Type to search

شخصیت فیچر

زندہ دل لاہوریا، محفلوں کی جان، نصرت جاوید: ‘وہ آجکل اداسی کی بہار میں سوگوار ہے’

گذشتہ بیس برس میں جو گفتگو اہل علم سے ہوئی آجکل رقم کرنے کے جتن کر رہا ہوں۔  بزرگ دوستوں میں (بندے کے سب ہی دوست بزرگ اور عمر میں کم از کم بیس برس بڑے ہیں۔ اب تو ہم بھی بزرگ ہی لگتے  ہیں مگر صورت سے) صحافی و مدیر ایم ضیاالدین؛ شاعر، ادیب، ڈرامہ نگار، پروڈیوسر، ڈائریکڑ اور نجانے کیا کیا سرمد صہبائی ، پاکستان کے شیکسپئر ایاز امیر اور ایسی بہت سی نابغہ روزگار ہستیاں ہیں جن کے انٹرویوز پایہ تکمیل کو پہنچے۔ ان سب کا بڑا پن کہ مجھ ایسے بے علم کو اپنے بیش قیمت وقت سے بے دریغ نوازا۔

چند اہم شخصیات جن کے انٹرویوز کرنے تھے بدقسمتی سے اب دنیا میں نہیں۔ مثلاً مشتاق احمد یوسفی، ڈاکٹر انور سجاد، روحی بانو، طبلہ نواز استاد اجمل خان، اشفاق سلیم مرزا اور دیگر دوست و احباب۔ اب وقت یہ ہے کہ علم نہیں پہلے کون چلا جائے، انٹرویو لینے والا یادینے والا۔ اپنے تمام معاملات پس پشت ڈال کر اب فہرست میں موجودباقی ماندہ شخصیات کا انٹرویو کر رہا ہوں۔ اسی نیت سے نصرت سے رابطہ کیا۔

 

“میں تو کونے میں بیٹھا دہی کھا رہا ہوں!” یہ تھا ان کا جواب۔ شروع ہی سے ان کی یہ عادت تھی کہ کسی بات کا بھی سیدھا جواب نہیں دینا۔ رمز ہی ان کا انداز تکلم رہا لیکن صرف الاپ کی حد تک۔  جب یہ وادی سموادی لگا کر راگ کی شکل دکھا دیتے تو باقی بڑھت سیدھے سادھے انداز میں پٹیالہ والوں کر طرح کرتے۔ امیر خان بننے کی ناکام کوشش یہ صرف ابتدا ہی میں کرتے۔

 

پہلے پہل تو حیرت ہوئی کہ دہی سے ان کا کیا واسطہ۔ اس میں ایسی کوئی تاثیر نہیں کہ انسان کی مت مار دے اور وہ بہکی بہکی باتوں کے علاوہ ایسی حرکتیں بھی شروع کر دے۔  جب پوچھا کہ حضرت کیا گذری تو بولے تم بڑے صحافی بنتے ہو مگر حالات سے بے خبر ہو۔ ذرا خبروں کی خبر رکھا کرو۔ میرا پروگرام بند کروا دیا ہے اور میں مشکل میں ہوں۔

 

اب اس نازک موڑ پہ کیا عرض کرتا کہ حضور 2005 سے بندہ ٹی وی نہیں دیکھ رہا۔ قد آدم سے بلند سکرین تو گھر میں ہے مگر کیبل ٹی وی کی لعنت سے ماحول پاک ہے۔ پہلے ہی گھر کے آس پاس فجر سے عشاء تک کتے بھونکتے رہتے ہیں۔ وہ کیا کم ہیں کہ اینکروں کا بھی نان سٹاپ بھونکنا سنا اور دیکھا جائے؟ کتوں کو تو پھر بھی ہڈی ڈال کر خاموش کروایا جا سکتا ہے۔ اینکروں کا منہ کون بندھ کرے؟
کچھ دنوں بعد فیس بک پر انہیں ایک پیغام لکھا کہ ہمیں انٹرویو دے دیں اس سے پہلے کہ ہم میں سے کوئی ایک گذر جائے۔ تو جواب میں یہ آیا:

Please forgive me. I prefer to die quietly. Don’t have any wisdom anyway. Thanks and regards.

ہم پریشان ہوگئے۔ یا الہی کیا ماجرا ہے! ہم نے دوبارہ کال کیا تو بہت ہی مایوسی اور جھنجھلاہٹ میں بولے کہ میں تو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ میں نے تو گوشہ نشینی اختیار کر لی ہے۔ اور یہ دانشوری سب بکواس ہے۔ یہ ملک فوج ہی نے چلانا ہے۔ ففتھ جنزیشن وار عروج پر ہے۔ تم جا کر ڈی جی آئی ایس پی آر کا انٹرویو کرو۔

 

ہم نے عرض کیا کہ علم قرض ہے۔ آپ نے سیکھا اب دوسروں میں بانٹیں۔ بولے میں نے تو اپنے آپ کو تباہ کر کے خودکشی کر کے علم سیکھا۔ ہم نے کہا پرانی دوستی کے ناطے ہی ایک گھنٹہ وقف کر دیں مگر نہیں مانے۔ بولے میں بہت ضدی انسان ہوں۔ انٹرویو کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بات ایسے ختم ہوئی کہ ہم مناسب وقت کا انتظار کرینگے اور دوبارہ اپنی درخواست دہرائیں گے۔ بولے ٹھیک ہے۔ اور گفتگو اختتام کو پہنچی۔

 

نصرت سے شناسائی تیس برس سے ہے۔ ہمیں ان سے عشق انکے ڈرامے گھروندے کی وجہ سے ہوا جو کہ پی ٹی وی پر ستر کی دہائی کےآخر میں نشر ہوا۔ اس کے بہت بعد ان سے ملاقات ہوئی۔ انکی بیگم سارہ ہمارے ساتھ ہی ماحولیات کی بین الاقوامی تنظیم  آی یو سی این میں کام کیا کرتی تھیں۔ اس طرح ایک تعلق سا بن گیاجو  کلاسیکل موسیقی میں باہم دلچسپی کے طفیل بتدریج مضبوط اور بے تکلف ہوتا چلا گیا۔

 

ہم نے نصرت کو زندگی بھر رپوٹر یا صحافی تسلیم نہیں کیا۔  سچ تو یہ ہے کہ ان کا درجہ صحافی سے بہت بلند ہے۔ یہ ایک دانشور اور جینئس ہیں۔ ہم نے انہیں ڈرامہ نگار یا ادیب تسلیم کیا اور ہر محفل میں اس بات کابرملا اظہار کیا۔ ان سے ہمیشہ یہ ہی درخواست رہی کہ کوئی تخلیقی کام کریں۔

 

انہوں نے اپنے آپ کو محض ضائع کیا۔ صحافی بننے کو ترجیح دی۔ پریس گیلری لکھنے میں وہ نام پیدا کیا جو جو طبلے میں استاد احمد جان تھرکوا کا ہے۔ ہر دور کی پارلیمنٹ کے ہر سیاستدان سے ان کی دوستی رہی مگر اپنے لیے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ الٹا اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی داو پر لگائی سچ لکھ کر۔

 

سن بانوے میں یہ اچانک غائب ہوگے۔ خوب شور و غوغا ہوا کہ آسمانی فرشتے کسی براق کے ذریعے لے اڑے انہیں۔ چند روز بعد خود ہی گھر لوٹ آئے۔ بولے مارگلہ کی پہاڑیوں پر ٹہلتے ٹہلتے راستہ بھول گیا تھا۔ اس زمانے میں گوگل میپ یا جی پی آر ایس نہیں ہوا کرتا تھا۔ کچھ ہی عرصے بعد ایک ویگن نے انکی گاڑی کو ٹکر مار دی اور یہ ہڈی پسلی تڑوا بیٹھے۔ اسے بھی حادثے کا ہی نام دیا گیا۔ بہت برسوں بعد جب ہم نے بھی سچ لکھنا شروع کیا تو کچھ فرشتوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے سمجھایا کہ ابھی تم بچے ہوں۔ یہ سچ مچ میں نہ لکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو تم بھی ٹہلتے ٹہلتے راستہ بھول جاو یا تمہاری کھٹارہ کو بھی کوئی ویگن پیچھے سے یا آگے سے ٹکر مار دے۔ یاد آیا اسوقت نصرت کے پاس ایک سفید رنگ کی سوزوکی ایف ایکس ہوا کرتی تھی۔ ہمارے پاس بھی وہ ہی تھی مگر رنگ بیج یا خاکستری تھا۔ اس دن سمجھ آیا کہ کہاں رستہ بھول گئے تھے یہ۔

 

فرشتے نے ہمیں یہ جملہ بھی بولا جو کہ یاد رہ گیا کہ نصرت ایک ایسا سکہ ہے جس کے تمام کونے گھس چکے ہیں اور اب وہ گول ہو چکا ہے اور بڑی روانی سے چلتاپھرتا ہے۔ اب سمجھ میں نہیں آتا اگر یہ درست ہے تو پھر پروگرام کیوں بند ہوا۔ خیر یہ وقت بھی گذر جائیگا۔ ان کا پروگرام انشاللہ دوبارہ کھل جائیگا اور یہ پھر سے سرخی پاوڈر لیپ کر نئے نئے سیاپے شروع کر دینگے۔ اور یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر لی ہے۔ ساٹھ کے بعد تمام عظیم انسان یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ زندگی میں کیا کیا تیر اور چولیں ماریں۔ کچھ کے بارے میں کہا جاتا ہے

Better late than never

اور کچھ کے بارے میں یہ کہ بلی چلی حج کو نو سو چوہے کھانے کے بعد۔

 

لیکن نصرت کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں کہنا۔ ہم پہلی ہی ملاقات میں تاڑ گئے تھے کہ یہ اندر سے صوفی ہیں۔ ان کا چال چلن، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا اور اوڑھنا بچھونا صوفیوں ہی جیسا تھا۔ اب گوشہ نشیں ہو  ہی گئے ہیں تو چاہیے کہ کچھ ڈھنگ کا کام کر کے عاقبت ہی سنوار لیں۔ آنے والی نسلوں پر احسان ہو گا۔ یہ چھیتھڑوں میں جن میں اگلے دن نان بکتے ہیں کالم لکھنا چھوڑ کر کوئی “شہاب نامہ” ٹائپ معرکعتہ لاآرا تصنیف رقم کریں اگلے پچاس برس کتابوں کی الماری میں رونق رہے گی۔ یا مارگلہ کی کسی پہاڑی پر آستانہ لگائیں۔ ٹی وی چینلز پر بھانڈ بازی کا تجربہ یہاں بہت کار آمد ثابت ہو گا۔ واصف علی واصف کی طرح ایک درویشانہ میراث چھوڑ کر جائیں۔

واصف علی واصف سے جڑا ایک واقعہ یاد آگیا جو بہ زبان سرمد ہم تک پہنچا۔ ایک دفعہ مرحوم منیر نیازی اور اشفاق احمد واصف صاحب کے پاس قرآن مجید کی تشریح سننے گئے۔ واصف صاحب نے کہیں نیازی صاحب کے کسی شعر پر خفیف سی تنقید کردی۔ نیازی صاحب کہاں تنقید برداشت کرتے تھے۔ جھٹ سے قرآن بند کیا، اور کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے دریافت کیا خیریت تو ہے۔ بولے “جہنوں میرا شعر سمجھ نہیں آیا انہوں قرآن کی سمجھ آنااے!” 
Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *