Type to search

احتجاج تعلیم جدوجہد حکومت خبریں ریاستی دہشت گردی

ایس ایچ او ریس کورس نے احتجاج کرنے والے طلبہ پر دہشتگردی کا مقدمہ بنانے کی دھمکی دیدی

لاہور  بھر کی یونیورسٹیوں کے طلبہ کا فزیکل امتحانات کے خلاف  گورنر ہاؤس طلبہ کے باہر دھرنا جاری ہے۔ جہاں طلبہ نے مطالبات کی منظوری تک دھرنہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

فزیکل امتحانات کے خلاف طلبہ کا مظاہرہ پریس کلب سے شروع ہوا ، طلبہ پیدل مارچ کرتے ہوئے گورنر ہاؤس پنچے جہاں انہوں نے مطالبات کی منظوری تک دھرنا دے دیا۔ مظاہرے میں شریک طلبہ کا کہنا تھا کہ انہیں آن لائن کلاسوں کے ذریعے پڑھایا گیا مگر انکے امتحانات فزیکل بنیادوں پر لئے جارہے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس وقت بہت سے طلبہ دور دراز علاقوں میں بیٹھے ہیں جنہیں صرف پرچوں کے لئے بلایا جارہا ہے اور انہیں ہاسٹل اور رہنے کی بنیادی سہولیات بھی نہیں دی جارہی۔

مظاہرے میں شریک طلبہ نے گورنر پنجاب سے اپیل کی کہ اس دفعہ ان کے امتحانات آن لائن ہی لئے جائیں۔ طلبہ نے مطالبہ کیا کہ گورنر پنجاب آئیں اور ان کے مطالبات کو سنیں تاہم گورنر پنجاب باہر نہیں آئے البتہ ان کے سٹاف کے کچھ لوگوں نے مطالبات لے کر گورنر پنجاب تک پہنچا دیے ہیں۔

مظاہرے کے دوران پولیس نے چند طلبہ کو حراساں کرنے کی کوشش کی۔ گورنر ہاؤس لاہور کے باہر احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق ایس ایچ او تھانہ ریس کورس ’بابر‘ طلبہ کو ڈراتا رہا اور احتجاج ختم نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا رہا۔ طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایس ایچ او بابر نے طلبہ کو یہ بھی کہا کہ تمہارے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کر کے تمہیں سبق سکھاؤں گا۔ اس موقع پر کھڑے طالب علموں نے پولیس کے اس رویے کے خلاف سخت نعرے بازی بھی شروع کر دی۔ واقعے کی ویڈیو اس لنک میں دیکھی جاسکتی ہے۔

پولیس کی جانب سے حراساں کئے جانے والے طالب علم حیدر بٹ نے کہا کہ تھانہ ریس کورس کے ایس ایچ او بابر ماضی میں بھی بارہا طلبہ کو حراساں کر چکے ہیں جن کے ان کے پاس ثبوت بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایس ایچ او کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے کیونکہ انہیں ہمارے ٹیکس کے پیسے سے تنخواہ دی جاتی ہے۔

طلبہ کا مطالبہ ہے کہ طلبہ کو دھمکیاں دینے اور حراساں کرنے والے ایس ایچ او بابر کو فی الفور برطرف کیا جائے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *