Type to search

احتجاج انسانی حقوق انصاف جدوجہد حکومت خبریں سیاست

’مجھے شرم آتی ہے ایک جھوٹے پر اعتبار کیا‘

وزیراعظم عمران خان کا کوئٹہ میں موجود ہزارہ برادری کے دھرنے کے شرکا کو ’بلیک میلرز‘ کہنے پر سینئر صحافی اور تجزیہ نگاروں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

وزیر اعظم کے اس بیان کو کوئی  بے حسی کہہ رہا ہے اور کوئی اس بیان کو بیوقوفی سے تشبہیہ دے دے رہا۔

سینئر صحافی عامر غوری نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ مجھے شرمندگی ہے کہ میں نے عمران خان کو ایک کرکٹ ہیرو کے طور پر تسلیم کیا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ مجھے شرمندگی ہے کہ میں نے ان پر اعتبار کیا اور ان کے لئے رضاکارانہ طور پر فنڈ اکٹھے کرنے میں مدد کی۔ عامر غوری نے مزید لکھا کہ 1997 میں جب عمران خان نے سیاست شروع کی تو مجھے لگا کہ وہ کرپشن فری پاکستان کی تعمیر کریں گے۔ ’مجھےشرمندگی ہے کہ میں نے ایک جھوٹے پر یقین کیا۔‘

 

معروف صحافی و تجزیہ نگار طلعت حسین نے لکھا کہ ایک حادثے کی وجہ پر شروع ہوا ایک چھوٹا سا احتجاج ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے اس صورت حال کی وجہ بدترین تکبر، بنیاد پرستی اور برا مشورہ ہے۔ اب اعلی عسکری اداروں کو تیار کیا گیا ہے کہ وہ دھرنے کے شرکا کو میتیں کی تدفین کیلئے راضی کریں۔ یقیناً یہ انتہائی بد ترین صورت حال ہے۔

 

معروف قانون دان اور تجزیہ نگار ریما عمر نے لکھا کہ اگر وزیراعظم کی منطق کی تصحیح کر کے سمجھا جائے تو یہ وزیراعظم ہی ہیں جو ہزارہ دھرنے کے شرکا اور شہید ہونے والوں کے ورثا کو بلیک میل کر رہے اور ان کے سامنے یہ شرط رکھ رہے ہیں کہ میں کوئٹہ تب ہی آؤں گا جب شہید ہونے والوں کو دفنایا جائیگا۔

 

سینئر صحافی ماروی سرمد نے اپنے ٹوئیٹر پر لکھا کہ انہیں وزیراعظم کا بیان سن کر دھچکا لگا جب انہوں نے ہزارہ دھرنے کے شرکا کو مخاطب کر کے کہا کہ انہیں بلانے کیلئے بلیک میل نہ کیا جائے۔ یہ وہی وزیراعظم ہیں جو پہلے بزنس کمیونیٹی کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہے اس بلیک میلنگ کی مد میں انہیں ٹیکس چھوٹ دی گئی اور اسی طرح شوگر اور فارماسوٹیکل کمپنیوں کو نوازا گیا۔

 

صحافی شہریار مرزا نے لکھا کہ عمران نے اس صورت حال میں اپنے لئے خود ایک مسئلہ کھڑا کیا جہاں وہ ایک چھوٹی سی مظلوم اقلیت کے ساتھ کھڑے ہو کر سرخرو ہو سکتے تھے۔ انہوں نے ان کے اس بیان کو فتح کے جبڑوں سے شکست دینا قرار دیا۔

معروف صحافی ضرار کھوڑو نے ایک جملے میں تمام صورت حال کا جائزہ پیش کیا کہ ’جب قاتل آپ کے نظریات کی حمایت کر رہے ہوں تو یقیناً آپ کے نظریات غلط ہیں۔‘

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *