Type to search

بلاگ شاعری فیچر

شیراز راج: ٹھنڈا میٹھا چشمہ اور ایک جھکا ہوا درخت (2)

جہاں تان ٹوٹی تھی وہیں سے شروع کر تا ہوں….تم پر لکھا گیا میرا یہ اظہاریہ بہت پسند کیا گیا….میرے میڈیا ایڈوائزر نے چشم زدن میں کئی ایک دوستوں کو واٹس اپ کر دیا…مبارک بادیں ملیں اور تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے۔حتیٰ کہ ایک ہنگامی دانشور آپ کے انتہائی قریبی رفیق سلما ن عابد نے مجھے اور حسنین جمیل کو کاسموپولیٹن کلب لارنس گارڈن میں ووپہر کے کھانے پر مدعو کیا  ….اس سے اندازہ ہوا کہ تمہارا نام اور میرا قلم دونوں کے قدردان موجود ہیں..آؤ بھگت کر تے ہیں۔اب میں آتا ہوں اس ”آخری لائن“ پر جس پر تمہارا قصیدہ ختم کیا تھا…پہلی بات تو یہ ہے کہ خواہشوں،تمناؤں اور خوابوں کے کوئی نام نہیں ہوتے ہیں۔’دامن یوسف‘اور”زلیخاکی آہ و بُکا“ کسی سے بھی منسوب نہیں ہے۔نہ وہ کوئی عورت ہے اور نہ ہی مرد..وہ وہی ہے جو تم جانتے ہو جو میں جانتا ہو ں۔ اقبال حیدر بٹ نے بھی اپنے تحفظات کا اظہارکیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ ’آخری لائن‘ غیر مناسب ہے۔وہ ’آخری لائن‘ جس کا کبھی کبھار پریس کلب آنا ہوتا ہے اور تمہا را ذکر بھی ہو جاتا ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ اگر میں نے کبھی شیراز راج کے بار ے میں خامہ فرسائی کی تو ’وہ‘ بھی لکھوں گا، اس سے جگ ہنسائی تو نہیں ہوگی..اس نے جواب دیا۔ضرور لکھو…مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ وہ ’شرم‘ سے ڈوب نہ مر جائے آخر وہ ’مشرقی لڑکا‘ہے۔ ساری زندگی اس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہے۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیا تم نے دیکھا جو میں نے نہیں دیکھا…اس نے جواب دیا کہ یہ ماضی کا قصہ ہے اب یاد نہیں وہ کون سا موسم تھا، کیا احساس تھا.پھر اس نے گنگنایا…’میر ا کچھ سامان تمہارے پاس پرا ہے، وہ لوٹا دو…ایک سو سولہ چاند کی راتیں ایک تمہارے کاندھے کا تل’کیا ’ایک سو سولہ چاند کی راتیں ہی تھیں؟”چلو ایک سو بیس کر لو۔بمبئی بھی گئے تھے، ورلڈ فورم میں“. اس نے مسکر کر جواب دیا.
سو جگر زندگی بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتی..کچھ گرے ایریاز بھی ہوتے ہیں.برسبیل تذکرہ ’وہ لائن‘لکھ دی..تم جو سمجھے وہی لکھا ہے..اتفاق سے اسے بھی بھیجا تو اس نے ایک زوردار قہقہہ لگایا…صرف اتنی سی بات ہے…اب تمہاری یہ غزل اور وہ نظم
شب فراق ہوا دیر تک چلی ہی نہیں
مگر یہ سانس کہ چلتی ر ہی رُکی ہی نہیں
بہت عجیب تھی،سادہ تھی اور انوکھی تھی
ہماری بات کسی نے  مگر سُنی ہی نہیں
دلِ سیاہ کو ہم بھی بُرا بہت کہتے………
ہمیں تو اس سے شکایت کبھی ہوئی ہی نہیں
کنار ِ شام تری آرزو میں کھوئے گئے
ذرا جو ہوش میں آئے تو شام تھی ہی نہیں
جمالِ صبح چمن تجھ سے کیا گلہ کہ تجھے
خدائے حسن نے عمر طویل دی ہی نہیں
ابھی تلک تُو عبادت گزار ہے مرے دوست
ابھی تلک ترے دل سے ہوس گئی ہی نہیں؟
جناب راج سے اب کو ن اتنی بات کہے
کہ آج تک کوئی اچھی غزل کہی ہی نہیں
جب آپ شاعری کی سورج طلوع ہو رہا تھا تو بڑے جغادری شاعر تو عشق وانقلاب کا منجن بیچ رہے تھے..پھر آئے جدیدیے..اقبال ساجد..نذیر قیصر..اور متعدد جبکہ لسانی تشکیلات والے بھی پر تولے کھڑے تھے…مگر حضرت شیراز راج نے نہ تو فیض احمد فیض کی روایت کو اپنانا پسند کیا اور نہ ہی ظفر اقبال کے حسن و جما ل اور لفظی ہیر پھیر کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھا…وہ تو معتقد میر تھا…حیرت کی بات ہے کہ وہ فراق گورکھ پوری کے دبستان کا واحد معترف تھا جبکہ فراق صاحب کے قد کے شاعر نہ تو جوش تھے اور نہ ہی فیض و فراز….شیراز راج نے اپنے لیے ایک الگ راہ ڈھونڈی….نغمگی اس کے سخن کا جما ل تھی یہی اس کی پہچان بن گئی…
چال میں چوکٹری تھی…آنکھ میں بیگانگی تھی
ایک دن آپ کو وحشی غزال ہونا ہی تھا…
آپ انجا ن تھے اور ہم نے شہ حُسن کہا
اور دیوانوں کو تو ہم خیال ہونا ہی تھا
قتل کرنا تو کجا،آپ نے تو سوچا بھی نہ تھا
آپ جب ساتھ تھے تو یہ سوال ہونا ہی تھا
آپ کو بھول کے آباد رہے، شاد رہے
درد سینے میں مگر خال خال ہونا ہی تھا
دل نادان،تری آہ و فغاں اپنی جگہ
دل نادان تجھ پائمال ہونا ہی تھا
راج تم میر تقی میر کے خوشہ چین ہو
تمہیں مشہور بہت باکمال ہونا ہی تھا
دیکھو جان من میں کوئی جیلانی کامران یا عبادت بریلوی نہیں ہوں کہ تمہاری شاعری کے بارے میں کچھ تجزیہ کروں اور پھر میرا یہ ماننا ہے کہ حُسن پھول میں ہو،چہرے میں،کتاب یا الفاظ میں…ان کی تشریح یا تنقید ایسے ی ہے جیسے کہ ایک ہاتھ میں  آپ نشتر  لیے سرجری کر رہے ہوں اور دوسرے ہاتھ سے  مرہم لگا رہے ہوں…میں نے تو تم سے ہی بہت کچھ جانا ہے….’سیکھا ہے‘نہیں   کہا،کیونکہ اس سے میرے اپنے ’مقام و مرتبے‘ میں کمی واقع ہوجائے گی جو تمہیں کسی طور پر گوارا نہیں ہوگی اور جنوبی ایشیا کے اردو حلقوں میں ایک ’بھونچال‘ آجائے گا
میں تمہیں اگر فیض سے بڑا شاعر کہوں تو خو دتم بے ہوش ہو جاؤ گے اور مجھے سنگ زنی کا شکار ہونا پڑا گا…مجھے کوئی دنگل نہیں کرانا ہے…مجھے تو تمہاری شاعری کو گنگنانا ہے…اب یہ نظم
او ماجھی رے
او دینے کے گلزار
پودینے کی مہکار بنا
جیون سے کوئی شکوہ تو  نہیں
پر درد سے عاری
گرد سے عاری شہروں میں رہتے رہنا
اک بے طلبی سہتے رہنا
زندگی تو نہیں
او دینے کے گلزار
لاہور کے ہر بازار میں اتنی رونقیں ہیں
وہ رفعتیں ہیں
جو جھلمل کرتے فلک سے باتیں کرتے
سنگ و آتش و آہن کے ٹکڑوں میں نہیں
اس جنت ارضی کے جلوؤں میں نہیں
او دینے کے گلزار
اک کُٹیا میرا گھر بار
اک بٹیا ہے میرادیس
برسوں پہلے
مری ماں نے مجھے سے کہا تھا
بیٹا چھیاں چھیاں
اب ایک اکیلا شہر میں
آب و دانہ ڈھونڈتا ہے
آشیانہ ڈھونڈتا ہے
او دینے کے گلزار
اب ندیا کے اس پار
کس رُت کو منائیں؟
کس رات کی لہر میں ڈولیں؟
کس صبح کے نور میں چمکیں؟
کس درد کے درد سے چمکیں او دینے کے گلزار
یہ جیون کی منجھدار
او مانجھی بے پتوار
اب اپنا کنارا ندیا کی دھارا ہے
اب تمہارے اس منظوم ناول کے بارے میں بھی دو لفظ کہہ دوں..شاید یہ اردو شاعری میں واحد تجربہ ہے….مجھے یہ تمہاری’جیون کتھا‘لگتی ہے۔لاہور سے محبت ہے۔ان چہروں کی کہانی ہے جن کے درمیان تم نے’رنگولی‘ منائی تھی……یادوں باتوں اداؤں اور وفاؤں کی.ایک البم ہے۔کہیں کچھ اجنبی نہیں ہے…..”آئینے کا بھید“ کی اعلیٰ شاعری اور اس کے متن کو جس دھیان سے دیکھا اور آخری شکل دیتے ہوئے زیر زبر پیش کا خیال رکھا گیا ہے اسی قدر اس  کے  اشاعتی حُسن سے بے اعتنائی برتی گئی ہے۔اس کا ٹائٹل بے ہودہ ہے جس کا ذمہ دار شفقت اللہ تھا اور اس کتاب کا کا غذادھار اٹھایا ہوا لگتا ہے…اور پھر کسی کو کانوں کان بھی خبر نہیں ہوئی کہ شاعر شیراز راج کا یہ پہلا مجموعہ شائع ہو گیا ہے یہ اپنے دوسرے ایڈیشن کی اشاعت کا متقاضی ہے…جس میں یہ خامیاں دور ہو ں…اگرچہ تمہاری بعداازاں شاعری اور تراجم پر مشتمل مسودات بھی اشاعت کے منتظر ہیں…
بھابھی ازابیلا کو سلا م….میری بھتیجی گیتو گڑیا کو اس کے تاؤ کی ڈھیروں دعائیں جو اس کا وائلن سننے کا منتظر ہے…اور میں تمہارا بھی انتظار کر رہا ہوں کہ ایک بار پھر ہم گنگنائیں
چلا جاتا ہوں کسی کی دھن میں…دھڑکتے دل کے فسانے لئے
نیند چرا کے راتوں میں تم نے باتوں باتوں میں دیکھو بات بدل دی ہے
ایسا سماں نہ ہوتا ایسی زمیں نہ ہوتی میرے ہمدم تم جو نہ ہوتے
تُو کہاں یہ بتا اس نشیلی رات میں..مانے نہ میرا دل دیوانہ
زندگی اک سفر ہے سہانا
پنا کی تمنا ہے کہ ہیرا مجھے مل جائے
………………………………………….(ناتمام)

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *