Type to search

احتجاج بین الاقوامی خبریں سیاست

بھارتی کسانوں کی تحریک: ریہانہ، گریٹا سمیت دنیا بھر سے مودی پر تنقید شروع

بھارت میں کسانوں کا نئے بل کے خلاف احتجاج گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ بھارت میں 26 جنوری کو کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کے بعد زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے لئے مزید مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں۔ سنگھو بارڈر، غازی پور بارڈر اور ٹکڑی بارڈر کے علاقوں میں انٹرنیٹ کی سروسز معطل کر دی گئی ہیں جبکہ صحافیوں، میڈیا افراد اور مظاہرین کو احتجاج کی جگہ پر انٹرنیٹ کے استعمال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جبکہ یکم فروری کو ان تمام پابندیوں کے ساتھ ٹوئٹر پر کسانوں کی تحریک سے متعلق مواد شائع کرنے والے چند اکاؤنٹس تک انڈیا میں رسائی بند کر دی گئی ہے۔ ان اکاؤنٹس پر پابندی کے بارے میں ٹوئٹر کے ذریعے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے: ’ قانونی پابندیوں کی وجہ سے انڈیا میں آپ کے اکاؤنٹ کو روک لیا گیا ہے۔

ان تمام پابندیوں کے بعد بھارت میں مودی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے جہاں معروف شخصیات اور عالمی اداروں نے مودی حکومت کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔

معروف امریکی سنگر ریہانہ نے سوال کیا کہ ہم بھارت میں ہونے والے کسانوں کے احتجاج پر بات کیوں نہیں کر رہے۔ ریہانہ کی اس ٹوئٹ کے جواب میں بھارتی اداکارہ کنگنا ریناوت نے کہا کہ اس کے اوپر بات اس لئے نہیں ہو رہی کیوں کہ یہ کسان نہیں دہشتگرد ہیں اور بھارت کو تقسیم کرنا چاپتے ہیں تاکہ چائنہ اس ملک پر قبضہ کر لے۔ بھارتی اداکارہ نے ریحانہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا آپ آرام سے بیٹھ جائیں ہم آپ کی طرح اپنے ملک کو نہیں بیچیں گے۔

ماحولیاتی سماجی کارکن اور کم عمری میں دنیا میں نام پیدا کرنے والی گریٹا تھنبرگ نے اپنے ٹوئٹر پر بھارت کے کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے،

معروف کینڈین یو ٹیوبر اور ہوسٹ لیلی سنگھ نے گلوکارہ ریحانہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انسانیت کے ناطے کسانوں کا ساتھ دینا نہایت ضروری ہو چکا ہے۔

 

 

معروف امریکی ولوگر امند کرنے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ آپ کو اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے بھارتی یا ساؤتھ ایشین ہونا ضروری نہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے آپ کے اندر صرف انسانیت کا جذبہ ہونا چاپیئے۔ جہاں آزادی اظہار اور دیگر انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانی چاہیئے۔

 

ٹوئٹر پر گاڈ کے نام سے بنائے جانے والے ایک معروف اکاؤنٹ میں لکھا گیا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اب دنیا کی سب سے بڑی کسان جمہوریت بننے والی ہے۔

یوگانڈا سے تعلق رکھنے والی معروف کلائمیٹ ایکٹوسٹ وینیسا نکاتے نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ بھارت میں کسانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ہم سب کو اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے بیان جاری کرتے ہوئے لکھا کہ بھارتی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے پر آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی پامالی کر رہے ہیں۔

امریکی کلائمیٹ ایکٹوسٹ جیمی مارگولن نے اپنے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا کہ وہ بھارتی کسانوں کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔

 

کورٹرز کی معروف صحافی انالیزا میریلی نے ٹوئٹر پر ایک مکمل تھرڈ لکھی جس میں انہوں نے بھارت میں آزادی صحافت کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اور صحافیوں اور آزادی رائے کی حمایت کا اعلان کیا۔

برطانیہ کی ایم پی اور لیبر پارٹی کی رکن کلاؤڈیا ویبے نے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے موسیقار ریحانہ کا شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ ان حالات میں جب سیاسی قیادت پیچھے چلی گئی تو ایسے موقع پر سامنے آنے والوں لوگوں کے مشکور ہیں۔

یاد رہے کہ آج بھارتی حکام نے ہزاروں احتجاجی کسانوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کے تحت نئی دہلی کے باہر 3 احتجاجی مقامات پر سیکیورٹی میں اضافہ کردیا۔

حکام نے مرکزی احتجاجی مقامات پر خاردار تاریں، اسٹیل کی رکاوٹیں نصب کی ہیں اور پولیس کی نفری میں اضافہ بھی کیا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *