Type to search

تجزیہ حقوقِ معذوراں

عالمی یوم برائے خصوصی افراد: ‘ہماری ریاست نے خصوصی افراد کو اس معاشرے کا حصہ باور ہی نہیں کروایا’

 

پاکستان سمیت پوری دنیا میں 03 دسمبر کو معذروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد خصوصی افراد کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنااور معاشرے میں ان افراد کی مکمل شمولیت اور افادیت پرزور ڈالا جائے۔ معذور افراد کے عالمی دن منانے کا آغاز اقوام متحدہ نے 1992میں معذور افراد کی داد رسی کے لئے کیا۔

سوال یہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے ہر سال03 دسمبر کو معذروں کا عالمی دن منانے کے باوجود بھی پاکستان کے عوام میں معذور افراد کی خصوصی ضروریات کے بارے میں تعلیم، شعور اور احساس نہ ہونے کے برابر کیوں ہے؟ کیا ہرسال صرف خانہ پوری کی جاتی ہے یا جن لوگوں کی ذمہ داری ہے وہ اس کام کو اہم سمجھتے ہی نہیں؟

1998کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں خصوصی ضروریات کے حامل افراد کی شرح 2.54% ہے جوکہ عالمی ادارصحت کے فراہم کردہ شماریاتی اعداد سے کہیں کم ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہونے والے جنگ کا حصہ ہے جس کے اثرات میں سے ایک معذور افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً پچاس لاکھ سے زائد افراد معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان اقوام متحدہ کے معاہدہ برائے معذوراں کا بھی دستخط کنندہ ہے اور پاکستان نے 1981 میں معذور افراد کی بحالی روزگاراور بہبود کیلئے ایک خصوصی قانون(روزگاروبحالی معذوراں 1981) کا اعلان بھی کیااور قانون کا مؤثر ہونا معاشی عطائے اختیار کے ساتھ جڑا ہے۔ 1983 میں پاکستان نے خصوصی ضروریات کے حامل افراد کی معاشرے میں بھرپور ومساوی شرکت کے حوالے سے انکے حقوق کوفروغ دینے کے لئے پالیسیاں اپنالی تھیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل  D-38میں لکھا ہوا ہے کہ ریاست ان تمام شہریوں کو خوراک، لباس، گھر، تعلیم، اور طبی امداد جیسی بنیادی ضروریات جنس، ذات، مسلک یانسل سے بالاتر ہوکرمہیا کرے گی جو بیماری، کمزوری یا بے روزگاری کی مستقل یا عارضی طور پر اپنی روزی نہیں کماسکتے ہوں۔ لیکن ریاست پاکستان آج تک معذور افراد کو انکے مکمل حقوق نہیں فراہم کرسکی نہ ہی معذور افراد کے حقوق کا تحفظ کرسکی۔

پچھلے کئی سالوں سے معذور افراد اپنے حق کے لئے مختلف پلیٹ فارمز پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کوئی سنوائی نہیں ہورہی، معذور افراد کی حالت جوں کی توں ہے. کیوں کہ حکومتی عہدے داران اور ریاستی اداروں کو معذور افراد کے مسائل کا علم ہی نہیں ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ریاست پاکستان آج تک ایسا ماحول بھی نہیں پیدا کرسکی جس میں معذور افراد پروان چڑھ سکیں حتٰی کہ ماں باپ بھی خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور انکو ناکارہ کے طور پر جانتے ہیں۔

اسکی شاید وجہ یہ ہے کہ ریاست پاکستان اپنی عوام کو یہ باور ہی نہیں کرواسکی کہ خصوصی ضروریات کے حامل لوگ بھی کسی سے کم نہیں۔ ان میں بھی سائنس دان، انجینئراور ڈاکٹر ہیں۔ ہم کبھی سٹیفن ہاکنگ کی مثال دیتے ہیں جو اعصابی کمزوریوں کے باوجود دنیا کے بڑے سائنسدانوں میں ہے تو کبھی ہم ٹام کروز کی مثال دیتے ہیں جو عقلی اعتبار سے معذور تھا یعنی سیکھنے کی محدور صلاحیت، لیکن پھر بھی بہت بڑا فنکار بنا۔ امر یہ ہے کہ ایسی مثالیں ہمیں پاکستان سے کیوں نہیں ملتی۔

تمام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اجتماعی نظام تعلیم(انکلوسیو ایجوکیشن) پر منتقل ہوچکے ہیں اور پاکستان آج تک اختصاصی نظام کوبھی پوری طرح لاگو نہیں کرپایا۔ جس کی وجہ سے معذور بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم کا حصہ ہی نہیں بن پاتی اور جو بچے کسی نہ کسی طرح سکول تک پہنچ جاتے ہیں ان کے لئے بھی کئی طرح کا آزمائشیں انتظار کررہی ہوتی ہیں۔ جس میں بچوں کے لئے سکولوں تک مشکل رسائی، سکول کی عمارت کا معذور دوست نہ ہونا، اساتذہ کی کمی اور اساتذہ کا تربیت یافتہ نہ ہونا شامل ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان میں معذور افراد کی خصوصی ضروریات کو تسلیم کرنے کی خاطر والدین اور دوسرے طبقات کی تربیت و نگرانی اور رہنمائی کرنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں۔

ہمارے ملک میں نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ موجود ہیں اور ان اس طبقے میں ایک بڑا حصہ ان نوجوانوں کا ہے جو خصوصی ضروریات کے حامل ہیں۔ حکومت وقت نوجوانوں کے اہمیت پر تو بہت زور دیتی ہے لیکن حکومت نے خصوصی ضروریات کے حامل نوجوانوں کے لئے ابھی تک کوئی خاطر خواہ سکیم متعارف نہیں کروائی۔ یہ حکومت بھی سابقہ حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خصوصی ضروریات کے حامل افراد کو بے یارومددگار چھوڑ چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کے ٪03 کوٹہ کو ٪05 کرے اور اس پر بھی کیری فاروڈ کی شرط لاگوکرے اور کم ازکم عوام میں اتنا شعورضرور پیدا کرے کہ وہ خصوصی افراد کے حامل افراد خود کو اس معاشرے کا حصہ اور کارآمد شہری سمجھیں اور معاشرے کے افراد چاہتے یا ناچاہتے ہوئے انکی دل آزار ی نہ کریں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *