Type to search

سماج سیاست فیچر

باغ و بہار اور رنڈی رونا: ‘اپنا خان روز اول سے عورتوں ہی کہ وجہ سے خوار ہو رہا ہے’

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قلندر کے مرید اپنے تئیں اکثر اسکے سامنے  مشکل سوالات داغ کر چاند ماری کیا کرتے تھے۔  پر اسے لاجواب کرنا آتا تھا۔  سب سے اعلیٰ تعلیم یافتہ مرید چریا تھا جس نے دو مضامین میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی: گوگل اور  وکی پیڈیا۔  جب بھنگ کا دور عروج پر تھا تو چریا کھڑا ہوا۔

“حضور ایک سوال کر سکتا ہوں؟”

“پھر اُچنگ اٹھی سالے کو!” قلندر زیرِ لب بولا۔

“پوچھ بے پوچھ!”

“حضور  میر امن دہلوی کی شہرہ آفاق تصنیف “باغ و بہار” کے بارے میں کچھ فرمائیں۔”

” انٹرنیٹ کام نہیں کر رہا کیا؟  گوگل میں دیکھ لے سب مل جاوے گا۔”

“حضور کی دعا سے گوگل تو اپنے گھر کی لونڈی ہے۔ ڈاون لوڈ کر کے پڑھ بھی لی۔ “

“تو پھر کاہے کو پوچھ رہا ہے؟”

“حضور کی رائے لینا چاہ رہیا ہوں۔” چریا بولا

“ابے میری رائے کو چھوڑ پہلے تو یہ بتا کس گدھے نے تجھے یہ کہہ دیا کہ یہ شہرہ آفاق کتاب ہے۔ ” قلندر نے غصے سے پوچھا۔

“حضور گوگل ہی کہہ رہا تھا!”

“ابے گوگل کوئی آسمانی صحیفہ ہے کیا۔ اپنے کارتوس خان کی زندگی کا مطالعہ کر ۔ ساری کی ساری “باغ و بہار” تجھے اس کی سوانح حیات میں مل جاوے گی۔ “

“حضور کچھ سمجھ نہیں آیا۔ جب تک آپ سلیس زبان میں نہ فرمائیں ہم آپ کا کلام سمجھنے سے قاصر ہیں۔” چریا خوشامدانہ انداز میں بولا۔

“ابے جاہل یہ اپنا خان روز اول سے عورتوں ہی کہ وجہ سے خوار ہو رہا ہے۔ ایک چھوڑ کر گئی مگر اچھی اور نیکدل تھی۔  خاموشی سے چلی گئی۔ دوسری اماں نکلی ۔ سالی نے ایک اور “باغ و بہار” لکھ کر اسے رسوا کیا۔  پھر ایک اپنی ہی شاگردہ، کیا بھلا سا نام تھا اسکا ؟ ہاں غرارے۔  تو غرارے نے دے پریس کانفرنس پر پریس کانفرنس  کر کے اسے سر میڈیا رسوا کیا۔ سنا ہےآجکل کسی بزرگ خاتون سے بیاہ رچائے بیٹھا ہے۔  وہ بھی اپنا خسم چھوڑ کر اس کے ساتھ ہو لی۔ “

“مگر حضور اس بات سے “باغ و بہار ” کا کیا لینا دینا؟ ” چریے نے پوچھا۔

“ابے مجھے تیری گوگل اور وکی پیڈیا پر پی ایچ ڈی مشکوک لگے ہے۔  تو مجھے “عالم آف لائن” کا کلاس فیلو لگتا ہے۔ سیدھی سادھی بات نہیں سمجھ پا رہا۔ ” قلندر نے چریے کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔

“حضور میری پی ایچ ڈی بالکل اصلی ہے۔ بے شک ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائیٹ دیکھ لیجئے۔”

” اسے “ہائے ایجوکیشن بولتے ہیں”۔ چل کیا یاد رکھے گا۔ دو جملوں میں سار کچھا چھٹا کھول دیتا ہوں تیری “باغ اور بلبل کا”۔

“حضور “باغ و بہار”۔ باغ اور بلبل نہیں۔ “چریا بولا

“سالے بات نہ کاٹا کر۔ بلبل ہو یا بہار بات تو ایک ہی ہے۔ “

“غلطی ہو گئی حضور۔ معافی چاہتا ہوں۔” چریا قلندر کے قدموں میں گر گیا۔

“ابے یہ نوٹنکی بند کر اور سب غور سے سنوں۔” قلندر نے تمام مریدوں کو مخاطب کرتے کہا۔

“حضور ہم سب ہمہ تن گوش ہیں!”

” باغ و بہار میں بھی وہی رنڈی رونا ہے جو آج بھی سب کا سب سے بڑا پرابلم  ہے یعنی عورت۔ عقلمند سے عقلمند مرد کی عقل احمق سے احمق عورت  کے ہاتھوں ماری جاتی ہے۔  چار میں سے تین درویش تو بادشاہ تھے۔ ایک امیر سوداگر۔ ہر ایک اپنی اپنی کہانی سنا رہا ہے۔ کہانی کے بیچ دس کہانیاں اور نکل آتی ہیں۔ اور سب کی سب ایک ہی گھسے پٹے موضوع پر۔ وہ ہے عشق، جو کہ خلل ہے دماغ کا۔  یہ ہی مرض نپولین کو بھی لے ڈوبا تھا۔ اسی عشق کی وجہ سے ٹروجن وار شروع ہوئی۔ اپنے حاجی صاحب کا دیوالہ بھی دوسری شادی ہی کی وجہ سے نکلا۔ مغل بادشاہ بھی رنڈی بازی کے ہاتھوں تخت و تاج گنوا بیٹھے۔  اور اس کے علاوہ کیا ہے باغ و بہار میں؟ “

“مگر وہ درویش تو نمازی لوگ تھے اور عشق حقیقی کے طالب۔” چریا بولا۔

” نمازی تو اپنا کارتوس خان بھی ہے۔ اپنے حاجی صاحب کو دیکھ لے۔ چار چار گٹے ماتھے پر پڑھے ہیں پر پھٹکار میں کمی واقع ہونے کو نہیں آتی۔ اور وہ چارو ں درویش شراب نوشی بھی اتنے ہی خشوع وخضوع سے کرتے تھے جتنی عبادت اگر اس وقت انٹرنیٹ ہوتا ، سمارٹ فون ہوتا تو سنی لیون یا میا خلیفہ کو دیکھتے۔ دل پشوری کر کے باقی وقت سلطنت کو یا بزنس کو دیتے۔  پر وہ عورت کے چکر میں تھے۔ عشق حقیقی سے ان کا دور دور تک لینا دینا نہ تھا۔  دعا دو انکو جنہوں نے انٹرنیٹ ایجاد کیا اور تم سب کی عقل کو گھاس چرنے سے بچا لیا ۔”

سب تشریح پر عش عش کر اٹھے اور  انٹر نیٹ کے موجد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے دھمال ڈالنا شروع ہو گئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *