ آئیڈیا پیش کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ تو خود ’اِبا‘ کی پرستار ہیں اور اپنے لئے اعزاز سمجھ رہی تھیں کہ ان کے گانوں کو اب دیسی رخ میں ڈھالا جا رہا ہے۔ اس میوزیکل پروجیکٹ کے لئے پیٹر موس کی خدمات حاصل کی گئیں۔ پیٹر موس برطانیہ میں ایشیائی کمیونٹی میں خاصے مقبول تھے۔ جنہوں نے پھر سلمیٰ آغا اور سبینا کے ساتھ مل کر ریہرسل کرانا شروع کر دی۔

دن و رات کی محنت کے بعد آخرکار1981 میں یہ میوزیکل البم جسے ’سلمیٰ اینڈ سبینا اِبا ہندی ہٹس‘ کا نام دیا گیا۔ مارکیٹ میں پیش کر دیا گیا۔ البم میں کل آٹھ گیت تھے اور یہ سارے ’اِبا‘ کے مشہور گیتوں کی دھنوں پر تیار ہوئے۔

’ڈانسنگ کوئن‘ بن گیا میٹھا مزے دار، ماما میا نے دھارا روپ توبہ توبہ کا تو ہنی ہنی کو شکل دی گئی کبھی کبھی کی اور ایسے ہی کچھ اور گیتوں کے ساتھ بھی ہوا۔ سننے والوں کے لئے یہ تجربہ خاصہ خوشگوار رہا۔ بالخصوص اُن افراد کے لئے جو انگریزی بول گنگنا نہیں سکتے تھے۔ اب سلمیٰ اور سبینا کے اس البم کی وجہ سے دیسی لفظوں میں پیار و محبت کی کیفیت کو بیان کر رہے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سلمیٰ اور سبینا آغا کی تصویر سے آراستہ یہ میوزیکل البم ہاتھوں ہاتھ فروخت ہونے لگی۔ پسندیدگی کا گراف بلندی کی جانب سفر کررہا تھا۔ مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ امین سیانی کے درجہ بندی کے پروگرام میں اس کا کوئی نہ کوئی گیت ضرور کسی نمبر پر ہوتا۔

یہ اعزازہی کہا جاسکتا ہے کہ اس پروگرام میں کسی غیر فلمی گیت کو اس قدر پذیرائی ملی ہو۔ اس البم کی کامیابی نے ہی سلمیٰ آغا کے لئے بالی وڈ کے دروازے کھول دیے۔ اگلے ہی برس ہدایتکار بی آر چوپڑہ کی ’نکاح‘ نے بھارت میں تہلکہ مچا دیا۔ اس فلم کے لئے سلمیٰ آغا کو بہترین گلوکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ جب کہ ان کی نامزدگی تو اداکارہ کی کیٹیگری کے لئے بھی ہوئی۔ سلمیٰ آغا کے لئے درحقیقت ’اِبا‘ کا یہ دیسی ورژن کامیابی کی سیڑھی ثابت ہوا۔ جس نے انہیں بالی وڈ تک پہنچا دیا تھا۔ یہ بھی حسین اتفاق ہے کہ ’اِبا‘ کے گیتوں کو دیسی انداز میں گانے اور ان سے شہرت سمیٹنے والی سلمیٰ آغا کبھی بھی چار رکنی سوئیڈش میوزیکل بینڈ سے نہ مل سکیں۔ جس نے ان کے کرئیر کو ایک نئی پہچان دی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *