Type to search

تجزیہ

سیٹھ میڈیا کا ایک اور کارنامہ: عورتوں کو گالیاں دینے والے خلیل الرحمان قمر اب ٹاک شو چلائیں گے

khalilur rehman qamar

جب میشا شفیع نے الزام لگایا کہ علی ظفر ان کے ساتھ جنسی ہراسانی کے مرتکب ہوئے ہیں تو طرح طرح کے الزام لگے۔ پہلے کہا گیا کہ میشا نے سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کی خاطر یہ الزام لگایا ہے۔ کہا گیا اس سے علی ظفر کی شہرت داغدار ہونے کا خدشہ ہے۔ کیس کا فیصلہ ہونا تو ابھی باقی ہے لیکن علی ظفر کی شہرت کا عالم یہ ہے کہ اب وہ وزیر اعظم عمران خان کی نمل یونیورسٹی کے مشتہر ہیں۔ ساتھ ساتھ انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ان کے خلاف الزامات لگانے والوں کو FIA ہتکِ عزت کا مرتکب ٹھہراتی ہے اور اخبارات ملزمان کو ’guilty‘ لکھتے ہیں۔

جن لوگوں نے اس سب کو #metoo تحریک کا غلط استعمال قرار دیا، انہوں نے خلیل الرحمان قمر نامی ایک لکھاری اور ہدایتکار کو بھی اپنی آنکھ کا تارا بنایا۔ وجہ یہ تھی کہ موصوف خواتین سے متعلق زبان بہت گندی استعمال کرتے ہیں اور ہماری برین واش ہوئی طالبان ذہنیت کی حامل نوجوان نسل کو نیچ لفاظی یوں بھی بہت پسند ہے۔ اس قوم نے ایسے ایسے سطحی قسم کے شاعروں اور مصنفین کو قبولیت بخشی ہے کہ وہ خود بھی کبھی سوچ نہ سکتے ہوں گے۔ یہاں منٹو کئی برس تک معتوب ٹھہرا اور خواتین اور محروم طبقات کے شاعر و ادیب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے جاتے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

خلیل الرحمان قمر نے کبھی عورت مارچ کی شرکا کے متعلق بدتہذیبی کا مظاہرہ کیا تو کبھی سماجی حقوق کی کارکن ماروی سرمد کو سرِ عام ٹیلی وژن پر گالیوں سے نوازا۔ ان کے ڈرامے میں بیہودہ قسم کی جملے بازی اور خواتین کو منفی رنگ میں پیش کرنے پر تنقید ہوئی تو موصوف نے اس پر سوال اٹھانے والوں پر بھی لعن طعن کی۔ ان کے ہی لکھے ایک ڈرامے ’صدقے تمہارے‘ کے ہیرو عدنان ملک نے ان کے خیالات جاننے کے بعد ان کے ساتھ کام کرنے پر تاسف کا اظہار کیا تو ان پر رقیق حملے کیے۔ ایک خاتون نے اس ڈرامے میں کام کرنے پر شرمندگی کا اظہار کیا تو ان کی کردار کشی شروع ہو گئی۔ بلاول بھٹو زرداری سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کی sexuality پر جملے کسے۔ ایک صحافی نے احساس دلایا کہ ان کی بدزبانی سے ان کے چاہنے والوں کو افسوس ہوتا ہے تو اس صحافی کو دڑوک کر رکھ دیا۔

موٹروے ریب جیسے دلدوز واقعے پر انہوں نے احتجاج میں شرکت کر کے اپنا دامن دھونے کی کوشش کی تو وہاں موجود کچھ لوگوں نے ان کے خلاف نعرے لگائے اور عوام کو ان کا حقیقی چہرہ دکھانا ضروری سمجھا۔ اس موقع پر موصوف نے خود کو عورتوں کے حقوق کا چیمپیئن بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ جن لوگوں نے ان کے خلاف نعرے لگائے تھے انہیں جیو کا صحافی قرار دے کر اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ تو ظاہر ہے یہی تھی کہ جیو نے ان کی بدزبانی کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے ساتھ مستقبل میں کام نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور ان کے ساتھ اپنا جاری معاہدہ بھی ختم کر دیا تھا۔

تاہم، اسی مسئلے کو لے کر جب اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے کئی شہروں میں مختلف احتجاج ہوئے تو اس پر موصوف کے الفاظ کچھ یوں تھے:

ان کے باپ کہاں ہیں؟ ان کے بھائی کہاں ہیں؟ اور اگر وہ ہیں کہیں تو یہ خواتین ان کی اجازت سے پہنچی ہیں وہاں؟

’’اور اگر یہ اجازت سے پہنچی ہیں اور دندناتی پھر رہی ہیں اور چیخ چلا رہی ہیں، یہ بھانڈوں کی فوج تو مجھے یہ بتایا جائے کہ انہوں وہ آزادی میسر نہیں آ گئی؟ اس سے زیادہ آپ کیا چاہتی ہیں کہ آپ بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں چلی جائیں اور باپ باہر کھڑا ہو جائے پہرے کے لئے؟‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ بھائی باہر کھڑا ہو جائے اور لوگوں کو بتائے کہ باجی اندر مصروف ہیں، کیا آپ اس طرح کی آزادی چاہتی ہیں؟

لیکن ان کے کریئر کو کوئی نقصان تو کیا ہونا تھا، موصوف کو دن دگنی رات چوگنی ترقی ہی ملتی چلی جا رہی ہے۔ سیٹھ میڈیا جو ریٹنگز کے نام پر کسی بھی اخلاق باختہ حرکت سے گریز نہیں کرتا، ایک مرتبہ پھر نوٹ چھاپنے کے چکر میں خلیل الرحمان قمر کو اب ایک سیاسی ٹاک شو دینے پر کمر باندھے کھڑا ہے۔ جی ہاں، پبلک نیوز نے نہ صرف ان صاحب کو ایک ٹی وی شو دیا ہے بلکہ انہوں نے اس پروگرام کا جو پرومو جاری کیا ہے، اسی سے پتہ چل جاتا ہے کہ چینل کا ایجنڈا وہی رہے گا جس پر وہ قائم ہے اور خلیل الرحمان قمر صاحب بھی سیاسی مکالمے کا ماحول مزید پراگندہ کریں گے۔ موصوف اپنے پرومو میں فرماتے ہیں:

’’پبلک پوچھتی ہے جہاں سوچ بریانی کی پلیٹ اور ایمان گھی کے ڈبے پر بک جاتا ہو، وہاں جمہوریت سچ مچ انتقام ہوتی ہے یا جمہوریت ہم سے انتقام لے رہی ہوتی ہے‘‘۔

’’آپ کہتے ہو سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی تو پبلک پوچھتی ہے تو سیاست کیا جھوٹ کا نام ہے؟‘‘

یعنی ٹاک شو کا وقت اور تاریخ تو ابھی تک واضح نہیں کیا گیا، یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ ایک اور حکومتی پراپیگنڈا پروگرام ہوگا جس میں حکومتی جماعت کا مسلم لیگ نواز سے متعلق بیانیہ کہ ان کے ووٹر بریانی کی پلیٹ کھا کر ووٹ دیتے ہیں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی اور پیپلز پارٹی کے مفاہمتی اندازِ سیاست جو کہ پڑھے لکھے معاشروں کا خاصہ ہوا کرتا ہے پر تنقید ہوگی۔

چلیے، یہ تو سیاسی نظریہ ہے۔ کچھ لوگ حاکمِ وقت کی خوشنودی کو ہی اپنا مقصدِ حیات سمجھتے ہیں۔ ان کی سوچ پر افسوس کا اظہار تو کیا جا سکتا ہے، انہیں لیکن روکا نہیں جا سکتا۔ تاہم، جو نفرت انگیز تقاریر یہ شخص خواتین اور سماجی حقوق کے کارکنان کے بارے میں کر چکا ہے، کیا اس کے بعد اس کو ایک ٹی وی چینل پر میزبانی کا حق دیا جانا چاہیے تھا؟ اخلاقیات کے نقطہ نظر سے پرکھا جائے تو جواب یقیناً نفی میں ہوگا۔ لیکن سرمایہ دار سیٹھوں کی عینک سے دیکھیں تو خلیل الرحمان قمر، موٹروے واقعہ، عورت مارچ، خواتین، ان پر ہونے والی تنقید، یہ گالیاں، سب کچھ سرمایہ ہے۔ اور یہی مال کمانے کے لئے تو تمباکو والے، پان والے، گھی والے، سونے والے سب سیٹھوں نے ٹی وی چینل کھولے تھے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *