Type to search

تجزیہ حکومت سیاست

وزیر اعظم کے بقول 22کروڑ میں سے صرف 20 لاکھ لوگ ٹیکس دہندگان: ‘کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے’

“انٹری مفت، شراب مفت اور اپنی اداوں سے آپکا دل بہلانے والی پری چہرہ حسینہ بھی بلکل مفت” یہ ہے اشتہار آسٹریا کے ایک معروف قحبہ خانے کا۔

لیکن آپ لیٹ ہو چکے ہیں کیونکہ اس آفر کی مدت ختم ہو چکی ہے لہذا بلاگ پر توجہ دیں۔
یہ خبر برطانوی نشریاتی ادارے روئٹرز نے 17 جون 2015 کو بروز بدھ وار جاری کی اور یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ واقعی سچی آفر تھی جو ہرمین ملر نامی قحبہ خانہ کے مالک اور پی آر او یعنی پبلک ریلیشن آفیسر( جسے ہمارے ہاں پیار سے آہو اہو کہا جاتا ہے)  نے احتجاجی طور پر شروع کی۔ ہرمین ملر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے قحہ خانہ پر لگائے گئے لاتعداد ٹیکسز سے عاجز آ چکے ہیں۔ وہ اس دہائی کے دوران ابتک پچاس لاکھ یورو ٹیکس ادا کر چکے ہیں اور اب وہ احتجاجاً یہ سروس مفت فراہم کریں گےنیز یہ کہ پرتکلف قحبہ خانہ کے تمام اخراجات بشمول شراب و شباب جو ماہانہ دس ہزار یورو ہیں یہ اخراجات بھی وہ خود ہی برداشت کریں گے کیونکہ جب انہیں اس کاروبار میں گھاٹا ہی گھاٹا ہے تے فیر اینج ای سہی۔ وہ کچھ نہیں کمائیں گے تو حکومت ٹیکس کس بات کا لے گی چونکہ یہ “دعوت عام” تھی اس لئے حکومتی سربراہان وزرا بھی چاہتے تو اس آفر سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ اب یہ علم نہیں کہ حکومت نے اس آفر سے فائدہ اٹھایا کہ نہیں ۔
یہ خبر اس لئے یاد آگئی کہ ایک نجی چینل میں عالمی حالات پر نظر رکھنا تب خاکسار کے فرائض منصبی کا حصہ تھا لیکن اس مخصوص اور “غیر اخلاقی ” خبر کو یاد دلانے کا سہرا مملکت خداد کے وزیراعظم عمران خان صاحب کے سر ہے جنہوں نے آج فرمایا ہے کہ وطن عزیز کی کل 22 کروڑ آبادی میں سے صرف 20 لاکھ افراد ٹیکس دہندہ ہیں۔ لاچاری اور بے بسی کی عملی تصویر بنے وزیراعظم کو دیکھ کر بے ساختہ دل سے آہ نکلی،” کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے”۔ 

انسانی دماغ بھی بہت عجیب چیز ہے۔ بار بار موضوع سے بھٹک جاتا ہے۔ کہاں کی کوڑی کہاں جا ملاتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں یہ مضمون لکھتے میری آنکھوں کے سامنے وزیراعظم کے دست راست شاہ محمود قریشی کا رخ روشن کیوں آگیا؟ مخدوم شاہ محمود قریشی رب کے نیک اور برگزیده بندوں میں سے ایک ہیں۔ الله تعالیٰ کے فضل وکرم سے پیدا ہی پیر گھرانے میں ہوئے ہیں۔ اگرچہ انکی وزارت یا کرامت کا براہ راست ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں پر میں نے عرض کیا ناں کہ میرے دماغ کو بلاوجہ بھٹکنے کی عادت ہے اگرچہ اس عادت پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہا ہوں لیکن شاہ صاحب کے بزرگوں اور انکی کرامات کی وجہ سے جاری بہاؤالدین زکریا رحمہ علیہ کے مزار پر اکٹھا ہونے والے چڑھاوے کی طرف دھیان جانے لگا اور دماغ میں ایک عجیب سی منطق بنا کر موازنہ کرنے لگا کہ اگر مغرب میں ” آہو آہو ” جیسے قبیحہ دھندے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکتا ہے تو شاہ صاحب اور ان جیسے ہزاروں دین دار اور صالح شخصیات کا حلال اور شریعت کے عین مطابق بابرکت لین دین ٹیکس نیٹ سے باہر کیوں ہے؟ یہ سوچتے ہی یکدم یوٹیوب کے بیل آئی کان جیسی گھنٹی دماغ میں بجی، “کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے” اس پراگندہ خیال کو میں نے بھی استغفراللہ پڑھ کر ذہن سے جھٹک دیا اپ بھی جھٹک دیں واپس چلتے ہیں وزیراعظم کے بیان کی طرف کہ 22 کروڑ میں سے صرف 20 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔

وزیراعظم بہت ‘مشوم’ ہیں لیکن کچھ شرپسندوں کا کہنا ہے کہ صرف ‘شُوم ‘ہیں۔ قانون کی بالا دستی کے نام پر غریبوں کی “غیرقانونی” جھگیوں اور بستیوں پر بلڈوزر چلا دیتے ہیں اور اپنا بنی گالہ کا محل 125 روپے فی مربع فٹ میں ریگولرائز کروا لیتے ہیں۔ بھلا اس بات کا ٹیکس کلیکشن سے کیا لینا دینا؟ بلاوجہ ٹیپ کا مصرعہ دماغ میں آ رہا ہے۔ “کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے”. 

وزیراعظم کی طرح عوام بھی “مشوم” ہیں۔ وہ کہتے ہیں صرف 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں تو عوام مان جاتے ہیں۔ لیکن شر پسندوں کو چین نہیں عجیب عجیب ہانکتے ہیں کہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں بھوکے ننگے عوام اتنا ٹیکس دیتے ہیں کہ پورا ملک چل رہا ہے اور ان پر ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا اتنا بوجھ لاد دیا گیا ہے کہ اب سانس لینا بھی مشکل ہے ایک غریب شہری کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ موٹر سائیکل کی ٹنکی میں جب وہ پیٹرول ڈلواتا ہے تو لیز کے پیکٹ میں ہوا اور چپس کی طرح پیٹرول اور ٹیکس کی مقدار کا موانہ نہیں ہوتا. پنکھے کے پروں کو گھومتے دیکھتا ہے تو ٹیکس اور ہوا کا شمار سمجھ سے باہر ہے۔ نہاتا ہے تو صابن کے بلبلوں پر حساب کرتا ہے کہ ٹیکس کتنا ہے اور جھاگ کتنا، بوٹ پالش بھی اس احتیاط سے استعمال کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس بچا سکے،(کمینہ ٹیکس چور) چائے کے ہر دوسرے گھونٹ پر احساس ہوتا ہے یار بہت عیاشی ہو گئی دودھ پتی پر دس روپے ٹیکس دے دیا باقی عیاشی کل سہی اور وزیراعظم کہتے ہیں کہ 22 کروڑ میں سے 20 لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں. ” کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے”

 

آج ایک اور اہم اور اچھی خبر ہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاک فوج نے عام انتخابات بہت ایمانداری سے کرائے ہیں وہ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہونگے ویسے ایک بے محل پھینکی جائے تو  ملک کی مقتدرہ  کے زیر سایہ چلنے والے کاروبار بھی ٹیکس نیٹ کا حصہ ہونگے اس موضوع پر بات کی گنجائش ہی نہیں ویسے بھی مضمون بہت طویل ہو چکا ہے اور ” نیا دور” کے مدیر بہت بے رحم ہیں گردن موٹی اور رسی چھوٹی ہو تو رسی بڑی نہیں لاتے پتلی گردن ٹانگ دیتے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *