Type to search

تجزیہ دہشتگردی سیاست

پاکستان کے مسائل اور تین کاف: کابل، کشمیر اور کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خورشید علی خان کوئی عام جرنیل نہیں تھے۔ بظاہر خود محدود وضع قطع کے شخص وہ سنجیدہ طور پر عسکری ہنر پر عبور رکھنے والی شخصیت تھے جس میں فوجی طبعیت نمایاں تھی۔ انہوں نے مجھے ایک جنگی صورتحال میں منصوبہ سازی کا کام سونپا جس کے بارے کچھ زیادہ عجیب نہیں تھا سوائے اس کے کہ جب بھی کوئی اس میں خامیاں تلاش کرتا ‘کے’ مجھے وضاحت دیتے کہ اسے میرے پر کیوں تھوپا گیا۔
صوبہ سرحد کے گورنر کے طور پر مجھے (میں کہ جس نے حال ہی میں نوکری چھوڑی تھی) انہوں نے کہا کہ میں ہمارے ملک کے کچھ بے قابو مسائل کے حل کے لیئے منصوبہ پیش کروں۔ جو دستاویز میں نے پیش کی اس کا عنوان تھا تین کاف جو کہ مسائل کے حل کو روکتے ہیں۔ یہ تین کاف تھے، کابل کشمیر اور کراچی۔ اور لفظ کاف منصوبے کے روح رواں کو کریڈٹ دینے کے لیے تھا۔ شاید تب سے اب پچیس سال گزر چکے ہیں لیکن انہی مسائل پر آج بحث کے دوران شاید مجھے اپنا پرانا موقف تبدیل کرنا پڑا۔ یہ کچھ پرانے خیالات پر مبنی تھا۔ ہم جو فوج میں ہوتے ہیں اور پھر نیشنل ڈیفنس کالج کالج جو کہ اب یونیورسٹی بن چکی ہے اس کی سربراہی کے بعد مغرورانہ انداز میں سمجھتے ہیں کہ ہمارے مسائل کے حل کے لئے وضع کردہ طریقہ عمل کی ضرورت ہے اور شاید اسی سوچ کے ہتھیار سے ہم سیاسی حکومتوں میں بھی دخل اندازی کرتے ہیں۔ وہ مسائل جو دہائیوں سے سلگ رہے تھے انکے مسائل کے لیے ہمیں طویل النظری کی ضرورت ہے اور اس عمل میں ان بنیادی مفروضوں جن کی بنا پر ان مسائل کے حل تراشے گئے ہیں ان میں تبدیلیوں اور تحریفات کرنے کی ضرورت ہے حتی’ کہ منصوبوں میں بھی۔ مثال کے طور افغانستان کے معاملے میں ہم نے یہ سمجھنے تک بہت قیمت ادا کی کہ افغانستان خے قبائل چاہئے ایک بیرونی حملہ آور کے خلاف متحد ہوں اسکے بعد کابل کے تخت کے لیئے یہ سب ایک دوسرے کے حریف ہیں۔

حتی’ کہ اصل افغان کرداروں کو غیر روایتی جنگجووں کو استعمال کرنے سے روکا گیا۔ اس کے بعد افغان طالبان جب مجاہدین مخاکف قوت کے ابھرے تو انکی رفتار نے ہمیں حیران کردیا لیکن سابقہ کمیونسٹ سپاہ کو نہیں جنہوں نے داڑھیاں بڑھا لی تھیں اور وہ ان کے ٹینک اور ہیلی کاپٹرز اڑانے لگے تھے۔
اسی دوران ہمارا کردار خراب کرنے والوں کا ہوگیا۔ بھارت کی افغان پالیسی بے شک چانکیہ پالیسی تھی لیکن اسے بھی ایک حد تک محدود کیا جا سکتا تھا۔ تاہم ہماری پالیسیوں نے متنفر افغانیوں کو یہ باور کرادیا کہ ہم افغانستان میں بھارت کو باہر رکھنے کے لئے ملوث و متحرک ہیں۔
سویت یونین کے بعد کبھی بھی امریکا کے مفادات ہمارے مفادات سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ ہم نے اس پر بھی اجڈ پن سے کام لیا اور یہی سمجھتے رہے کہ 9/11کے بعد سے امریکا کے ہم سے تعلقات تزویراتی تھے۔
روس اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اعر چین اور ترکوں کو معاملات پر ہم رکاب رکھنے کے ساتھ ساتھ ہم نے طالبان کے حوالے سے ہمیں حاصل ایک انفرادی حیثیت کو بیرونی دباو سے نمٹنے کے لیے احسن انداز میں استعمال کیا ہے لیکن اب ہمیں افغان پالیسی کے حوالے سے ایسے لوگ چاہیں جو افغان نفسیات کو سمجھتے ہوں اور فغان حلقوں میں معتبریت کے اس مقام پر ہوں کہ وہ بین الافغان مذاکرات کو چلوا سکیں یا پھر اس دلدل سے بطریق احسن خود کو نکال سکیں
کشمیر کی پہیلی بھی کوئی کم پیچیدہ نہیں تھی۔ 1990 کی آزادی تحریک سے متاثر ہم نے کبھی ان چینلجز کے حوالے سے سوچا نہیں جو کہ ایسی تحریکیں پیدا کرتی ہیں۔ ایک مناسب سیاسی چھتر چھایا، عسکری حلقوں پر مناسب اثر تا کہ انکی طرف سے کوئی غیر موافق اثرات مرتب نہ کیئے جائیں اور پھر تحریک کے عناصر سے علیک سلیک جیسے معاملات کے لیئے ایک عسکری و غیر عسکری منصوبوں کے ملاپ سے اٹھی منصوبہ سازی کی ضرورت تھی نہ کہ مزاحمتی تحریک کو مسلح کرنے اور پھر انہیں بیچ منجدھار کے چھوڑ دینے کے۔
انڈیا کو کمپوزٹ دائلاگ کے ذریعے انگیج کرنا ایک عقلمندانہ بات تھی۔ گو کہ مشرف کے تجویز کردہ 4 نکاتی حل میں دو طرفہ فائدے تھے مگر اگر کوئی یہ سمجھے کہ بھارت خود کو فائدے کی حالت میں پاتے ہوئے اپنے موقف سے ہٹ جائے گا تو اسے اپنے دماغ کا معائنہ کرانا چاہیے۔ اگست 2019 کے بعد کی پیش رفت میں جو کچھ ہماری طرف سے کیا گیا وہ واضح کرتا ہے کہ ہمارے ہاں کشمیر پالیسی سیل میں تجربہ کار افراد کی قلت ہے اس لیئے ہمارا رد عمل صرف اور صرف خطاطی اور سنگ میلوں کے نام دوبارہ سے لکھنے تک محدود تھا۔

میں نہیں سمجھتا کہ میں کراچی کے مسئلے سے بخوبی آگاہ ہوں لیکن اتنا تو معلوم سب کو ہی تھا کہ تنوع سے بھرپور ایک جاندار متحرک شہر ایک تباہ کن تصادم کی طرف بڑھ رہا تھا جس کے نتیجے کو ہم سب آنکھیں موند کر دیکھ رہے تھے۔
حتی’ کہ مندرجہ بالا بیانیئے پر ایک طائرانہ نگاہ بھی بتا دیتی ہے کہ اس مسئلے کا حل تاریخ میں پیوستہ ہے یا اتنا پیچیدہ ہے کہ یہ ہماری ریاست کے ڈھانچے کے بس سے باہر کی بات ہے۔
اب تمام بنیادی اور مرکزی مسائل کے حل کے لیئے ایک ایسے کور گروپ کی ضرورت تھی جو ان کے حل کے عمل کو بدلتی ضرورتوں کے حساب سے ڈھال کر آگے چل سکے۔ ایک بیوروکریسی یا سیاسی افراد پر مشتمل نظام کو ان مسائل کے حل کے حوالے سے با اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا تھا کیونکہ ان میں سے اکثر آتے جاتے رہتے جبکہ ان میں سے کئی اپنے نام اعزاز کرنے واسطے اس کی رفتار بڑھانے کے لیئے قوت کا استعمال کرتے تھے جس سے سب کچھ سبوتاژ ہوجاتا۔
کے بی بی کے پاس یہ دستاویز لے کر گیا۔ لیکن بی بی اس سے خاص خوش نہیں ہوئیں کیونکہ ایک جانب جب طالبان افغانستان میں ایک کے بعد ایک کامیابی حاصل کر رہے تھے بی بی ایک وسیع سیاسی اتفاق رائے کے لیئے اپنی کامیابی ایک ہائبرڈ گروپ کے ساتھ شئیر کرنے کے موڈ میں نہیں تھیں جس کا حصہ اپوزیشن بھی ہو۔
گو کہ بی بی نے ایک گن سن رکھنے والا عسکری مشیر تعینات کیا تھا تاہم افغانستان کے معاملات جو کہ فوج کی بتائی گئی راہ پر چلتے تھے ان پر اسکا کنٹرول نہ تھا۔
اس سے قبل نواز شریف یہ واضح کر چکے تھے کہ انکی کابل پالیسی انکی کچن کابینہ چلائے گی نہ کہ افغان سیل۔ جس کے بعد انہوں نے کشمیر کی جد و جہد ایک نجی ٹھیکیدار کے حوالے بھی کردی۔ لیکن دونون سیاسی پارٹیوں کا کراچی پر ایک ہی موقف تھا ایم کیو ایم کو توڑ دو اور برائی کو خود میں ہی غرق ہونے دو۔

بے شک ان غیر مستحکم فیصلوں کا سار الزام سیاستدانواان کو دینا غلط ہوگا کہ ڈیپ سٹیٹ کے افراد بھی باہر سے آنے والے افراد کو انکی قابلیت او مہارت کے باوجود مسائل حل کرنے کے حوالے سے فیصلہ ساز اداروں اور عہدوں پر کوئی جگہ دینے کو تیار نہیں۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ طاقت میں بیٹھے لوگوں میں ہر کوئی اپنی جگہ بچاتا ہے لیکن سب سے برا یہ ہے کہ یہ اپنے آقاوں چاہے سیاسی یا عسکری کو یہ بتانے کی جرات نہیں کرتے کہ ان کے مسائل کا حل ان کے دی ہوئی وقتی مہلت میں نہیں نکل سکتا۔ اس لیئے ان کا انتظام، انکی خواہشات پر مقدم ہونا چاہئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *