Type to search

افسانہ خواتین سماج فیچر

بیگم با اختیار: ’عورت کا جو تصور ڈپٹی نذیر چھوڑ گئے بیگم بااختیار اسکے برعکس ہیں‘

عورت کا جو تصور ڈپٹی نذیر چھوڑ گئے بیگم بااختیار اسکے برعکس ہیں۔ شکر ہے آج وہ ہمارے بیچ نہیں ورنہ بیگم کا انداز زندگی انہیں خود سوزی پر مجبور کر دیتا۔

ڈپٹی صاحب نے اپنی تصانیف میں اس بات کا بڑھ چڑھ کر پرچار کیا کہ بیٹیوں کے والدین انہیں محض کھانا بنانے، جھاڑو، ٹاکی پونچا، سلائی کڑھائی بُنائی، کپڑے دھونے، ہر سال بچہ پیدا کرنے، شوہر کے گھر آنےپراسکے پیر دبانے، وظیفہ زوجیت کے لئے ہر گھڑی تیار رہنے، ساس سسر کی خدمت جی حضوری کرنے وغیرہ وغیرہ کے فن میں جنکے لئے اصطلاح “امورِ خانہ داری” گھڑی گئی یکتا کریں، ورنہ انہیں طلاق ہووے ہی ہووے۔

بیگم کے والد مرحوم (جنکا نام بھی اتفاق سے “نذیر” ہی تھا)نے ڈپٹی صاحب کی تمام تصانیف کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد انہیں “ڈسٹ بن برد” کیا اور ان کی تعلیمات کے برعکس بیٹی کی پرورش کی۔ نتیجتاً بیگم نے جلد ہی ڈپٹی صاحب کو غلط ثابت کر دیا۔

بیگم کتنی بڑی افسر ہیں یہ انکے دفتر کے کمرے کا حجم دیکھ کر معلوم پڑے گا۔ پورے بیس کنال پر ہے۔ ہوئی نہ حیرانی! ایک نہیں ڈھیر سارے کمروں میں۔ یہ لیپ ٹاپ لیکر جس کمرے میں گھس جاویں وہی دفتر بن جاوے۔ اب آپ سوچیں کونسا دفتر بیس کنال پر ہووے۔ بھئی یہ انکا گھر ہے۔ زیادہ تر دفتری معاملات ادھر ہی نمٹائے جاتے ہیں۔ نگوڑا انٹر نیٹ جو آ گیا ہے!

دفتر بھی جاتی ہیں اگر اہم میٹنگ ہو۔ مگر دفتر کا کمرہ انکے پاوڈر روم سے بھی چھوٹا ہے۔ چونکہ افسر بڑی ہیں اور دکھنا بھی مصروف چاہیے۔ جگہ دائیں بائیں کھلی ہو تو فائلیں، کتابیں پھیلانے کا لطف بھی آتا ہے۔

گھر سے کام کرنے میں سہولت رہتی ہے۔ اور بذریعہ انٹرنیٹ محمود و ایاز کو گاجر یا چھڑی سے حسب لیاقت نوازا بھی جا سکتا ہے۔ محمود سے باس اور ایاز سے ماتحت مراد ہیں۔

بیگم سچ بات بلا خوف و خطر کہنے کی عادی ہیں مگر سفارتی انداز میں۔ مثلاً اگر وہ اپنی خواب گاہ میں جمورا صاحب (شوہر نامدار) کے ہمراہ ہیں اور سونا چاہتی ہیں۔ مگر جمورا صاحب کتاب پڑھ رہے ہیں اور سونے کے موڈ میں ہر گز نہیں ہیں تو یہ کچھ ایسے مخاطب ہونگی: “آپ تھک گئے ہونگے۔ رات بھی کافی بیت چکی ہے۔ اب سو جائیں!”

جمورا صاحب سدا کے سادے۔ خوش ہو جاتے ہیں بیگم کی دردمندی پر۔ مگر بلا کے غیر سفارتی اور غیر پارلیمانی انسان ہیں۔ جھٹ سے کہتے ہیں: “نہیں بیگم میں بالکل تھکا ہوا نہیں۔ سو فیصد تروتازہ ہوں!”

“ابے تجھے عزت راس نہیں آتی۔ میں تھکی ہوئی ہو۔ چل لائیٹ آف کر اور سو جا۔ اور اگر اتنا ہی شوق ہے پڑھنے کا تو گلی میں کھمبے پر سپیشل بلب لگا ہوا ہے۔ اسکے نیچے بیٹھ کر پڑھ!” بیگم کی سلیس زبان جمورا صاحب فی الفور سمجھ کر باہر نکل جاتے ہیں۔

گھر سے کام کرنے میں مگر ایک قباحت رہتی ہے۔ بچے کرونا وائرس کی بدولت اسکول والا ادھم بھی گھر ہی مچائے رکھنے پر مجبور ہیں۔ چونکہ یہ ہر لمحے کسی نہ کسی تخلیقی عمل (جسے انگریزی میں بیوروکریٹک بھی کہتے ہیں) سے گذر رہی ہوتی ہیں، بچوں کا شور بے ہنگم انکی یکسوئی  کا تیا پائنچہ کر دیتا ہے۔ مجبور ہو کر یہ علی الاصبح قریب دوپہر دو بجے دفتر کی راہ لیتی ہیں۔

جمورا صاحب اعلی پائے کے صحافی، ادیب و شاعر ہیں جنکے یو ٹیوب پر لاکھوں پرستار ہیں۔ بیگم کا ماننا ہے یہ پرستار ان ہی کی پیدوار ہیں۔گذشتہ پندرہ سال رات دن ایک کر کے جعلی اکاؤنٹ بنا بنا کر انہوں نے اپنی لمبی چوڑی فالونگ تخلیق کی ہے۔ سچ کیا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال یہ ملکی غیر ملکی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ کمائی بھی کر ہی لیتے ہیں جس سے بیگم کی کم از کم ایک لپ اسٹک تو آ ہی جاتی ہے۔

جب بیگم شکر دوپہر (اپنے تئیں صبح کاذب) بچوں کے شور سے گھبرا کر دفتر جاتی ہیں تو جمورا صاحب بھنا کر کہتے ہیں: “یہ ای میل لکھنا پڑھنا کب سے تخلیقی کام ہو گیا۔ مجھے دیکھو۔ غزل، نظم، کہانی، افسانہ، ناول، تحقیقاتی مراسلے اور جانے کیا کیا چوبیس گھنٹے کے مسلسل شور شرابے میں رقم کر دیتا ہوں۔ پھر بھی وقت مل جائے تو طبلہ بھی بجا لیتا ہوں۔ اگر غالب یا شیکسپیر میری جگہ ہوتے تو قلم چھوڑ کر قلفی بیچ رہے ہوتے۔ اس پر بیگم کہتی ہیں قلفی ہی بیچتے تو کیا اچھا ہوتا۔ اس کام میں زیادہ پیسہ ہے اور مغز ماری صفر۔ مجھے دیکھو ایک ایک ای میل لکھ کر لاکھوں کماتی ہوں۔

بیگم دفتر اور یہ بچوں کی آیا بن جاتے ہیں۔ بیچ میں اگر سکوں کے چند پل میسر ہو جائیں تو لکھنا پڑھنا شروع کر دیتےہیں۔ اسی دوران ان کو رہ رہ کر  یہ خیال بھی ستاتا ہے کہ کیوں نہ ڈپٹی صاحب کی تخلیق کردہ عورت سے شادی کی۔ ورکنگ لیڈی وہ بھی ہائی پروفائل ایک وبال جاں سے کم نہیں۔ پر یہ ان کی لو میرج تھی۔ دراصل انہیں بیگم نے ہی پروپوز کیا تھا اور یہ ساری عمر اسی زعم میں رہے کہ دیکھو ایک معمولی رائٹر کی شان۔ اتنی بڑی وی آئی پی ورکنگ لیڈی خود انکے حلقہ زوجیت میں داخل ہوئی۔ سادے تھے سمجھ نہ سکے کہ بیگم کو ایک عدد فرمانبردار نوکر جسے تنخواہ بھی نہ دینا پڑے شوہر کی شکل میں درکار تھا۔

رات آٹھ یا نو کے درمیاں جمورا صاحب کسی تخلیقی عمل میں غرق ہونگے کہ ان کی سوچوں کا سلسلہ یکدم بیگم صاحبہ کی گاڑی کے چنگھاڑے ہوئے ہارن کے بھاگوں ٹوٹ جاوے گا۔ یہ بات بتانا بھول گیا کہ انہیں نوکر نہیں ملتا باوجود یہ کہ یہ تنخواہ بہت اچھی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے بیگم نے ان سے شادی رچائی کہ آنٹرے پری نیور تھے۔ نو سے پانچ نوکری کی ذلت سے پاک۔ کیوں نہ انہیں نئی قسم کی ذلت سے دوچار کیا جائے شوہر کے رول میں خانساماں، گیٹ کیپر، مالی، وغیرہ کا بھی کردار جمع کر کے۔

یہ بیگم کے سب ہی کچھ تھے سوائے ڈرائیورکے کیونکہ بیگم کو ڈرائیونگ سے عشق تھا۔ گاڑی کو کسی لڑاکا طیارے کی طرح بغیر لائسنس بنا کاغذات اسطرح اڑاتیں کہ جمورا صاحب کا دم ہی نکل جاوے۔ اگر یہ رفتار کم کرنے کی درخواست کرتے تو فرماتیں کاہے کو فکر کرتے ہو جی آپ تو بیمہ شدہ ہیں۔

ایک دفعہ بیگم نے لال بتی والا اشارہ توڑا۔ انسپیکٹر تھا۔ بیگم نے اسے گاڑی کی چابی تھمائی اور کہا کہ نہ تو انکے پاس لائسنس ہے اور نہ ہی گاڑی کے کاغذات۔ گاڑی آفیشل ہے۔ بند کر دیجئے۔ مجھے کریم کروا دیں۔ ان کہ دیدہ دلیری نے انسپیکڑ کے چھکے چھڑا دیے۔ چابی بیگم کو تھما یہ جا وہ جا!

اب یہ بھنا کر موٹی سی گالی دھرپدی انگ میں دل ہی دل میں اپنے آپ کو دیکرپیر پٹختے جاتے ہیں گیٹ کھولنے۔ ابھی لاونج تک ہی پہنچے ہونگے کہ بیگم کا فون آتا ہے اور ساتھ ہی ہارن دوبارہ چنگھاڑتا ہے۔ یہ دل ہی دل میں کہتے ہیں: ‘بہت ہی بے صبری عورت ہے!’

خیر گرتے پڑتے، مرتے کھپتے، ہانپتے کانپتے پسینے میں شرابور گیٹ تک پہنچتے ہیں۔ بیگم گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہو جاتی ہیں۔ یہ ویلے کی طرح گاڑی اندر لے آتے ہیں۔ گاڑی میں سے سامان نکالتے ہیں اور ساتھ ہی چلانا شروع ہو جاتے ہیں۔ اب یہ ایسے بھی جمورے نہیں کہ بیگم کے سامنے چوبیس گھنٹے بھیگی بلی بنے رہیں۔ دماغ بھنوٹ ہو جاوے تو بیگم کی بھی طبیعت صاف کر دیتے۔ ویسے  بیگم کو ان کا یہ انداز بے حد پسند تھا مگر اندر ہی اندر۔ اوپر اوپر سے وہ اس انداز تکلم کی بھرپور مذمت کیا کرتی تھیں۔

“ارے آج پھر آپ دس بیس سیر نئی کتابیں لے آئیں۔ ہزاروں کی تعداد میں جو پہلے سے ہی گرد چاٹ رہی ہیں وہ تو پڑھ لیجئے۔” بیگم کے گھر میں قریب دو درجن کمرے ہیں۔ ایک درجن میں تو کتابوں نے ڈیرہ جمایا ہوا ہے۔ باقی کمرےجو رہائشی استعمال سے بچ گئے ان کے کپڑوں، جوتوں اور دیگر آرائش کے ساماں سے اٹا اٹ بھرے پڑے ہیں۔ بیگم کا لان کوئی پچیس کنال کا ہے۔ روز جمورے صاحب کو کہتی ہیں کہ آدھے پر کمرے ڈلوا دو۔ نت نئے برانڈ روز بروز متعارف ہو رہے ہیں۔ سیل لگ رہی ہے مگر گھر میں جگہ ہی نہیں رکھنے کی۔ جمورا صاحب بھی ہاں میں ہاں ملا کر سنی ان سنی کر دیتے۔

“اجی یہ کام کا لٹریچر ہے۔ وہ پھٹیچر نہیں جو آپ ٹنوں کے حساب سے روز لکھتے ہیں۔” بیگم تنک کر جواب دیتی ہیں۔

“کتابیں ضرور خریدیں مگر ردی اکھٹا کرنے کی غرض سے نہیں۔ پڑھتی تو آپ ہیں نہیں!”

“جب پڑھنے بیٹھتی ہوں تو آپ شکایت کرتے ہیں کہ ہر وقت کتابیں ہی پڑھتی رہتی ہوں۔ انسان بھی کسی حال میں خوش نہیں رہتا!”

چپ ہو جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ جب آدم نہ سمجھا سکےحوا کو تو بندہ کیا بیچتا ہے!

“اچھا یہ ڈھیر سارے جوتے، ملبوسات، پرفیومز اور میک اپ کا سامان۔ یہ پھر لے آئیں آپ گاڑی بھر کے۔ اگر آپ دن میں دو بار بھی لباس تبدیل کریں تو رہتی زندگی تک یہ ہی نہیں ختم ہونیوالے جو آجکل چوہے کتر رہے ہیں۔”

“چوہے یوں کتر رہے ہیں کہ آپ مزید کمرے جو نہیں تعمیر کرواتے۔ جب اللہ نے دیا ہے تو کیوں نہ خرچ کروں؟ آپ جانتے نہیں کتنے گھروں کا چولہا جلتا ہے میری شاپنگ کی بدولت!”

“پر کریڈٹ کارڈ تو آپ اللہ میاں کا نہیں میرا استعمال کرتی ہیں! اس سے ہی سب کا چولہا جل رہا ہے” جمورا صاحب یاد دلاتے ہیں۔

“آپ کو بھی اللہ نے میرے طفیل ہی نوازا ہے۔ دولت عورت کی وجہ سے  ہی آتی ہے مرد کے پاس!” بیگم انہیں یاد دلاتی ہیں۔ خیر یہ چپ ہو جاتے ہیں۔

“کھانے میں کیا ہے؟” بیگم پوچھتی ہیں۔ “وہی ہے جو کل پکایا تھا۔” جمورا صاحب جواب دیتے ہیں۔ یہ بلا کے شیف ہیں۔ انتہائی ذائقے دار کھانا بناتے ہیں۔

“آپکو معلوم ہے میں روز روز ایک ہی کھانا نہیں کھا سکتی۔ مجھ سے دیوانہ وار محبت کا دعوی تو کرتے ہیں مگر تازہ کھانا نہیں بنا سکتے!”

بیگم کا شکوہ سن کر جمورا صاحب فون کر کے فوڈ پانڈہ سے تازہ کھانا جو دراصل باسی تواسی ہوتا ہے منگواتے ہیں جو بیگم شوق سے تناول فرماتی ہیں۔ پھر اسکے بعد ان سے کہتی ہیں کہ وہ بہت تھک گئی ہیں۔ آرام کرنا چاہتی ہیں۔ بچوں کو کھانا کھلا کر سلا دیجئے گا اور اگر صبح سکول جانا ہو تو اٹھ کر تیار کروا کے چھوڑ بھی آئیے گا۔ جمورا صاحب کہتے ہیں: “جی جناب!” اور ویسا ہی کرتے ہیں جیسا حکم صادر ہوا تھا۔ رات گئے ساڑھے تین بجے تک کام کرنے کے باوجود تمام امور خانہ داری احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں بالکل ڈپٹی نذیر احمد کی اصغری کی طرح!

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *