Type to search

بین الاقوامی خبریں سیاست

بھارت میں کسان مظاہرین نے لال قلعے پرخالصتان کا جھنڈا لہرا دیا

بھارت کے یوم جمہوریہ 26 جنوری کو ہزاروں احتجاجی کسان اپنے ٹریکٹروں پر دارالحکومت دہلی میں داخل ہوگئے جس کے بعد پولیس نے مظاہرین پر  آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کیا۔ 

بھارتی نیوز چینل اے این آئی کے مطابق مظاہرین نے لال قلعے پر اپنے مذہبی جھنڈے لہرا دئیے۔ بھارتی صحافی کے مطابق تصویر میں دیکھا جانا والا جھنڈا نشان صاحب کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے خالصتان تحریک سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق دہلی کی سڑکوں پر سینکڑوں ٹریکٹروں پر سوار رنگ برنگی پگڑیاں پہنے کسانوں نے بھارت اور کسان اتحاد کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ وہ وزیر اعظم نریندری مودی اور ان کے ’کالے قوانین‘ کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

ان کے علاوہ بھی ہزاروں افراد پیدل مارچ کرتے، ناچتے گاتے دہلی میں داخل ہوئے اور ایک مقام پر رہائشیوں نے مظاہرین پر پھولوں کی پتیاں پھینکیں جبکہ کئی افراد ان مناظر کو اپنے فون میں عکس بند کرتے رہے۔

مظاہرے میں شریک ایک کسان ستپال سنگھ نے بھارتی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم مودی کو اپنی طاقت دکھانا چاہتے ہیں۔ ہم ہار نہیں مانیں گے۔‘ ستپال سنگھ اپنے اہل خانہ کے پانچ افراد کے ساتھ ٹریکٹر پر دہلی میں ہونے والے اس مظاہرے میں شریک ہوئے۔

رائٹ پولیس کے اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور پانی والی توپ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی جبکہ مظاہرین رکاوٹیں توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ حکام کی جانب سے مختلف مقامات پر بڑے ٹرک پارک کے راستوں کو بند بھی کیا گیا تاکہ مظاہرین دہلی کے اندرونی حصوں میں داخل نہ ہو سکیں۔

کسان رہنماوں کے مطابق مظاہرے میں دس ہزار سے زائد ٹریکٹر موجود ہیں جبکہ ریلی میں شریک ہزاروں رضا کار پولیس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے امن عامہ کی صورت حال کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

کسانوں کے یہ مظاہرے ستمبر میں بھارتی پارلیمان سے نئے زرعی قوانین کی منظوری کے بعد سے جاری ہیں۔ مودی حکومت بضد ہے کہ نئے قوانین کسانوں کے لیے فائدہ مند ہوں گے اور ان میں نجی سرمایہ کاری سے پیداوار میں اضافہ ہو گا لیکن کسانوں کو خدشہ ہے کہ زراعت کو کمرشلائز کرنے سے ان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

حکومت ان قوانین میں ترمیم اور انہیں 18 ماہ تک معطل کرنے کی پیش کش کر چکی ہے لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ ان قوانین کی مکمل منسوخی چاہتے ہیں۔ مظاہرین یکم فروری کو بھارتی پارلیمنٹ تک پیدل مارچ کا اعلان بھی کر چکے ہیں جب نیا ملکی بجٹ پیش کیا جائے گا۔

یوم جمہوریہ پر ہونے والی اس ٹریکٹر ریلی کی وجہ سے کرونا (کورونا) وائرس کے باعث چھوٹے پیمانے پر ہونے والی فوجی پریڈ پس منظر میں چلی گئی۔

دہلی کے راج پاٹھ بلیوارڈ پر ہونے والی اس تقریب میں بہت کم تعداد میں لوگ موجود تھے جہاں پر ملکی فوجی طاقت اور سماجی تنوع کا مظاہرہ کیا گیا۔

شرکا نے ماسک پہن رکھے تھے اور وہ سماجی فاصلے کے اصولوں پر کاربند رہے۔ پریڈ کے روٹ پر پولیس اور فوجی اہلکاروں کا گشت جاری رہا اور پریڈ میں کئی ریاستوں کی ثقافت کی نمائندگی کے لیے لوک فنکار موجود تھے جبکہ بھارتی فوج نے اپنے تازہ ترین جنگی ہتھیاروں کی نمائش بھی کی۔

یہ دن 26 جنوری 1950 کو بھارتی آئین کے اطلاق کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مظاہرے میں شریک 55 سالہ کسان سکھ دیو سنگھ کا کہنا تھا: ’اب مودی ہماری آواز سنیں گے۔ انہیں سننا ہی ہو گا۔‘

مظاہرین میں سے کئی افراد گھوڑوں پر بھی سوار تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق ان افراد نے رسیوں کا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں پر موجود رکاوٹوں کو ہٹا دیا اور پولیس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات پر مظاہروں کے منتظم سمیکت کسان مورچہ کا کہنا ہے کہ صرف ایک ریلی پہلے سے طے شدہ روٹ سے ہٹی ہے۔ باقی تمام ریلیاں پولیس کے ساتھ طے کردہ روٹس پر ہی موجود ہیں۔

بھارت کی ایک ارب تیس کروڑ آبادی کا نصف حصہ زراعت سے منسلک ہے اور نئے قوانین کے باعث تقریباً 15 کروڑ بھارتی کسانوں کو پریشانی لاحق ہے۔

حکومت اور کسان یونینز کے درمیان اب تک مذاکرات کے نو دور ہو چکے ہیں جو کہ ناکام رہے ہیں۔

نئی دہلی کے آبزرور ری سرچ فاؤنڈیشن کے تجزیہ کار امبر کمار گھوش کا کہنا ہے: ’کسان تنظیموں کی بنیاد بہت مضبوط ہے۔ ان کے پاس اپنے حمایتیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے وسائل ہیں اور وہ طویل عرصے تک احتجاج کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی ریلیوں کو اپنے مسائل تک محدود رکھنے میں بھی کامیاب ہو چکے ہیں۔‘

وزیر زراعت نریندرا سنگھ تومار نے سوموار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا:’وہ (کسان) 26 جنوری کے علاوہ کوئی بھی دن منتخب کر سکتے تھے لیکن اب وہ اعلان کر چکے ہیں۔ پولیس اور کسان دونوں کے لیے اس ریلی کو کسی حادثے کے بغیر مکمل کرنا بہت اہم ہو گا۔‘

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *