Type to search

جرم خبریں قومی

چترال میں جب پوست اگتی تھی تو کوئی نشئی نہیں تھا اب پوست نہیں اگتی مگر ہر دوسرا شخص نشہ کرتا ہے

چترال میں پوست کی پیداوار سے منافع بخش کاروبار ہوا کرتا تھا۔ لیکن چرس پینے والے نہیں تھے۔ اب پیداوار نہیں ہے مانگ آسمان کو چھو رہی ہے۔ نوجوان نسلوں کی بڑی تعداد چرس کے نشے کی لت میں مبتلاء ہیں۔ نوجوانوں کی آبادی کا 70 سے 90 فیصد چرس کے صارف ہیں۔
گاؤں چوئنج سے تعلق رکھنے والے مقامی رہنما سید مولائی دین شاہ کا کہنا ہے کہ  پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں جرنیل ایوب خان کے دور تک چترال میں چرس لوگوں کا ذرائع معاش ہوا کرتا تھا۔ لوگ کاشت  کرتے تھے اور فروخت کرکے پیسہ کماتے تھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے کئے گئے وعدے کی بنیاد پر پوست کی کاشت کا خاتمہ کیا گیا تھا۔ کہ چترال کے بنیادی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائینگے۔ لیکن حکومت کا یہ وعدہ لفظوں کی حد تک رہا جو شر مندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بدلے حکومت نے ایک بجلی گھر بنا کر دیا تھا۔ یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی اپر چترال کو بھی فراہم کرنا تھا۔ کیونکہ پوست کی پیداوار اپر چترال میں زیادہ مقدار میں ہوتی تھی۔ لیکن ان کو اس میں حصہ نہیں ملا ۔ خیر بعد میں وہ بجلی گھر بھی  سیلاب کی نظر ہو گیا۔
بی بی سی کی 2016 کے  رپورٹ کے مطابق اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر اُسامہ وڑائچ مرحوم کا کہنا تھا۔ کہ حکومت نے حالیہ بجٹ میں اس کی تعمیرِ نو کے لیے 80 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔ لیکن وہ ابھی تک جوں کا توں پڑا ہے۔ 
لاسپور چترال سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی باشندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ چرس کی نشے میں لت ہمارے نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے۔ پہلے ہمارے معشیت کا دارومدار پوست کی کاشت پر تھا اور کوئی چرس پینے والا نہیں تھا۔ اب ہم لوگ کاشت نہیں کرتے لیکن نوے فیصد نوجوان اس لت میں مبتلا ہیں۔ کچھ افراد تو مکمل طور پر مفلوج ہو چکے ہیں علاج کی ضرورت ہے۔
انہوں نے الزام لگایا ایسے کام پولیس کی مدد کے بعیر ممکن نہیں۔ پولیس میں بیٹھے ان کالے بھڑیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ یہ ہمارے لئے انتہائی تباہ کُن ہے۔
مقامی صارف نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ چرس چترال میں ہر جگہ دستیاب ہے۔ مقامی سطح پر کم اور باہر سے زیادہ مقدار میں آتا ہے۔
ایک اور مقامی صارف کا کہنا ہے۔ مقامی سطح پر چرس زیادہ مقدار میں دستیاب نہیں اور  مقامی سطح پر دستیاب شدہ چرس میعاری نہیں ہوتی۔ وادی تیرہ وغیرہ سے جو چرس آتا ہے وہ میعاری ہوتا ہے۔ اور وہ چرس اپر چترال میں 500 روپے میں پانچ سگریٹ اور لوئیر چترال میں 500 روپے کا آٹھ سگریٹ بھر جاتا ہے۔ گرمی کے موسم میں چرس مہینگا ہوتا ہے۔ 500 روپے کا پانچ سگریٹ کے بجائے تین سگریٹ بھر جاتا ہے۔ اپر چترال میں چرس کے اتنے بڑے ڈیلر نہیں ہیں جتنے لوئیر چترال میں۔ اور پولیس کو ٹھکانوں کے بارے میں پتہ ہوتا ہے۔ بڑے ڈیلر سے اگر آپ چرس خرید رہے ہو آپ محفوظ ہو اگر آپ نے چھوٹے ڈیلر سے چرس لی ہے پھر پولیس آپ کو پکڑ سکتی ہے۔ 
اپر چترال میں باہر سے کوئی چرس لے لیکر آتا ہے تمام صارفین کو مطلع کرتا ہے۔ اور لانے والا سرکاری ملازم بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے وہ خود ڈیل نہیں کرتا چرس کی ڈیل چھوٹے چھوٹے لڑکوں کے زرئعے انجام پاتی ہے۔ وہ پیسے لیکر چرس صارف تک پہنچا دیتے ہیں۔
اور ان لڑکوں کا اپنا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے۔ نوجوان نسل کا 70 سے 80 فیصد چرس استعمال کرتے ہیں، کچھ کے پاس کام بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے یا وہ گھر کا کوئی سامان فروخت کرکے نشہ پورا کرتے ہیں۔ یا تو چرس کے ایک دو سگریٹ کے لئے مفت میں کام کرتے ہیں۔ یا تو گھر والوں کو جھوٹ بول کر نشے کے لئے پیسے لیتے ہیں۔
پروفیسر ظہورالحق دانش کا کہنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چترال میں چرس دستیاب نہیں ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ ہم عفلت میں مبتلاء ہیں۔ ہمیں یہ نہیں پتہ کہ نوجوان نسل غلط راستے پہ جا رہی ہے۔ پہلے چترال میں پوست کاشت ہوتی تھی۔ اور لوگ چرس فروخت کرکے پیسے کماتے تھے۔ اور لوگوں کو پتہ تھا۔ مارکیٹ میں چرس موجود ہے۔  اور اپنے بچوں کو کیسی تربیت دینی ہے۔ تاکہ وہ اس نشے میں مبتلاء نہ ہو۔ اس لئے چرس کی پیداوار کے باوجود چرسی ناپید تھے۔ اب حالات اس کے برعکس ہے۔
اُس کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کو اس بارے میں سب پتہ ہے۔ مقامی پولیس چرس پینے والوں کو پکڑتی ہے اور بڑے ڈیلرز پہ ہاتھ نہیں ڈالتی۔
ڈی پی او اپر چترال ذوالفقار علی تنولی کہتے ہیں کہ چترال میں پوست کی کاشت کم مقدار میں ہوتی ہے۔ اس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ لیکن چرس جس مقدار میں استعمال ہوتی ہے یہ بہت خوفناک ہے۔
اور پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا۔ ہمیں شکایتیں مل رہی ہیں۔ کہ پولیس کے اندر بھی کچھ لوگ غیر قانونی کام میں ملوث  ہیں۔ لیکن ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے ہم نے ٹیم تشکیل دی ہے۔
ڈی پی او لوئیر عبدلحئی خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی  تاہم کامیابی نہیں ہوئی۔
Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *