Type to search

تجزیہ سیاست

بندہ اچھا تو ہے لیکن برا تھا، برا تھا لیکن اچھا ہے

پاکستان میں سیاسی بیانیہ بھی عجب مخمصے کا شکار ہے۔ ایسے ہی جیسے سیاسی بساط ابہام کے بادلوں میں ڈھکی غیر یقینی کی نمی سے لتھڑی ہے۔ جس بھی سیاسی عمل کو اٹھا لیجئے وہاں کنفیوژن ہے۔ کسی بھی سیاسی شخصیت کو اٹھا لیجیے اس کے بارے میں ایسا بیانیہ ہے کہ اسکے لیئے آدھا تیتر آدھا بٹیر کا محاورہ بھی صائب نہیں بیٹھتا۔
اس پر ہفتہ وار لکھا جائے گا۔ لیکن سب سے پہلے بات ہو جائے جناب نواز شریف کی۔ مخالفین نواز شریف کے بارے میں کیا کہتے ہیں سب کو معلوم ہے۔ چور ہے، ڈاکو ہے، مافیا ہے، فوج کی پیدا وار ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ رائے نواز شریف کے مخالف سیاسی ووٹرز کی بھی ہے اور میڈیا میں موجود کھلم کھلا نواز مخالف تجزیاتی ٹھیکہ داروں اور ضعف صحافت کا شکار صحافیوں کی بھی۔ اب ذرا ان کے حامیوں کی سنیئے۔ ان میں بھی ان کے ووٹرز بھی شامل ہیں اور انکے حامی کنسلٹنٹس فار جمہوریت ٹائپ تجزیہ کار بھی۔ یہ کہتے ہیں کہ یہی شخص الحق ہے۔ یہ جمہوریت مخالف قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہے۔ یہی ایک امید ہے جو ملک کو شاید غیر جمہوری عناصر کے خون آشام جبڑوں سے نکال سکتا ہے اور وغیرہ وغیرہ۔ ابھی کسی سامع کا ذہن ان معلومات کو ہضم کر رہا ہی ہوتا ہے کہ یکدم ان میں سے ایک پکار اٹھتا ہے۔ لیکن۔۔ اور اس کے بعد وہ اپنے ہی بیان کردہ باتوں کی رد دلیل پیش کرنا شرقع ہوتا ہے۔ نواز شریف کونسا کوئی جمہوریت پسند ہے۔ دیکھیں نا یہ بھی تو حقیقت ہے کہ وہ فوج کی نرسری میں سے نکل کر آیا۔ اسکو فوج لائی دیکھیں نا اسنے 1998 میں کیا کیا۔ دیکھیں نا اسنے 2014 میں جیو کے خلاف کیا کیا۔ دیکھیں نا جی آرمی کورٹس بنوائیں۔ اسنے معیشت بہتر چلائی لیکن کوئی دودھ کی نہریں تو نہیں بہہ گئیں لیکن عام آدمی بہتری محسوس کر رہا تھا۔ لیکن دیکھیں نا اس وقت وہ جمہوری قوتوں میں سے ایک قوت ہے اور جمہوریت کے لیے لڑ رہا ہے لیکن دیکھیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے کر کر وہ کدھر جائے گا۔۔۔۔ مطلب کہ بھائی صاحب۔۔۔ کیا مطلب؟ نواز شریف اچھا ہے؟ برا تھا پھر اچھا ہوگیا؟ یا اچھا ہو کر بھی برا ہے؟ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کسی کو نہیں معلوم کہ کون کیا کہنا چاہتا ہے۔ اگر آپ کہنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف آپ کی نظر میں اچھا ہے تو کہیے کہ اچھا ہے یا برا ہے تو برا ہے۔ ایک جانب آپ اس بات کے مخالف دکھتے ہیں کہ 34 سالہ پرانے واقعات کے کیسز میں احتساب کے نام پر جو سیاسی انجینئرنگ ہو رہی ہے اسے بند کردیا جائے لیکن ساتھ ہی آپ اسی شخص کے 40 سالہ پرانے کردار کو آج کے پس منظر پر فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو صاحب آپ میں اور نیب میں کیا فرق ہے؟ صرف یہی کہ وہ قانونی ادارہ ہے آپ باتونی؟ اگر تنقید ہے تو وہ آج کے پیرائے میں کیوں نہیں؟ اور تعریف بھی۔ یا کم از کم آپ کا پیمانہ کیوں نہیں۔ اب اگر آپ تجزیاتی فنکار حضرات کی ایک بچپن کی ایک تصویر نکال کر آپ کے سامنے رکھ دی جائے جس میں آپ ننگ دھڑنگ کسی نالے کے پاس کھڑے دانت نکال رہے ہیں، اور ساتھ ہی یہ فتوی’ صادر کردیا جائے کہ جس کا کردار یہ رہا ہو وہ تجزیہ کیسے کر سکتا ہے تو کیسا رہے گا؟۔۔ ذرا نہیں پورا سوچیئے۔
اور برائے مہربانی بات سلجھایئے۔ الجھایئے مت۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *