Type to search

انٹرٹینمنٹ بلاگ فلم فیچر

جب مکیش نے ایس ڈی برمن کے لیے گانے سے معذرت کرلی: مکیش کی کشادہ دلی نے فلم انڈسٹری کو منوہر اداس سے روشناس کرادیا

گلوکار مکیش، سچن دیو برمن کے دفتر میں موجود تھے۔ ریکارڈنگ کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ مکیش نے گلا صاف کرنا شروع کردیا۔ تبھی سازندوں نے بھی آلات موسیقی پر اپنی مشقوں کا آغاز کیا۔ ذکر ہورہا ہے 1973 کے اوائل کا، جب امیتابھ بچن اور جیا بچن کی پروڈکشن میں تیار ہونے والی  ’ابھیمان‘  کے گیت کی تیاری ہونی تھی۔ یہ فلم دونوں کی شادی کے بعد ریلیز ہونے والی پہلی فلم بننے والی تھی۔ اس تخلیق میں کہانی پیش کی جارہی تھی، ایسے جوڑے کی جو گلوکاری میں قدم رکھتا ہے اور پھر دونوں کے درمیان پیشہ ورانہ رقابت ایسی بڑھتی ہے کہ اختلافات اور تنازعات دونوں کو ایک دوسرے سے دور کردیتے ہیں۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ  ’ابھیمان‘ کی کہانی موسیقار روی شنکر اور ان کی شریک سفر انوپرانا دیوی کی تلخیوں کی عکاسی کررہی تھی۔  ’ابھیمان‘  کے ہدایتکار ہری کیش مکھرجی کہا کرتے تھے کہ یہ کشور کمار اور ان کی پہلی بیوی روما گھوش کے گرد گھومتی تھی جبکہ 1954میں آئی ہالی وڈ فلم ’آ اسٹار از بورن‘  کی کہانی سے متاثر تھی۔

گلوکار مکیش نے ایس ڈی برمن کو دیکھا جو ریکارڈنگ روم کی جانب بڑھ رہے تھے۔ مکیش کو دیکھ کر ایس ڈی برمن کے چہرے پر مخصوص مسکراہٹ آئی۔ جنہوں نے اپنے بنگالی لب و لہجے میں دریافت کیا ’بابو تیار ہو ناں؟‘ مکیش نے سر ہلا کر اپنی رضا مندی ظاہر کی۔ تبھی ایس ڈی برمن نے اپنے نائب ارون پوڈوال کو آواز دی۔ جو اپنی بیگم انوراھا پوڈوال کے ساتھ کورس گلوکاروں کو ریاض کرارہے تھے۔ ارون پوڈوال کو کہا گیا کہ مکیش کو وہ ’ڈمی گیت‘ سنائیں، جو انہوں نے ایک نئے گلوکار کے ساتھ ریکارڈ کیا ہے۔ ایس ڈی برمن عام طور پر نئے اور غیر معروف گلوکاروں کے ساتھ ’ڈمی گانے‘ ریکارڈ کرلیتے اور جب رفیع، کشور، لتا، آشا یا دوسرے گلوکاروں کے ساتھ فائنل گیت ریکارڈ کرایا جاتا تو اس سے پہلے یہی ’ڈمی گانے‘ سنا کر انہیں  طرز ، دھن اور  انداز گلوکاری کے بارے میں بتایا جاتا۔

گلوکار مکیش کے سامنے اب ٹیپ ریکارڈ ر رکھا تھا، جس پر ’ ابھیمان‘ کا گیت  ’لٹے کوئی من کا نگر بن کے مرا ساتھی‘ بجنا شروع ہوا۔ مجروح سلطان پوری کے لکھے ہوئے اس گانے کو سننے کے بعد گلوکار مکیش گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ مکیش کو پتا ہی نہیں چلا کہ کب گیت ختم ہوگیا، انہوں نے ایک بار پھر کیسٹ کو ری وائنڈ کیا اور پھر سے اسے سننے میں مصروف ہوگئے۔ اِدھر ایس ڈی برمن کسی کام کے لیے ریکارڈنگ روم سے باہر گئے۔ چند لمحوں بعد واپس آئے تو انہوں نے گلوکار مکیش کو پھر یہی گیت سنتے ہوئے پایا۔ انہوں نے دریافت کیا ’مکیش دا، تیار ہو؟‘ مکیش نے چونک کر دیکھا اور پھر بولے ’دادا۔۔ یہ کس نے گایا ہے؟‘  ایس ڈی برمن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’منوہر ہے۔۔ منوہر اداس، وہی کلیان جی آنند جی کے لیے جس نے ’پورب اور پچھم‘ اور  ’وشواس‘ میں گلوکاری کی ہے۔‘

گلوکار مکیش نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہنا شروع کیا ’دادا۔۔ یہ گانا اب اُسی کی آواز میں ریکارڈ کرائیں۔میں یہ نہیں گاؤں گا۔ منوہر اداس نے اس گیت کو دل سے گایا ہے۔ بلکہ مجھ سے زیادہ اچھا گنگنایا ہے۔ میں نہیں چاہوں گا یہ گیت میری آواز میں ریکارڈ ہو۔‘ ایس ڈی برمن  مکیش کی جانب بغور  دیکھ رہے تھے۔ جنہوں نے کچھ نہیں کیا۔ ٹیپ ریکارڈ ر کی طرف بڑھے اور ایک بار پھر سے اس گیت کو لگا دیا جو منوہر اداس کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا۔ اِس وقت وہ اس نظریے کے ذریعے اس گانے کو سن رہے تھے کہ اگر وہ اسی آواز کو استعمال کریں تو کیا یہ واقعی اس کی حقدار ہے۔ دو تین بار گیت سننے کے بعد ایس ڈی برمن نے زور سے تالی بجائی اور مکیش سے مخاطب ہوئے ’کہہ تو تم صحیح رہے ہو۔‘

منوہر اداس کو جب یہ خبر ملی کہ ان کی گلوکاری کو مکیش کے یہ خیالات ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ مکیش کے احسان مند تھے۔ گو کہ مکیش کو ’ابھیمان‘ میں صرف ایک ہی گیت گانا تھا لیکن انہوں نے اس گانے کے لیے بھی  منوہر اداس کی مدھر اور رسیلی گلوکاری سننے کے بعد قربانی دے دی۔ اس واقعے کے چند ہی دنوں بعد منوہر اداس کو بلا کر لتا منگیشکر کے ساتھ یہ گانا ریکارڈ کرایا گیا۔ فلم کی نمائش کے بعد ابتدا میں بہت سارے لوگ یہ سمجھتے رہے کہ یہ گیت مکیش نے گایا ہے کیونکہ منوہر اداس کا انداز گلوکاری ہو بہو مکیش جیسا محسوس ہوا۔

اس ایک گیت کی پذیرائی کے بعد منوہر اداس کو بھارتی فلموں میں کئی اور گیت گانے کا موقع ملا۔ ان میں مشہور گانوں میں تو اس طرح میری زندگی میں شامل ہے، ہم تمہیں چاہتے ہیں ایسے، تو میرا جانو ہے میرا ہیرو ہے، پیار کرنے والے ڈرتے نہیں، تو کل چلا جائے گا تو میں کیا کروں گا، ہر کسی کو نہیں ملتا یہاں پیار، تیرا نام لیا تجھے یاد کیا  اور ہم ترے بن رہ نہیں پاتے نمایاں ہیں۔  جبکہ غزل گلوکاری میں کئی البمز آچکے ہیں۔ منوہر اداس، گلوکار مکیش کو اخلاقی اقدار کو خاصے سراہاتے ہیں۔ وہ آج بھی کہتے ہیں کہ اگر مکیش کشادہ دلی کا اُس وقت مظاہرہ نہ کرتے تو ان کا کیرئیر آج اس مقام پر نہ ہوتا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *