Type to search

خبریں

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب اور ایف آئی اے کو پشاور بی آر ٹی تحقیقات سے روک دیا

  • 464
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    464
    Shares

سپریم کورٹ اسلام آباد  میں پشاور بی آر ٹی منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جہاں سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی بی آر ٹی تحقیقات روکوانے کی درخواست منظور کی تھی۔

سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے کی جانب سے بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات روک دی۔

خبیر پختونخواہ حکومت کے وکیل نے کہا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے کسی موثر دلیل کے بغیر کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کہ کیا منصوبے کی تکمیل کی کوئی مقررہ مدت طے تھی۔ منصوبہ تو ابھی مکمل بھی نہیں ہوا۔

درخواست گزار عدنان آفریدی کا کہنا تھا کہ منصوبے سے متعلق ہمارے خدشات اپنی جگہ پر موجود ہیں،

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر آپ کے تحفظات متعلقہ حکام ختم کردیں تو کیا معاملہ حل ہو جائے گا،

جسٹس عمر عطا بندیال  نے درخواست گزاران سے پشتو میں گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو کہا کہ  ’آپ صبر کریں‘

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ میرے سینیئر فاضل جج صاحب نے کیا کہا، لیکن جج صاحب نے جو کہا میں اس سے متفق ہوں

عدالت نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اضافی دستاویزات پر مشتمل جواب داخل کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی

جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم دیا کہ متعلقہ افسران درخواست گزاران کے تحفظات سنیں،

وکیل صفائی نے کہا کہ بی آر ٹی پشاور منصوبے کی تحقیقات کیلئے دیئے دونوں فیصلوں میں صرف الفاظ کا فرق ہے۔ ایک فیصلے میں ایف آئی اے سے تحقیقات کا کہا گیا، دوسرے فیصلے میں نیب سے تحقیقات کا زکر ہے۔

عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے کی جانب سے بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات روک دی۔

اس سے قبل پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس احمد علی نے ایف آئی اے کو 45 روز کے اندر بی آر ٹی کی تحقیقات رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر نیب اور ایف آئی اے کو تحقیقات روکنے کا حکم دے دیا

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *