Type to search

انصاف تجزیہ جرم میڈیا

وہ لمحہ جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کے پرچے درج کرادیے

پاکستان میں اس وقت سیاست، معیشت، معاشرت اور صحافت، تمام پہلو ہائے زندگی پر ابتلا کا دور ہے۔ کوئی بھی طبقہ لے لیں وہ مطمئین نہیں۔ ایک جانب ہائبڑد رجیم کی باز گشت ہے تو دوسری جانب  میڈیا کا گلا گھونٹے جانے کا نوحہ۔ صحافی آئے روز میڈیا کی تنزلی، یک بیانیہ بنانے پر زور پر اور میڈیا ورکرز کے بد ترین معاشی  استحصال پر لکھتے اور بولتے ہیں وہ علیحدہ بات کہ فرق رتی برابر کا بھی نہیں۔

اس نفسا نفسی کے عالم میں معاشرے میں موجود تمام قوتیں ایک دوسرے سے متحارب ہیں۔ ایک جانب  نیشنل سیکیورٹی کے نام پر کسی کو بھی اندر کرنے کسی کو بھی چپ کرانے یا پھر ہمیشہ کے لیئے موت کی نیند سلانے کے جواز پیدا کرتے بیانیئے کو سپورٹ کرنے والے کردار  پورے زور و شور سے سرگرم ہیں تو دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کو چیلنج کرنے والی قوتیں بھی موجود ہیں جو ہر حال میں اس کے مخالف ہیں اور کسی صورت بھی طاقت و اقتدار کے بد مست گھوڑے پر سوار اس بیانیئے کی مخالفت کے لیئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔  اور یہ دو کیمپس  اپنے کردار کی یک رنگی کو ثابت کرنے کے لیئے بہت آگے نکل جاتے ہیں جبکہ انکے حمایتی ان سے بھی دو ہاتھ آگے جاتے ہیں۔ 

اسی تناظر میں جمہوریت پسندوں کے کیمپ میں بھی کچھ اونچ نیچ پائی جاتی ہے دوسری جانب تو خیر ماشاللہ۔

اس حوالے سے حامد میر نے اپنے ایک کالم میں چشم کشا واقعے کا ذکر کیا ہے۔ جس میں وہ بتاتے ہیں کہ کیسے  جسٹس قاضی فائز نے صحافیوں پر دہشت گردی کے پرچے کٹوائے۔ انہوں نے ایک کتاب کا حوالہ دیا ہے۔  پی ایف یو جے ایک اور صدر شہزادہ ذوالفقار ناسے اس کتاب میں بتایا ہے کہ 2012میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مختلف صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کے 12مقدمات درج کرانے کا حکم دیا کیونکہ ان صحافیوں نے کچھ کالعدم تنظیموں کے بیانات شائع کئے تھے۔

جب صحافیوں نے بتایا کہ ریاست انہیں تحفظ فراہم نہیں کرتی لہٰذا وہ دباؤ میں آکر یہ بیانات شائع کرنے پر مجبور ہیں تو قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تم دباؤکا مقابلہ نہیں کر سکتے تو جاکر پکوڑوں کی دکان لگالو۔

جب اسی قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف عمران خان کی حکومت نے نااہلی کا ریفرنس دائر کیا تو پی ایف یو جے نے نہ صرف ریفرنس کی مذمت کی بلکہ جج صاحب کے دفاع میں ریاست کے خلاف پارٹی بھی بن گئی ۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *