Type to search

فيچرڈ فیچر

’خبر سے آگے‘ کے ثقافت، سیاست، سماج اور تاریخ پر عوامی انداز میں پرمغز تجزیے 2020 میں چھائے رہے

سال 2020 میں جہاں کورونا وائرس نے دنیا بھر میں آفت مچائی، وہیں اس سے سوشل میڈیا پر لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہونے کے نئے نئے طریقے بھی منظرِ عام پر آئے۔ Zoom اور Streamyard جیسے متعدد سافٹ ویئرز نے آن لائن پروڈکشن کی سمت ہی تبدیل کر کے رکھ دی۔ اسی دوران نیا دور کے سینیئر مدیروں رضا رومی اور مرتضیٰ سولنگی نے پروگرام ’خبر سے آگے‘ کا سلسلہ شروع کیا جس نے سوشل میڈیا صارفین کو بڑی تعداد میں اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف نیا دور نے اپنے ناظرین کو سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کی باریکیوں کو سمجھانے کے لئے ماہرین کو مدعو کیا بلکہ ملک میں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ایسی شخصیات کو بھی دعوت دی جنہوں نے کھل کر سیاسی و عوامی مسائل پر گفتگو کی اور اس ضمن میں سامنے آنے والے چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔ ان میں سے چند قارئین اور ناظرین کے پیشِ خدمت ہیں۔

1) ایک ترقی پسند پاکستان کی طرف پیش قدمی

14 اگست 2020 کو پیش کیے جانے والے اس پروگرام میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی، ندیم فاروق پراچہ، عافیہ ضیا اور عنبر رحیم شمسی نے شرکت کی اور ایک ترقی پسند پاکستان کی طرف پیش قدمی کا راستہ بتانے کی کوشش کی۔ ندیم فاروق پراچہ نے ملکی تاریخ پر روشنی ڈالی، ڈاکٹر ہودبھائی نے سماجی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ان کے حل پیش کرنے کی سعی کی، عنبر رحیم شمسی نے بطور ایک خاتون صحافی کے آزادی صحافت کے حوالے سے بات کی جب کہ عافیہ شہربانو ضیا خواتین سے جڑے مسائل کی پیچیدگیوں کو سامنے لائیں۔

2) نوجوان پارلیمنٹیرینز اور نواجونوں کی سیاسی جماعتوں میں اہمیت

اس پروگرام میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی نوجوان خاتون لیڈر ملیکہ بخاری، مسلم لیگ نواز سے شیزہ فاطمہ خواجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی سے شرمیلا فاروقی نے شرکت کی اور نوجوانوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ ان کے حل پر بھی روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔ اس پروگرام میں یہ بھی واضح ہوا کہ تینوں جماعتوں میں ایسے سیاستدان بھی موجود ہیں جنہیں بلاوجہ کے سیاسی لڑائی جھگڑے سے زیادہ عوامی خدمت میں دلچسپی ہے اور ان کے حل کے لئے وہ اپنے اپنے تئیں مسلسل کوشش بھی کر رہے ہیں۔ نہ کوئی لڑائی ہوئی، نہ بدتہذیبی۔ ٹی وی کے ٹاک شوز کے ذریعے سیاستدانوں کا بدنما چہرہ پیش کرنے کی بجائے نیا دور نے جمہوریت کی ایک حوصلہ افزا تصویر پیش کرنے کی کوشش کی۔

3) وزیر اعظم عمران خان کے دور میں پاکستان کی خارجہ پالیسی، حنا ربانی کھر کے ساتھ

اس پروگرام میں پاکستان کی سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کے ساتھ ایک نشست میں موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی پر بات چیت کی گئی۔ حنا ربانی کھر نے اپنے تجربے کی روشنی میں عمران خان حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس پروگرام کو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے فیسبک اور یوٹیوب پر دیکھا اور حنا ربانی کھر کی کھری کھری باتوں کے بیحد پذیرائی ملی۔

4) قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست کی تقریر اور آج کے پاکستان میں اس کی اہمیت

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی 11 اگست 1947 کی تقریر پاکستان میں ہمیشہ سے ایک متنازع معاملہ رہا ہے۔ کچھ نابغوں کے مطابق تو اس تقریر کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا۔ تاہم، نیا دور نے تاریخ دانوں کو اس پروگرام میں مدعو کیا اور ڈاکٹر عائشہ جلال جیسی پائے کی محقق سے اس تقریر کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کی درخواست کی۔ ڈاکٹر یعقوب بنگش نے بھی اپنی قیمتی آرا ناظرین تک پہنچائیں۔ اس پروگرام میں بہت سے معاملات پر تاریخ کو درست کیا گیا اور عائشہ جلال نے قائد اعظم کی سیاست سے متعلق بہت سے ابہام دور کیے۔

5) برصغیر میں عاشورہ: عقیدت، ثقافت اور تاریخ

برصغیر میں تازیے کی تاریخ اپنے آپ میں ایک ثقافتی و ادبی ورثہ ہے۔ ڈاکٹر عمر عادل اس موضوع پر نہ صرف جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں بلکہ اپنی ذات میں اس حوالے سے علم اور تحقیق کا ایک خزانہ لیے ہوئے ہیں۔ نیا دور پر رضا رومی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے اس خطے میں تازیے اور عاشورہ کے جلوسوں کی تاریخ بیان کی اور ساتھ ہی اپنی عقیدت کے پھول بھی اہلبیتؑ کے قدموں میں ڈھیر کیے۔

6) کیا علامہ اقبال نظریہ سیکولر ازم کے خلاف تھے؟ فیصل دیوجی کی شاندار تشریح

مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی سوچ پر یوں تو بے شمار پروگرامز ٹی وی اور سوشل میڈیا پر آپ نے دیکھ رکھی ہوں گی لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد ڈاکٹر فیصل دیوجی کا اقبال کی فکر کی پرمغز تشریح شاید ان میں سب سے منفرد ہے۔ انہوں نے اقبال کی شاعری اور نثر کو گہرائی میں جا کر پڑھا ہے اور اس میں موجود تاریخ، مذہب اور فلسفے کی تہہ در تہہ جہتوں کو وہ اس مکالمے میں ناظرین کے سامنے کھول کر بیان کرتے ہیں۔

7) سابق ISI سربراہ اسد درانی سے ان کی کتاب Honour Among Spies پر ایک نشست

پاکستان کے سیاسی طور پر ایک انتہائی متنازع ISI سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے 2020 میں اپنی تیسری کتاب Honour Among Spies لکھی تو اس پر خوب لے دے ہوئی۔ نیا دور پر رضا رومی اور مرتضیٰ سولنگی نے ان کا انٹرویو کیا تو انہوں نے کھل کر اپنا مؤقف پیش کیا اور پاکستانی سیاست اور اس میں اپنی مداخلت سے متعلق چند تاریخی حقائق پر روشنی بھی ڈالی۔ اس پروگرام کو عوام اور خواص میں یکساں مقبولیت ملی اور متعدد جگہ پر اسے قوٹ بھی کیا گیا۔

8) پی ڈی ایم کے مستقبل پر نجم سیٹھی کے ساتھ گفتگو

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کا بننا، اس کی ہئیت، مقاصد اور مستقبل 20 ستمبر 2020 سے مسلسل پاکستانی سیاست میں موضوعِ بحث رہے ہیں۔ یہ تحریک عوامی مقبولیت کی دعویدار ہے لیکن اس کی اصل طاقت پارلیمان میں اس کی تقریباً حکومت کے برابر نشستیں ہیں جس کے باعث یہ کسی بھی وقت ایک بڑی پینترے بازی میں حکومت کو ہٹا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، اس کے پہلے جلسے میں ہی نواز شریف کی تقریر نے تحریک کا رخ حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی طرف موڑ دیا اور یہ تحریک اپنے بیانیے کے حوالے سے ایک تاریخی حیثیت حاصل کر گئی۔ اس موضوع پر متعدد مباحثوں میں 12 دسمبر کو پیش کیا جانے والا نجم سیٹھی کے ساتھ مکالمہ خصوصی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس کے ایک روز بعد یعنی 13 دسمبر کو لاہور جلسہ تھا جس کی ناکامی نے اس تحریک کو شدید نقصان پہنچایا۔

9) اسحاق ڈار کا متنازع انٹرویو

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے BBC Hard Talk پر برطانوی صحافی سٹیفن سیکر کو انٹرویو دیا تو اس کے ایک حصے میں وہ چند سوالات پر کچھ گڑبڑائے محسوس ہوئے۔ اس انٹرویو کے اگلے روز پاکستان کے مین سٹریم میڈیا پر اس کو اردو ترجمے کے ساتھ چلایا گیا، حکومت نے اس حصے کو خوب اچھالا، نیا دور کی ایک ویڈیو کے چند حصوں کو بنا سیاق و سباق چلا کر ہماری بھی کردار کشی کی کوشش کی۔ وفاقی وزرا نے پریس کانفرنسز کر کے ان پر لگے پرانے الزامات کو دہرایا لیکن اسحاق ڈار کو ٹی وی پر دکھانے پر چونکہ پیمرا نے پابندی عائد کر رکھی ہے، لہٰذا اس پابندی کو ان کا مؤقف پیش نہ کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ نیا دور نے پاکستانی میڈیا پر لگی پابندیوں کی نفی کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کو ان کا مؤقف پیش کرنے کا موقع پیش کیا۔ اس انٹرویو میں ان کے مؤقف پر ملا جلا عوامی رد عمل دیکھنے میں آیا مگر انہیں ان کا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا پاکستانی میڈیا کی اجتماعی ذمہ داری تھی جسے صرف نیا دور نے ادا کیا۔

10) پاکستانی فلموں کی ’ہیر‘ فردوس بیگم کی یاد میں

پاکستانی فلموں کی ماضی کی سپر سٹار فردوس بیگم جنہوں نے فلم ’ہیر رانجھا‘ میں ہیر کا کردار ادا کر کے خود کو تاریخ میں امر کر لیا، 16 دسمبر 2020 کو ہم سے جدا ہو گئیں۔ یہ تاریخ اس ملک میں بڑی منحوس رہی ہے۔ ڈاکٹر عمر عادل نے فردوس بیگم کے پاکستان کی فلمی تاریخ میں قد کاٹھ پر روشنی ڈالی اور ان کے ساتھ اپنے ذاتی تجربات کو بھی خوبصورت پیرائے میں بیان کیا۔ ان کی فلمیں، ان کے گانے، ان کے حسن پر ڈاکٹر عمر عادل کا یہ محبت بھرا نذرانہ فلم شائقین کی جانب سے بہت پسند کیا گیا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *