Type to search

بین الاقوامی حکومت خبریں سیاست میڈیا

بھارت کی تعریف کیوں کی؟ سوشل میڈیا پر اقرار الحسن کی مخالفت اور حمایت میں ٹرینڈز

معروف صحافی و اینکر پرسن اقرار الحسن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارت کے مقابلہ میں پاکستان کے ٹرانسپورٹ سسٹم پر تنقید کی۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ اس ٹوئٹ کے بعد ان پر تنقید بھی کی گئی مگر ساتھ ہی ساتھ بہت سے صارفین نے انکی حمایت میں لکھنا شروع کر دیا۔

بعد ازیں انہیں نے کرونا ویکسین کی مد میں بھی بھارت کے بہتر طبی اقدامات کی تعریف کی اور پاکستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اقرار الحسن کی ان ٹوئٹس کی بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان پر شدید تنقید کی گئی۔ بعد ازاں ان کے خلاف ٹوئٹر ٹرینڈ بنایا گیا

#اقرار_قوم_سے معافی مانگو

اس ٹرینڈ کے بعد اقرار الحسن کے حق میں بھی سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ٹوئٹر ٹرینڈ چلایا جس پر سینکڑوں کی تعداد نے صارفین کو سپورٹ کیا۔

معروف محقق عمار علی جان نے لکھا کہ اقرار الحسن کی جانب سے سسٹم کی نا اہلیوں کی نشاندہی پر ان کے خلاف ٹرینڈ چلانا قابل افسوس ہے۔ ہمیں ناقدین پر حملہ کرنے کی بجائے ان کی بات سنی جائے۔ یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ ہم تب ہی ترقی کر سکتے ہیں جب ہم عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔

صحافی منیزے جہانگیر نے اقرار الحسن کی کرونا ویکسین س متعلق ٹوئٹ کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ جب پوری دنیا کرونا ویکسین کے لئے تگ و دو کر رہی ہے ہم نے ویکسین بنانے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی۔ اس کی وجہ غلط ترجیحات ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے جکہ ہتھیاروں اور دفاع کی بجائے صحت اور تعلیم کو ترجیح بنایا جائے۔

معروف صحافی ارشد شریف نے بھی اقرار الحسن کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ اقرار الحسن کی ٹوئٹ کاعام شہریوں کے لئے آواز اٹھانے کا یہ عمل ایک دن ضرور رنگ لائے گا اگر پاکستان کے شعبے میں سچائی اور دیانتداری سے کام کیا جائے۔

 

بعد ازاں اقرار الحسن نے اپنے موقف پر ٖڈٹتے ہوئے پاکستان کی گرتی ہوئی کرنسی ویلیو کا بھارتی روپیہ اور بنگلہ دیشی ٹکہ سے موازنہ کرتے ہوئے لکھا ’بدقسمتی سے ہمارا پاسپورٹ افغانستان اور صومالیہ کے درجے پر ہے، روپیہ بنگلہ دیشی “ٹکے” کے مقابلے ایک روپے نوے پیسے اور بھارتی روپیہ دو روپے بیس پیسے ہے، ہم محنت کرنے، مقابلہ کرنے کی بجائے خود کو پھنے خان سمجھتے ہیں۔ اللہ ہمیں پاکستان کو صحیح معنوں میں “زندہ باد” بنانے کی توفیق دے‘

ٹوئٹر پر اس بڑھتی بحث پر اقرار الحسن نے پھر ٹوئٹ کے ذریعے کہا کہ تحریک انصاف کے سپورٹرز بھی پاکستانی ہیں اور پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہا:
’ہر ذی شعور سیاسی کارکن اور سوشل میڈیا ورکر کی طرح تحریکِ انصاف کے کارکن بھی پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں، دشمن بھی اگر کچھ اچھا کر رہا ہو تو ہمیں اس سے آگے نکلنا ہے اپنے لوگوں پر تنقید نہیں کرنی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *