Type to search

تجزیہ

پاکستانیوں میں بڑھتی ہوئی اینٹی بائیوٹک مزاحمت: خود سے اپنا علاج مسئلے کی جڑ

میں پچھلے چند سالوں سے باقاعدہ طب کے حوالے سے معلوماتی تحریریں لکھ رہا ہوں اور اس کے ساتھ عوامی سطح پر  میں مفت  میڈیکل و آگاہی ہیلتھ کیمپوں  کا انعقاد کرتا آرہا ہوں۔ جس میں میری کوشش ہوتی ہے کہ میں مختلف قسم کی بیماریوں اور اس کے علاج و معالجہ کے بارے میں عوام الناس تک حقیقت پہنچا سکوں کیونکہ ہمارے ہاں طب کے حوالے سے معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اس حوالے سے حقیقت پر مبنی معلومات عوام تک پہنچانے میں حکومت یا طب سے وابستہ افراد بالکل بے بس یا غیر سنجیدہ  ہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔  جبکہ ہمیں اس پر بات ضرور کرنی چاہیے کہ ہمیں عوامی سطح  صحت عامہ کے حوالے سے آگاہی پھیلانی چاہیے کیو نکہ یہ وقت کا تقاضہ اور اشد ضرورت ہے۔

آج طب کی دنیا اینٹی بائیوٹیک مزاحمت کے بارے میں پریشان ہیں اور کسی ممکنہ متبادل راستے کی تلاش میں ہے۔  جبکہ ہمارے ہاں آج تک عوام کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اینٹی بائیوٹیک دوائی ہوتی کیا ہے، اس کا استعمال کیسے اور کہاں کرنا ہے، کتنی موٗثر اور کس قدر نقصان دہ ہے اور سب سے ضروری بات یہ کہ دنیا کی ہر بیماری کا علاج اینٹی بائیوٹیک نہیں ہے لیکن یہاں کا نظام ہی اُلٹا ہے۔  اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا بلکہ سرے سے اہمیت ہی نہیں دی جارہی۔ حکومتی اداروں کا بھی اس حوالے سے کام نہ ہونے کے برابر ہے اور نہ ابھی تک حکومت صحت کے حوالے سے کوئی مناسب منصوبہ بندی  کرسکی،  شعبہ ِ طب سے وابستہ افراد بھی اس معاملے کو اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہے کہ مریضوں کو علاج و معالجے کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کے بارے میں آگاہی بھی دیتے رہنا چاہیے۔ خیر اس معاملے پر حکومتی اداروں کو ایک مربوط منصوبے  کے تحت کام کرنا چاہیے، جس میں موجودہ دور کے مطابق ہیلتھ پالیسی تیار کی جاسکے۔

اب وقت آگیا ہے کہ روایتی ادویات کے ساتھ ساتھ متبادل طریقہ علاج کو بھی صحت عامہ منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے اس نظام کو بھی پروان چڑھایا جائے کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں مستقبل میں متبادل طریقہ علاج ہی کی اشد ضرورت پڑے گی۔ ہسپتالوں سے مختلف قسم کی ٹیموں کو تشکیل دے کر عوامی سطح پر  صحت عامہ  پر کام کرنا چاہیے صحت اور ادویات کے بارے میں لوگوں تک آگاہی پہنچانی چاہیے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں پبلک ہیلتھ ماہرین کا کوئی مقام ہی نہیں۔ یہاں  ایم،پی،ایچ، یعنی ماسٹر ان پبلک ہیلتھ کی ڈگری کورس تو ہورہے ہیں لیکن تاحال اس کے لیے کوئی منصوبہ  موجود نہیں کہ یہ ماہرین کہاں اپنی خدمات پیش کر سکیں گے۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا  کہ عوام الناس نزلہ وزکام کا علاج بھی اینٹی بائیوٹیکس کے استعمال شروع کرتے ہیں اورایسا کرتے کرتے سوائے موت کے تمام بیماریوں کا حل انہی دوائیوں میں تلاشتے پھرتے ہیں یہاں خطرے کی بات یہ ہے کہ انٹی بائیوٹیکس ودیگر ادویات کا استعمال بھی خود ساختہ ہورہا ہوتا ہے کسی مستند فزیشن کے مشورے سے ادویات کا استعمال نہیں کیا جاتا  بلکہ پاکستان میں خود ساختہ علاج کا رجحان کچھ زیادہ ہی ہے۔

جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آج مختلف قسم کی انٹی بائیوٹیکس مزاحمت پیدا کرچکی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ یہ دوائیاں بغیر کسی وجہ اور بلا ضرورت باربار استعمال ہوتی رہتی ہیں جس سے اصل بیماری جڑیں مضبوط کرلیتی ہے۔ اور وہ عوامل جن کی وجہ سے انسانی جسم میں بیماری پیدا ہوتی ہے یعنی جراثیم وغیرہ وہ اس قدر طاقتور ہوجاتے ہیں کہ تیز ادویات بھی اس پر اثر ہی نہیں کررہی ہوتیں ۔اس کے باوجود ہمارے ہاں بہت سے معالج آج بھی بغیر معلومات حاصل  کیے مریضوں کو انٹی بائیوٹیکس استعمال کرواتے ہیں اور آخرکار جب مریض کسی بھی حربے سے ٹھیک نہ ہورہا ہو تواینٹی بائیوٹیک حساسیت (Antibiotic Sensitivity Test) کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے کہ آیا یہ ادویات کارآمد بھی ہیں یا اپنا کام چھوڑ چکیں  تب جاکے پتا چلتا ہے کہ انجام برا ہے۔دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو نیم حکیم خطرہ جان ہر طرف بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں جو کہ ٹیکہ لگائے بغیر مریض کو جانے ہی نہیں دیتے اور چھوٹی موٹی بیماری میں بھی اینٹی بائیوٹیکس کی بھرمار کردیتے ہیں جس سے اصل بیماری چپکے سے جسم میں دیگر خطرناک بیماریاں جنم دیتی ہیں۔ اس معاملے پر بھی حکومت کی طرف سے کوئی گرفت نہیں ہے بلکہ میڈیکل سٹوروں پر بیٹھے ہوئے اسسٹنٹ جن کا طب سے کوئی دور تک کا واسطہ نہیں ہوتا وہ بھی ڈاکٹرز کہلائے جاتے ہیں ۔ اگر کوئی مریض اس کے پاس چلا جائے تو  ٹیکہ لگائے بغیر نہیں چھوڑتے جس سےوقتی افاقہ تو ہوجاتا ہے مگر دیگر عوارض کے لیے جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہوجاتا ہے۔ جبکہ بلاضرورت انجیکشن کا استعمال نہایت ہی خطرناک عمل ہے جو کہ دیگر ممالک میں نہیں ہوتا ۔منسٹری آف ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینشن پاکستان کے مطابق ہمارے ہاں 94%ٹیکے بلا ضرورت لگائے جارہے ہیں جبکہ غیر محفوظ ٹیکوں کی وجہ سے کالا یرقان،ایچ آئی وی اور ایڈز دیگر  جان لیوا عوارض دنیا کے مقابلے میں یہاں  تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔

ہمارے ہاں تو کچھ لوگ کم علمی کی وجہ سے ادویات کا نشہ سا ہو جاتا ہے اور ان کے پاس ہر وقت ادویات پڑی رہتی ہیں اگر گھر یا محلے میں بھی کسی کو ضرورت پڑھ جائے تو فوراً دے دیتے ہیں جس کے نتیجے میں عوارض  پیچیدہ صورت اختیار کر لیتے ہیں اور یوں ہم بیماری سے بیماریوں تک کا اذیت ناک سفرطے کرتے موت کےدھانےپر پہنچ جاتے ہیں پھر بات چلتے چلتے تعویز گھنڈوں اور عملیات تک پہنچ جاتی ہے لیکن ہمیں اپنی بیماری کا پتہ نہیں چل رہا ہوتا کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور کیوں ہے۔ دراصل بیماری اس وقت تک اتنی خطرناک نہیں ہوتی جب تک آپ غلط علاج سے اسے جسم کے اندر دبا نہیں دیتے جب غلط علاج سے آپ بیماری کو جسم کے اندر دبادیتے ہیں تو اس سے وقتی طور پر تو آپ کا درد یا دیگرتکالیف کم ہوجاتی ہیں لیکن بیماری دب جانے سے مزید بگڑ جاتی ہے  بلکہ کچھ بیماریوں کا غلط علاج پوری زندگی کا روگ بن جاتا ہے۔

حتیٰ کہ کچھ بچے یا بڑے معذور تک ہوجاتے ہیں، خود ساختہ علاج کے متعلق پاکستان میں معلومات کا فقدان ہے اور اس حوالے سے بہت کم سروے دیکھنے میں آرہے ہیں، ایک سروے کے مطابق جو کہ کراچی میں کیا گیا 84.8%لوگ خود سے ادویات کا استعمال کرتے ہیں، جن میں عام طور پر سردرد، بخار،کھانسی اور درد کش ادویات کا استعمال زیادہ پایا گیا جبکہ درد کش ادویات کے گردوں پر خطرناک اثرات سامنے آرہے ہیں۔اس کے علاوہ خیبرپختونخواہ میں بھی یہ شرح کافی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

پوری دنیا میں بھی سیلف میڈیکشن کا رجحان ہے لیکن ترقی پسند ممالک میں یہ شرح بہت ہی کم ہے جبکہ پاکستان میں خود ساختہ علاج کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ اب ادویات معالج کے ہاتھوں سے بھی نکل رہی ہیں کیونکہ انٹی بائیوٹیکس بڑی بیماریوں کے لیے ایک اہم دوائی تھیں جو کہ اب مزاحمت پیدا کرکے بے کار ہورہی ہیں۔لہٰذا اب وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ شعبہ طب اور دیگر ذمہ دار شہری عوام الناس  کو اس بارے میں معلومات فراہم کریں انہیں سمجھائیں کہ اس طرح بلا ضرورت ادویات کا استعمال نہایت ہی خطرناک ہے۔بلکہ بروقت مستند طبیب سے مشورہ کرنا چاہیے اور طبیب سے سب سے پہلے اپنی بیماری کے بارے میں معلومات لیں  اس کے بعد طبیب کے مشورے سے اپنا علاج و معالجہ جاری رکھیں۔جو طبیب فیس لے کر بھی آپ کو صحت کے حوالے سے معلومات دینے سے قاصر ہوں  وہاں سے بائیکاٹ کریں کیونکہ جب مریض معالج کو فیس دیتا ہے تو وہ مشورہ کے لیے ہی دیتا ہے نہ کہ دوائیوں کی تھیلی  بھرنے کے لیے لہٰذا جو طبیب آپ کو سمجھا نہیں سکتے آپ وہاں پر اپنے پیسے اور صحت کا بیڑا غرق نہ کریں اور اسی طریقہ سے اس رجحان میں تبدیلی آئے گی، جب لوگوں میں شعور پیدا ہوجائے گا تو بگڑے ہوئے معالج بھی اپنا قبلہ درست کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔لیکن یہاں تو مریض کو کسی چیز کے حوالے سے علم ہی نہیں اور ان عطائی یا قصاب نما معالجین  کےرحم و کرم پر  ہیں اب اس کی مرضی وہ آپ کے ساتھ کیا کرے

پوری دنیا میں انٹی بائیوٹیکس مزاحمت اوراسکے نقصانات کو دیکھتے ہوئے  متبادل طریقہ علاج کی طرف آرہی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں متبادل طریقہ علاج کا رجحان بڑھ رہا ہے جس میں ہومیوپیتھی سرفہرست ہے اس کے علاوہ ہربل یا یونانی،آیوویدک، نیچروپیتھی، آکوپنکچر وغیرہ شامل ہیں۔اور عام بیماریوں سے لے کر کینسر تک کا علاج کیا جارہا ہے بلکہ ہمارے پاکستان میں بھی بہت سے ہومیوپیتھک ڈاکٹرز و ماہرین مختلف قسم کی بیماریوں کا علاج کررہے ہیں جن میں کینسر قابل ذکر ہے جو کہ اس دور کی بڑی بیماری ہے۔ہمارے ہاں ایک غلط تاثر یہ پیش کیا جاچکا ہے کہ ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس میں بڑی بیماریوں کا علاج نہیں کرسکتی جبکہ یہ بات بالکل غلط ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کی جدید میڈیکل سائنس پچھلی ایک صدی سے بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے بہت زیادہ  طبی تحقیق  اور تمام تر سہولیات و ترقی کے باوجود 99فیصد امراض کا ابھی تک کوئی حتمی علاج دریافت نہیں کیا جاسکا، بلکہ وقتی طور پر علامتی یا کچھ وقت کے لیے بیماری کو خاموش کردیا جاتا ہے۔

چند ایک جراثیمی امراض کے،باقی تمام امراض کا پوری زندگی علاج کروانا پڑتا ہے۔بہرحال جدید میڈیکل سائنس کی اپنی ایک اہمیت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمیں صحت کے حوالے سے مفروضوں سے نکلنا چاہیے، اور دیگر دنیا کی طرح پاکستان میں بھی متبادل طریقہ علاج کا طریقہ رائج کرنا چاہیے جبکہ آگاہی مہم عوامی بیداری پید کرنی چاہیے ۔تحقیقاتی کا قیام ہونا چاہیے جہاں پر تمام ریکارڈ رکھا جاسکے۔

ہمارے ہاں جہاں انٹی بائیوٹیکس ودیگر صحت کے حوالے سے معلومات و آگاہی کا فقدان ہے وہاں پر متبادل طریقہ علاج کی بالکل کوئی سمجھ بوجھ ہی نہیں، حکومت کی طرف سے متبادل طریقہ علاج کے بارے میں کوئی منصوبہ  تک موجود نہیں کہ آنے والے دور میں ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ہمارے ہاں اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہی نہیں جبکہ ہندوستان جیسا ملک جو کہ سالوں سے متبادل طریقہ علاج کو پروان چڑھا رہا ہے ابھی 2030کی ہیلتھ پالیسی کے مطابق ہندوستان کی حکومت  نے واضح کیا ہے کہ متبادل طریقہ علاج کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اب وقت آگیا ہے کہ روایتی ادویات کے نظام کے تحت سستی اور قابل رسائی صحت کی نگہداشت میں اضافہ کیا جاسکے۔ حکومت نے آیوش وزارت (آیور وید، یوگا،  نیچروپیتھی، یونانی، سدھا اور ہومیوپیتھی – آیوش) کے تعاون سے ہر ضلع میں ایک آیوروید اسپتال قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

بلکہ یہاں تک کہ آیوش اور زراعت کے شعبے  کو یہ ہدف دیا گیا ہے کہ وہ کسانوں کو وہ پودے لگانے کی ترغیب دیں جو کہ ادویاتی فائدے کی حامل ہوں جس سے نہ صرف عالمی منڈی میں ہندوستان کو فائدہ ہوگا بلکہ اندرون ملک بھی سستی ادویات کے ساتھ لوگوں کو اچھی صحت میسر آئے گی۔ حکومت پاکستان کو بھی اس بارے میں سوچنا چاہیے اس طرح کے اقدامات سے نہ ہم صحت کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا کرسکتے ہیں بلکہ عالمی منڈی میں متبادل ادویات کی سپلائی کا ایک اہم رکن بھی بن سکتے ہیں جس سے نہ صرف ملک میں خوشحالی آئے گی بلکہ صحت مند پاکستان کا خواب بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *