Type to search

تجزیہ سیاست

اسحاق ڈار انٹرویو میں گھبرائے تھے تو کچھ باعثِ گھبراہٹ بھی تھا

اسحاق ڈار مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ٹیم کے اہم ترین کھلاڑی بھی تھے جنہوں نے چار سال تک نواز لیگی حکومت کو بطور وزیرِ خزانہ سنبھالے رکھا اور ان کے مخالفین بھی یہ کہنے پر مجبور تھے کہ اسحاق ڈار ہی دراصل وہ شخص ہیں جن کی کارکردگی نے نواز شریف کو دلیرانہ فیصلے لینے کا حوصلہ دیا۔ اپنے دورِ وزارت میں اسحاق ڈار آئے روز پریس کانفرنسز کیا کرتے تھے، ٹی وی انٹرویوز میں بھی جلوہ گر ہوتے رہتے تھے، اور ان کو پاکستانی معیشت سے متعلق تمام اشاریے ازبر ہوا کرتے تھے۔

تاہم، بی بی سی کے سٹیفن سیکر کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مکمل طور پر گھبرائے ہوئے نظر آئے اور کچھ سوالوں پر ان کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ یہ انٹرویو دینے کے فیصلے پر زیادہ خوش نہیں ہیں۔ سیکر نے جب ان سے دورانِ انٹرویو پوچھا کہ ان کی کل کتنی جائیدادیں ہیں، اسحاق ڈار نے نہ اس کا سیدھا جواب دیا اور نہ ہی جواب دینے سے انکار کیا، بلکہ کچھ ٹیڑھا میڑھا سا جواب دینے کی کوشش میں وہ بری طرح سے پھنسے ہوئے نظر آئے۔ بالآخر جو جواب ان سے بن پایا، اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ برطانیہ میں ان کے نام کوئی جائیداد نہیں، پاکستان میں ایک گھر ہے اور دبئی میں ان کے بچوں کا ایک ولا ہے۔

سیکر نے ان سے واضح سوال پوچھا تھا کہ ان کی اور ان کے خاندان کی کتنی جائیدادیں ہیں، جس کے جواب میں ابتداً اسحاق ڈار نے کہا کہ ان کی ایک جائیداد ہے، لیکن بعد ازاں انہوں نے اپنے بچوں کے ولا کا ذکر کیا تو اینکر نے انہیں یاد دلایا کہ ابھی آپ نے بتایا ہے کہ میرا تو ایک ہی گھر ہے اور وہ پاکستان میں ہے۔ اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ وہ صرف اس جائیداد کی بات کر رہے ہیں جو ان کی اپنی ملکیت میں ہیں، بچے ان پر انحصار نہیں کرتے لہٰذا ان کی جائیداد انہوں نے اپنی محنت سے بنائی ہے، وہ خود جوابدہ ہیں۔

اسی طرح انہوں نے برطانیہ میں اپنی موجودگی کی توجیہ بھی کوئی خاطر خواہ پیش نہیں کی۔ ان سے پوچھا یہ گیا تھا کہ اگر ان کی تمام جائیدادیں اور ٹیکس کے معاملات بالکل درست ہیں تو پھر وہ پاکستان جا کر ان مقدمات کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟ اسحاق ڈار نے اس پر پہلے اپنی بیماری کا تذکرہ کیا۔ اس جواب نے ایک بار پھر اینکر کی بے رحمانہ جرح کے آگے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ ان سے اگلا سوال ہی یہ ہوا کہ آپ تین سال سے یہاں ہیں، آپ کا اب تک بیماری کا علاج نہیں ہوا؟ اس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ میں واقعی بیمار ہوں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اتنے بیمار ہیں کہ آپ پاکستان جا ہی نہیں سکتے، تو اسحاق ڈار نے جواباً نیب کی پاکستان میں سیاسی اپوزیشن کے خلاف استعمال ہونے کی روش پر لیکچر دینا شروع کر دیا۔

یہاں ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ اسحاق ڈار تو کیا، اس سوال کا جواب کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ معاملہ یہ ہے کہ ڈار صاحب پاکستان سے گئے تو اسی وجہ سے ہیں کہ یہاں رہنے کی صورت میں نیب انہیں پریشان کرتی رہتی۔ مگر برطانیہ میں مقیم وہ اس بنیاد پر ہیں کہ وہ بیمار ہیں اور علاج کی غرض سے یہاں قیام پذیر ہیں۔ اب اگر ان سے سوال کیا جائے گا کہ وہ برطانیہ سے واپس اپنے ملک جا کر مقدمات کا براہ راست سامنا کیوں نہیں کرتے تو وہ سیدھا نیب کی مبینہ چیرہ دستیوں کا تذکرہ نہیں کر سکتے۔ اس کے لئے انہیں پہلے اپنی بیماری کا ذکر کرنا لازمی تھا کیونکہ قانونی طور پر وہ یہ کہنا afford ہی نہیں کر سکتے کہ وہ پاکستان اس لئے نہیں جا رہے کہ وہ نیب سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں، نہ ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں پاکستان کے نظامِ انصاف پر بھروسہ نہیں کیونکہ بالآخر امید تو انہیں اسی نظامِ انصاف سے ہے اور معاملات کبھی سدھرے تو عدالتوں کے ذریعے ہی سدھرنے ہیں۔ یوں کہا جائے کہ اسحاق ڈار یہاں ایک ایسی مصیبت میں پھنس چکے تھے جس کا ان کے پاس کوئی حل نہیں تھا تو بے جا نہ ہوگا۔

اب یہاں ایک بات جو انتہائی اہم ہے وہ یورپی یونین کی 2018 انتخابات سے متعلق رپورٹ کا ہے۔ اسحاق ڈار سے انتخابی نتائج پر اٹھائے گئے اعتراضات کے حوالے سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن مسلم لیگ نواز سے چوری کیا گیا تھا اور بہت سے اداروں نے الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے FAFEN کا خصوصی طور پر ذکر کیا، کمیشن برائے انسانی حقوق، پاکستان کی رپورٹ کا بھی تذکرہ کیا لیکن سٹیفن سیکر نے کہا کہ یورپی یونین کی رپورٹ نے پاکستان کے الیکشن کو credible یعنی معتبر قرار دیا ہے۔ اسحاق ڈار نے اس بات کو چیلنج نہیں کیا حالانکہ یہ درست نہیں تھا۔ یورپی یونین کی 91 صفحات پر مبنی رپورٹ میں credible کا لفظ ایک مرتبہ بھی استعمال نہیں ہوا۔

اس رپورٹ میں انتخابات میں بے ضابطگیوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے، الیکشن کے دوران میڈیا پر قدغنوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، پاکستانی میڈیا کے آزاد ہونے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے، خصوصاً اس رپورٹ میں RTS نظام کے بیٹھ جانے اور انتخابی نتائج کے دیر سے آنے پر لمبی گفتگو کی گئی ہے۔ جس رپورٹ کا ذکر سیکر کر رہے ہیں وہ دراصل ایک بیان تھا جو کہ EU مشن کے سربراہ مائیکل گیہلر کا ایک پریس کانفرنس میں دیا گیا بیان تھا جس کے مطابق بہت سی بے ضابطگیوں کے باوجود یہ انتخابی نتائج معتبر تھے۔ اس بیان کو بڑے اہتمام کے ساتھ تمام اخبارات میں شائع کروایا گیا۔ یہ مت پوچھیے کہ یہ اہتمام کس کی جانب سے کیا گیا۔ اسحاق ڈار صاحب نے یورپی یونین کی رپورٹ اگر پڑھی ہوتی تو وہ شاید سیکر کے اس سوال کو بہتر طریقے سے ہینڈل کر پاتے۔

سوشل میڈیا پر البتہ اس انٹرویو پر اسحاق ڈار کی ٹھیک ٹھاک کلاس ہو رہی ہے۔ صبح ہی پاکستان تحریک انصاف کے سرکاری اکاؤنٹ سے اس انٹرویو کے چند حصوں کو اردو میں subtitles کے ساتھ چلایا گیا اور جیسا کہ سوشل میڈیا کا وطیرہ ہوتا ہے کہ پھر کوئی مکمل انٹرویو کا انتظار نہیں کیا کرتا۔ سب کو فوراً اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ اسحاق ڈار کا مذاق تو خوب اڑ چکا ہے اور بی بی سی ورلڈ نیوز پر انٹرویو شائع ہونے سے پہلے ہی اس پر عوامی رائے قائم ہو چکی ہے۔ تاہم، 24 منٹ کے اس انٹرویو میں ایک، دو سوالوں کے علاوہ اسحاق ڈار نے خاصے بہتر انداز میں انٹرویو کو ہینڈل کیا۔ لیکن اس سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سوشل میڈیا پر بیانیے کی جنگ تحریک انصاف جیت چکی ہے، اور مسلم لیگ نواز کے پاس اس حوالے سے لکیر پیٹنے کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *