Type to search

انصاف بڑی خبر خبریں

وزیر اعظم کو بتادیں یہاں احتساب عدالتیں کرائے کی دکانوں میں بنی ہیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

  • 15
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    15
    Shares

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے جرائم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی عملداری کہیں پر نظر نہیں آرہی ، ملک کا نظام انتہائی گہرائی تک کرپٹ ہوچکا ہے اور سفارش کلچر نے ہر چیز تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ ان مسائل کو ختم کرنے کے لئے ایک مضبوط سیاسی عزم کی ضرور ت ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ شہزاد اکبر عدالت کے احکامات پر آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کےچیف جسٹس نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ شہزاد اکبر سے پوچھا کیا آپ نے مقامی کچہری جا کر وہاں کے مسائل دیکھے ہیں ؟ آپ تصور نہیں کرسکتے کچہری میں کیا مسائل ہیں؟ عدالت نے شہزاد اکبر سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ داخلہ کے ساتھ ساتھ احتساب کے بھی مشیر ہیں ، وزیراعظم پاکستان کو بتادیں ایک دن آکر احتساب عدالتوں کی حالت زار دیکھیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ احتساب عدالت کے ججوں کے پاس بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے نہ ہی ان کے پاس عملہ پورا ہے، احتساب عدالت کے جج دن رات کام کرنے کو تیار ہیں، کام کا اتنا بوجھ ہے تو ان ججوں کو سہولیات تو دیں۔
چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ بہت شرمندگی کا مقام ہے کہ عدالتیں کرائے کی دکانوں میں بنی ہیں جبکہ ان دکانوں کے کرائے سالوں تک ادا نہیں ہوئے ہیں اور دکانوں کے مالکان عدالت پہنچ گئے ہیں۔ عدالت نے شہزاد اکبر کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ وزیراعظم کے سامنے رکھ کر عدالت کو رپورٹ دیں، عدالتوں کی تعداد میں اضافہ نہ کریں لیکن انہیں اسٹاف دے دیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *