Type to search

تجزیہ

مذہبی فسادات: آزادی کے چار ماہ بعد جب پہلی بار پاکستان کے دارالحکومت میں کرفیو لگا

بشکریہ بی بی سی

 

انسانیت کے عدسے سے دیکھا جائے تو تقسیم ہند کا موقع شاید کروڑوں انسانوں کے لیئے سب سے زیادہ اذیت ناک مرحلہ تھا۔ گو کہ نیا ملک معرض وجود میں آیا، کہنے کو ایک نئی شناخت کے بنا پر مملکت کا قیام ہوگیا لیکن اس کے لیئے لاکھوں افراد نے اپنی جانوں، املاک عزتوں کی قربانی دی۔

نقشے پر کھچی لکیروں کی ایک جانب  مسلمان کہلائے جانے والا انسان کٹا جسے ہندو کہلائے جانے والے انسان نے کاٹا تو انہی لکیروں کی دوسری جانب ہندوں کے طور پر شناخت کیا جانے والا انسان کٹا جسے گاجر مولی کی طرح کاٹنے  میں مسلمان کہلائے جانے والے انسان نے تسکین محسوس کی۔

قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ صرف 1947 میں بٹوارے کے دوران تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ کئی سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

اسی سلسلے کا ایک واقعہ  کراچی کا ہے جب وہاں ہندووں اور سکھوں کے خون سے سڑکیں نہا گئیں تھیں۔ اور یہ واقعہ 1947 سے تقریباً 4 ماہ بعد جنوری 1948 کا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد دارالحکومت کراچی میں چھ سے سات جنوری 1948 کے درمیان بڑے پیمانے پر  فسادات ہوئے جن میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ کراچی سے شائع ہونے والے اخبارات میں یہ اعداد و شمار زیادہ  نظر نہیں آئے۔ لیکن دیگر شہروں سے نکلنے والے اخبارات میں ان فسادات میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو سے زائد بتائی گئی تھی۔

معاملہ شروع کہاں سے ہوا؟

 بی بی سی نے لکھا کہ  نندیتا بھاوانی اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ چھ جنوری کو سکھ شمالی سندھ سے بذریعہ ٹرین کراچی پہنچے تاکہ یہاں سے انڈیا روانہ ہو سکیں۔ اندازہ یہ ہی تھا کہ انھیں ریلوے سٹیشن سے پولیس وین میں اکال بھنگا گرودوارے رتن تلاؤ منتقل کیا جائے گا۔ کانگریس کے رکن صوبائی اسمبلی سوامی کرشنا نند نے جب پولیس وین نہیں دیکھی تو انھوں نے تانگے کرائے پر حاصل کیے اور میکلوروڈ سے رتن تلاؤ گرودوارے کے لیے روانہ ہوئے۔

وہ لکھتی ہیں کہ راستے میں کچھ سکھوں کو تانگوں سے گھسیٹ کر اتارا گیا اور ’مارو مارو‘ کے نعرے لگائے گئے تاہم وہ گرودوارے پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر دو گھنٹوں کے دوران مشتعل لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی اور اندر داخل ہو کر آگ لگا دی اور سکھوں کا قتل عام شروع کیا گیا۔

موجودہ وقت پریڈی تھانے کے سامنے واقعے اس گرودوارے کی زمین پر اب نبی باغ کالج میں بدل چکی ہے اور اس کے عقب میں چند دیواریں اور کچھ جلی ہوئی چوکٹھیں تاریخ کے اس المیے کے ثبوت کے طور پر آج بھی موجود ہیں۔ اس سڑک کا نام آج بھی ٹیمپل روڈ ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو کیا دیکھ رہے تھے؟

ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو اپنے والد ایوب کھوڑو کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’محمد ایوب کھوڑو: جرتمندانہ سیاسی زندگی‘ میں لکھتی ہیں کہ چھ جنوری کو جب ہنگامہ آرائی کی خبر آئی تو وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو اپنے دفتر میں تھے۔ 11 بجے امن بورڈ کے سیکریٹری ٹھل رامانی دوڑتے ہوئے آئے کہ خنجروں سے مسلح افراد نے سکھوں پر حملہ کر دیا ہے۔

کھوڑو بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ڈی آئی جی پولیس کاظم رضا سے رابطے کی کوشش کی لیکن وہ دستیاب نہ تھے، اس لیے آئی ایس پی شریف خان کو ہدایت کی کہ وہ گرودوارے کا گھیراؤ کر کے انسانی جانیں بچائیں، ایک گھنٹے کے بعد رامانی دوبارہ آئے اور کہا کہ لوگوں کو اب بھی مارا جا رہا ہے، پولیس کچھ بھی نہیں کر رہی ہے۔

ایوب کھوڑو کے مطابق ساڑھے بارہ بجے وہ دفتر سے نکل کر ہنگامہ آرائی والے علاقوں کی طرف گئے اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ چاقو اور لاٹھیوں سے مسلح لوگ مندروں پر حملے کر رہے تھے۔ ان میں سے کئی گرودوارے میں داخل ہو چکے تھے، ایس پی اور پولیس اہلکار باہر موجود نظر آئے جنھوں نے بتایا کہ اُن کے پاس ڈنڈوں سے لیس 10 سپاہی ہیں جو ان بلوائیوں کو روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔

یادداشتوں کے مطابق ایوب کھوڑو اس علاقے میں ایک گارڈ، ایک ڈرائیور اور ایک بندوق کے ساتھ گئے تھے، انھوں نے اپنے سکیورٹی گارڈ کو کہا کہ نشانہ لگاؤ انھوں نے خود بھی فائرنگ کی جس کے بعد بلوائی منتشر ہو گئے۔

کراچی میں جنوری 1948 کے فسادات پاکستان کے دارالحکومت میں پہلے کرفیو کی وجہ بنے تھے، یہ کرفیو چار روز جاری رہا تھا۔ فوج کے برگیڈیئر کے ایم شیخ کی کمانڈ میں شہر میں آئی، انھوں نے ان سے میٹنگ کی اور کہا کہ اگر ضرورت پیش آئے تو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے۔

مسلم لیگ کے قریبی سندھی روزنامہ الوحید میں چھ جنوری کی اشاعت میں خبر شائع ہوئی کہ پولیس اور ملٹری نے صورتحال کو سنبھالا اور نو فسادیوں کو گولی ماری گئی۔

کراچی میں ان فسادات کے دوران کئی مسلمانوں نے اپنے پڑوسیوں کو پناہ بھی دی تھی۔ روزنامہ الوحید کی ایک خبر کے مطابق اورینٹل ایئر ویز کے ایک مسلمان ملازم نے 20 ہندو خواتین کو اپنے گھر میں پناہ دی، ہجوم ان خواتین سے زیوارت چھیننا چاہتا تھا اس نوجوان نے انھیں للکارا اور دھمکایا۔

نندیتا بھاوانی اپنی کتاب The making of exile sindhi Hindus and partion میں لکھتی ہیں کہ کانگریس کی سرکردہ رہنما کلا شہانی جن کے شوہر شانتی بھی کانگریس سے وابستہ تھے۔ ان کو جب یہ معلوم ہوا کہ رتن تلاؤ میں کانگریس کے دفتر پر حملہ کیا گیا ہے تو انھوں نے مسلم پڑوسی کے پاس پناہ حاصل کی جنھوں نے ان کو بچانے کے لیے برقعہ پہنا دیا۔

موتی لال جوت وانی کے خاندان کو مسلم زمیندار الھ ڈنو نے پناہ دی جب بلوائی پہنچے تو انھیں بتایا کہ ہندو خاندان یہاں سے پہلے جا چکا ہے۔

 بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ہنگامہ آرائی منظم اور منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔

کمیونسٹ رہنما اور دانشور سوبھو گیانچندانی نے روزنامہ ’عوامی آواز‘ کے ایک کالم میں لکھا تھا کہ وہ ان دنوں ٹریڈ یونین میں کام کرتے تھے۔ ایک درزی نے انھیں بتایا کہ پانچ جنوری کی شب تقریبا 10 بجے کے قریب بندر روڈ (موجودہ ایم اے جناح روڈ) پر واقع مولیڈنو مسافرخانے میں شدت پسند جمع ہوئے تھے اس اجتماع میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر میں ہنگامہ آرائی کی جائے تاکہ ہندو یہاں سے نقل مکانی کریں اور ان کے گھر خالی ہو جائیں۔

سوبھو گیا نچندانی لکھتے ہیں کہ اگلے ہی روز یعنی چھ جنوری کو اس پر عملدرآمد کا فیصلہ ہوا اور فسادات شروع ہوئے۔

وزیر اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو نے اعلان کیا کہ لٹیروں اور ہندوؤں کے گھروں پر زبردستی قبضہ کرنے والے مسلمانوں کو سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سول اینڈ ملٹری گزٹ کراچی کے مدیر ایم ایس ایم شرما اپنی یادداشتوں ’پیپس ان ٹو پاکستان، میں لکھتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد 12 ربیع الاول تھا وفاقی وزرا نے کھوڑو پر دباؤ ڈالا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین کو رہا کیا جائے جن پر ہنگامہ آرائی، لوٹ مار اور خواتین کے ریپ کے الزامات تھے۔ کھوڑو نے انھیں رہا کر دیا، حالانکہ لوٹا گیا سامان سیکریٹریٹ ملازمین کے گھروں سے بھی برآمد کیا گیا تھا۔

حمیدہ کھوڑو لکھتی ہیں کہ ہنگامہ آرائی ختم ہونے کے بعد نو یا دس جنوری کو ایوب کھوڑو کسی کام سے وزیراعظم لیاقت علی خان کے پاس گئے تو انھوں نے انھیں طعنہ دیا کہ تم کس قسم کے مسلمان ہو جب انڈیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے تو تم یہاں ہندوؤں کو تحفط فراہم کر رہے ہو، کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ کھوڑو نے انھیں جواب دیا کہ شہریوں کو بغیر کسی امتیاز تحفظ فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *