Type to search

خبریں سیاست

عمران خان کی مودی کی جیت کے لیئے دعائیں بھارت سے پی ٹی آئی کو ہوئی فنڈنگ کا کمال تھا، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو عوام کے ووٹ کا تحفظ کرنا تھا لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں دیا جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ یہ اگر احتجاجی ریلی اور احتجاج ہے تو دیکھ لو جس دن عوام لانگ مارچ کے لیے پہنچیں گے تو کیا عالم ہوگا۔

 

مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈ کا نام تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس ہے، نومبر 2014 میں یہ کیس داخل ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا کیس دنوں میں چلتا ہے اور دنوں میں ختم ہوتا ہے اور دن میں دو دو سماعتیں بھی ہوتی ہیں لیکن اس ادارے نے 7 برسوں میں 70 سماعتیں کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر مسلط عمران خان نے مقدمے کو ملتوی کرانے کی 30 بار کوشش کی، کون کہتا تھا کہ اگر چوری نہیں کی تو تلاشی دے دو، آج پی ڈی ایم اور عوام پوچھتے ہیں کہ اگر چوری نہیں کی تو 30 بار مقدمے کو رکوانے کی کوشش کیوں کی۔

اسٹیٹ بینک نے عمران خان کے 23 خفیہ اکاؤنٹس پکڑے، جو انہوں نے ای سی پی اور پاکستان کے عوام سے چھپا رکھے تھے لیکن اسٹیٹ بینک نے پکڑ لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اکاؤنٹ عمران خان کے دستخط سے آپریٹ ہو رہے تھے، یہ نہیں کہ ان کو پتا نہیں تھا بلکہ جان بوجھ کر عوام اور ای سی پی سے اپنا جرم چھپایا اور اسکروٹنی کمیٹی خود اعتراف کرتی ہے کہ ہم حقائق فراہم نہیں کرسکتے کیونکہ عمران خان نے منع کیا ہے، اب پتا چلا کہ چور کی گردان کرنے والا خود سب سے بڑا چور نکلا۔

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اکاؤئنٹس میں پی ٹی آئی کے اکاؤئنٹس سے پیسہ ہنڈی کے ذریعے آیا، اب پتا چلا کہ یہ کنٹینر پر چڑھ کر عوام کو ترغیب دیتا تھا کہ ہنڈی کے ذریعے پیسہ منگواؤ کیونکہ یہ خود ہنڈی کے ذریعے پیسہ منگواتا تھا، ان کو دو ملکوں بھارت اور اسرائیل سے فنڈنگ ہوتی تھی۔

مریم نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں سے فنڈ لو گے تو مودی کی کامیابی کی دعائیں بھی مانگی جائیں گی، الیکشن کمیشن کی ناکامی اور خاموشی کی سزا عوام بھگت رہے ہیں، جب آر ٹی ایس بند کیا گیا تو الیکشن کمیشن نے کیوں نوٹس نہیں لیا؟

انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈال کر نااہل اور نالائق شخص کو حکمران بنایا گیا تو الیکشن کمیشن کیوں نہیں بولا؟ آج کمر توڑ منہگائی ہے ، عوام پر پیٹرول بم گر رہے ہیں ، الیکشن کمیشن بھی شریکِ جرم ہے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اس تابعداد خان نے ہائی کورٹ میں 6 مرتبہ درخواستیں کیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس مقدمے کی سماعت نہیں کرسکتا اور ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی بنائی، جس کا کام تحقیقات کرکے تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا تھا، جب تحقیقات ہوئی تو جرائم کی لمبی داستان سامنے آئی کیونکہ اوپر سے حکم تھا اور اسکروٹنی کمیٹی کو کہا گیا کہ ان پر ہاتھ ہولا رکھو پھر اسکروٹنی کمیٹی عمران خان اور الیکشن کمیشن کی تابعدار بن گئی۔

انہوں نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی 3 سال سے تحقیقات کر رہی ہے حالانکہ اتنے واضح اور ہوش اڑا دینے والے حقائق ہیں، جن کا فیصلہ تین سال تو کیا تین دن میں ہوسکتا ہے لیکن تین سال سے یہ سانپ بن کر اس کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 80 سماعتوں کے دوران عمران خان نے کم از کم 24 مرتبہ کارروائی رکوانے کی کوشش کی اور 4 مرتبہ درخواستیں دی کہ کارروائی کو خفیہ رکھا جائے، اگر اتنا دامن صاف تھا تو کارروائی کو خفیہ رکھنے کے لیے درخواستیں کیوں دیں، اس کا مطلب ہے کہ چوری تو ہوئی ہے اور چوری بھی بہت بڑی ہوئی ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ بیان بدلنا ان کا روز کا کام ہے اس لیے انہیں یوٹرن خان کہتے ہیں، انہوں نے صرف بیان نہیں بدلا بلکہ یہاں 8 وکیل بدلے لیکن 8 وکیلوں کو بدلنے کے باوجود چوری نہیں چھپی.

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ محترم چیف الیکشن کمشنر کو بتائیں کہ آپ کا ادارہ پاکستان کا آئینی اور قوم کا ادارہ ہے، جس کو آئین میں عوام کی رائے کا امین بنایا ہے، آئین کی کتاب نے ووٹ کی عزت کی ذمہ داری عطا کی ہے، یہ وہ ادارہ جس کو عوام کے ووٹ کی عزت کروانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج ایک ایسی سڑک پر موجود ہیں جس کو شاہراہ دستور کہتے ہیں، جس کے دونوں اطراف انصاف دینے والے ادارے موجود ہیں لیکن بہت افسوس ہے کہ جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں وہاں نہ کوئی آئین ہے اور نہ انصاف ہے، آج الیکشن کمیشن کے باہر اس لیے ہم جمع ہوئے ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس کی آئینی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *