Type to search

انسانی حقوق بلاگ

یوکرائن طیارہ حادثے کو ایک سال بیت گیا، لواحقین آج بھی انصاف کے منتظر

8 جنوری 2020 کی رات 6 بج کر 12 منٹ پر ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے مسافر بردار طیارہ زمین سے مار کرنے والے میزائل کی مدد سے مار گرایا۔ جس طیارے میں موجود 176 جن میں 167 مسافر اور 9 عملے کے لوگ شامل تھے موقع پر ہی اپنی جان کھو بیٹھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔ ایرانی غیر حکومتی نیوز ایجنسیوں کے مطابق، ابھی تک واقعے کی تحقیقات نہیں کی گئیں اور نہ ہی لاپرواہی برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ھے۔

اس واقعے کے رونما ہونے کے تین دن تک حقیقت عام عوام سے چھپائی گئی اور اسکو فقط ایک ٹیکنیکل خرابی بتا کر دبانے کی کوشش کی گئی.

لیکن جب بین الاقوامی میڈیا اور عوامی دباؤ بڑھا تو سپاہ پاسداران نے بھانپ لیا کہ اب اس حقیقت کو چھپانا ناممکن ھے تو ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس واقعے کو انسانی غلطی کا رنگ دے دیا۔ اور اپنے اس غیرذمہ دارانہ فعل کو حالت جنگ میں ہونے کا نتیجہ قرار دے دیا۔ مرنے والے مسافروں کے اہل خانہ سے لئے گئے انٹرویوز میں انکا سوال یہ تھا کہ حالت جنگ میں ہوتے ہوئے ہوائی اڈے کیوں بند نہیں کئے گئے۔اور جہازوں کو پرواز سے کیوں روکا نہیں گیا۔ اس کے علاوہ انکا کہنا تھا کہ مسافر طیارے کو جان بوجھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔

 

یوکرائنی اور کینیڈین عہدیداروں کا کہنا ھے کہ ایران طیارے کے متعلق تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہا، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پہلے ہی بلیک باکس کینیڈا کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر چکے ہیں۔مار گرائے جانے والے یوکرائنی طیارے سے چند کلومیٹر دور پرواز کرنے والے دوسرے طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے آپریٹر کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو فائل لیک ہونے کے بعد ایران نے تحقیقاتی ثبوت متعلقہ ممالک کو فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ جب چور اپنے ہی گھر کا ہو تو اسی طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔

 

مارے جانے والے مسافروں کے لواحقین کا کہنا ھے کہ انکو سپاہ پاسداران کی طرف سے خاموشی اختیار کرنے اور کسی غیر ملکی چینل کو انٹرویو دینے سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اسکے علاوہ جان کی بازی ہارنے والوں کے اہل خانہ کو گھر میں آکر ہراساں کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔

 

مرنے والوں میں کینیڈا کی البرٹا یونیورسٹی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی الناز نبیی بھی شامل تھیں ان کے شوہر جواد سلیمانی کا کہنا ھے کہ بہت مشکل ھے کہ جن لوگوں سے میری بیوی کو نفرت تھی جن کی وجہ سے وہ کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوئی، جن لوگوں نے اس کی پرواز کو میزائل سے مار گرایا، آج جنازے پر سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں اور اس کے مرنے پر مجھے اور اسے شہادت کی مبارکباد دے رہے ہیں۔

 

سی بی سی کینیڈا کو دیے جانے اپنے انٹرویو میں جواد کا کہنا تھا کہ تین بڑے ادارے بشمول سپاہ پاسداران خامنہ ای کے ما تحت ہیں، طیارہ گرانے کے بعد خامنہ ای نے ایک بار بھی افسوس یا معذرت نہیں کی۔ نہ ہی سپاہ پاسداران کے عہدہ داروں نے متاثرہ خاندانوں سے معافی مانگی۔

بے گناہ مارے جانے والے مردوں ، عورتوں اور بچوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے اور تحقیقات کا حکم دینے کی بجائے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے جمعے کے خطبے میں سپاہ پاسداران کی کھل کر حمایت کی۔

یاد رہے ایران عراق جنگ کے دوران بھی ایران نے انسانی ڈھال کا سہارا لیا اور مسافر طیاروں کی پروازوں کو متوقف نہیں کیا۔ تاکہ اگر کسی مسافر بردار طیارے کو مار گرایا گیا تو اسکا الزام دشمن پر لگا کر واویلا کیا جائے۔ بندر عباس کا ہوائی اڈہ مسافر اور جنگی طیاروں کی پروازوں کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا ، 3 جولائی 1988 کو ایران ایئر کا طیارہ 290 مسافروں کو لیکر متحدہ عرب امارات کی طرف روانہ ہوا تو خلیج فارس سے عبور کرتے ہوئے امریکی بحریہ نے مسافر طیارے کو جنگی جہاز سمجھ کر مار گرایا۔

 

جس پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا شدید رد عمل سامنے آیا، اور امریکی بحریہ کے کمانڈر کے بیان کہ جس میں اس نے طیارہ گرانے کو انسانی غلطی کہا، کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ تم نے بہت برا کیا کہ اسکو ایک غلطی کہا، اگر غلطی کی ھے تو تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟ کیوں کمانڈر کو کٹہرے میں لاکر کھڑا نہیں کیا گیا؟

 

جبکہ یہی کام جب سپاہ نے کیا تو کوئی بیان سامنے نہیں آیا بلکہ الٹا سپاہ پاسداران کی حمایت کر دی۔ سپریم لیڈر کی یہ منافقت کوئی نئی بات نہیں ھے ،ماضی اور دور حاضر میں ایسے کئی مواقعوں پر آیت اللہ خامنہ ای دوغلی پالیسیاں اپنا چکے ہیں۔ جس میں کرونا کے متعلق انکی پالیساں شامل ہیں۔ کرونا جب ایران میں داخل هوا تو جناب آیت اللہ خامنہ ای نے اس وائرس کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے دشمن کی سازش قرار دیا، جب بحران سر اٹھانے لگا تو عوام سے ایس او پیز کو سنجیدہ لینے اور لاک ڈاؤن کا احترام کرنے کی استدعا کرنے لگے۔ اس سے پہلے بھی آیت اللہ خامنہ ای جھوٹ پر جھوٹ بولتے آئے ہیں۔

انقلاب کی سالگرہ اور انتخابات نزدیک ہونے کی وجہ سے قم میں کرونا سے ہونے والی اموات کو مجرمانہ طریقے سے چھپایا گیا۔ تاکہ لوگ انتخابات اور ریلیوں میں بھرپور شرکت کریں۔ جس کے بعد پورا ایران کرونا وائرس کی زد میں آ گیا۔ اور تقریبآ ہر شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اس کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای نے ٹیلیویژن پر آکر یہ بیان دیا کہ ہمارے ملک میں عوام سے کچھ نہیں چھپایا جاتا اور یہ کہ ہم نے صادقانہ طور پر عوام کو خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔ جو کہ ہمیشہ کی طرح ایک جھوٹ تھا۔ اس سال پھر انقلاب کی سالگرہ میں لوگوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے کرونا وائرس کے کیسز اور اموات کی اوسط کو کم دکھایا جا رہا ھے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *