Type to search

انسانی حقوق جمہوریت سیاست فیچر

‘ہم بھارتیوں کے ہاتھ ہزاروں کشمیریوں کے خون سے رنگے ہیں’

ادارتی نوٹ: یہ تحریر بھارتی ویب سائٹ thequint.com سے قارئین کی دلچسپی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے خصوصی طور پر ترجمہ کی گئی ہے۔ تمام تصویریں جو یہاں استعمال کی گئی ہیں وہ اسی ویب سائٹ سے لی گئی ہیں۔

کشمیر کی انتشار سے پُر وادی میں بتیس سالہ محمّد رفیع بھٹ اس وقت اپنی نوجوانی میں قدم رکھ رہا تھا جب 90 کی دہائی میں بغاوت اپنے عروج پر تھی۔ 2008 اور 2010 کی امرناتھ لینڈ کی احتجاجی تحریک کے دوران ہونے والے واقعات نے اس کو خاصا پریشان کیا۔ لیکن یہ 2016 میں برہان وانی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے حالات ہی تھے جنہوں نے غالباً اسے یقین دلا دیا کہ اسے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر لینی چاہیے۔

جامعہ کشمیر کے شعبہ سماجیات میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر کام کرنے والے رفیع کے متعلق جمعہ 4 مئی کو پتہ چلا کہ وہ ہوسٹل سے غائب ہے۔ اس پُراسرار گمشدگی کے بعد ان کی پہلی اور آخری بار اپنے خاندان سے بات اتوار 6 مئی کی صبح اس وقت ہوئی جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گاؤں بڈیگم میں ایک گھر کو گھیر رکھا تھا۔ اس گھر میں چھپے عسکریت پسندوں کی جانب سے کی گئی ایک فون کال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پکڑ لی تھی۔

جب اس کی موت کی خبر فیس بک پر پھیلی، جہاں رفیع خاصا مقبول تھا، تو یونیورسٹی کے کچھ طلبہ اور اساتذہ کے ایک گروپ نے جائے وقوعہ پر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے ہی، پولیس کی ایک پارٹی پکڑی گئی کال کے بعد وسطی کشمیر کے ضلع گندربل پہنچی تھی اور ان کے خاندان کو اس بات پر آمادہ کر چکی تھی کہ وہ ان کے ساتھ چل کر رفیع کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں۔

مذہبی جنونی نہیں، ضمیر کا قیدی

“مجھے اس میں کبھی ایک مذہبی انتہا پسند نظر نہیں آیا”۔ یہ کہنا تھا امیش اننی کا، جو کہ کیرالہ سے تعلّق رکھنے والے ایک محقق ہیں اور گزشتہ دسمبر جب جامعہ کشمیر گئے تھے تو رفیع سے ان کی کافی اچھی دوستی بھی ہو گئی تھی۔ “وہ ہمیشہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی فوج کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں بات کرتا تھا۔ وہ خون خرابے سے پریشان اور کشمیر کی آنے والی نسل پر اس کے اثرات بارے فکر مند رہتا تھا۔ وہ اکثر کہتا تھا کہ بھارت معاشرے میں تقسیم پیدا کر کے کشمیری شناخت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔”

پونے سے تعلّق رکھنے والے اننی کو جب فیس بک کے ذریے رفیع کی موت کے متعلق پتہ چلا تو وہ بھی رفیع کے دیگر دوستوں اور خاندان والوں کی طرح حیران رہ گئے۔ “وو ایک نرم خو اور منکسر المزاج شخص تھے جو سیاسی جد و جہد میں تشدّد کے قائل نہیں تھے۔ وہ جب بھی مجھ سے کشمیر کے متعلق بات کرتے تو امن کی بات کیا کرتے تھے”۔ یہ کہنا تھا دبیش آنند کا جو لندن کی University of Westminster میں پڑھاتے ہیں اور کچھ سال پہلے جب کشمیر آئے تھے تو ایک نوجوان رفیع سے ملے تھے۔

جمعے کی دوپہر، جب وہ اس خوفناک تشدد کا ایک اور نشانہ بنے، رفیع، جنہوں نے نئی دہلی کی جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں داخلے کی فہرست میں نام ہونے کے باوجود جامعہ کشمیر سے PhD کرنے کا فیصلہ کیا تھا، نے معمول کے مطابق اپنے شاگردوں کو ایک لیکچر دیا اور اپنی بیوی، جن سے انکی شادی پانچ سال قبل ہوئی تھی، سے فون پر بات کی اور جلد واپسی کا وعدہ بھی کیا۔

لیکن انہوں نے یہ وعدہ پورا نہ کیا۔

ایک دوست کے الفاظ میں اس “دانشوروں میں دانشور”، جو کہ علم کی دنیا کا ایک روشن سترہ تھا، کی موت سے پہلے ایک باغی بن جانے نے رفیع کی کہانی کو پہلے ہی متاثر کن بنا دیا ہے۔ “ان کے تمام شاگرد چونک گئے ہیں۔ اس بات کا یقین کرنا انتہائی مشکل ہے کہ ہمارے ہر دلعزیز استاد اب ہم میں نہیں رہے۔ ہم نے جمعے کے دن ہی انہیں ایک نئی گھڑی تحفے میں دی تھی لیکن کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ ہماری ان سے آخری ملاقات ہوگی”، سماجیات کے شعبے میں زیر تعلیم ایک طالب علم نے نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا۔

“اس نے ہتھیار اٹھانے سے پہلے بہت کچھ برداشت کیا ہوگا۔ مجھے اس لئے بھی شدید تکلیف کا سامنا ہے کہ میرے ہاتھ بھی اس کے خون سے رنگے ہیں۔ ہم بھارتیوں کے ہاتھ ہزاروں کشمیریوں کے خون سے رنگے ہیں جس کا بدل کوئی معافی یا معاشی پیکج نہیں ہو سکتا”، اننی نے کہا۔

جنوب میں ہونے والے خون خرابے سے زائل ہونے والے مفروضے

وادی کے چار جنوبی اضلاع، شوپیاں، پلوامہ، کلگام اور اننتناگ، حالیہ عسکریت پسندی کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں اور اس سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہاں شدید کارروائیاں کی ہیں۔ جہاں عسکریت پسند بڑی تعداد میں مارے گئے ہیں، وہیں عام شہری آبادی کو بھی بخشا نہیں گیا۔

حالیہ دنوں میں جموں کشمیر پولیس میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، نثار بخشی، نے اداروں پر ‘غنڈہ گردی’ کا الزام لگایا۔ اس نے اپنے گھر کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں، اور اننتناگ میں واقع اپنے گھر کے احاطے میں موجود تباہ شدہ سواریوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیں جن پر ‘تحفّظ فراہم کرنے والے اداروں’ نے اپنا غصّہ نکالا تھا کیونکہ ان کے قافلے پر عوام نے پتھراؤ کیا تھا۔ اور یہ عام لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر ایک پولیس والے کی کشمیر میں یہ حالت ہے تو عام لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔

وادی میں جاری ‘خاموش جنگ’ کے دوران روزانہ ایک سے دو افراد کے قتل کی خبریں آیا کرتی تھیں۔ آج، ‘قتل ہونے والوں کی فہرستیں’ دسیوں نہیں بسوں نام رکھتی ہیں۔ جہاں بڈیگم میں اتوار کے روز 11 لوگ مارے گئے، وہیں گزشتہ ماہ شوپیاں میں ایک خون کی ہولی کھلی گئی جس میں 20 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ سال کشمیر کے اوائل 1990 کے پر آشوب مہ و سال کی یاد تازہ کر رہا ہے۔

ڈاکٹر بنتے، انجینرنگ پڑھتے، رفیع جیسے پڑھے لکھے لوگ کشمیر کی اس المیہ کہانی کو اب اپنے خون سے سیراب کر رہے ہیں۔ یہ خون اس پرانی سوچ کو تبدیل کر رہا ہے کہ غریب آدمی کا ان پڑھ بیٹا ہی پچھلی تین دہائیوں سے اس جنگ کا ایندھن ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *