Type to search

تجزیہ

پاکستان کی عدلیہ: کیا وجہ ہے کے عوام جسٹس کیانی، کارنیلیئس کی عزت کرتی ہے اور جسٹس کھوسہ، اور ثاقب نثار کی نہیں؟


28 ستمبر 2019 کو اپنے کالم ” دائروں کا سفر” میں عرض کیا تھا کہ ‘ اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی اپنا کام نہیں کرتا البتہ دوسرے کے کاموں میں دخل دینا فیشن بن گیا ہے۔ ڈاکٹر حضرات طب کا پیشہ چھوڑ کر ٹی وی اینکر بن بیٹھے ہیں۔ کرکٹ کے ریٹائرڈ کھلاڑی کو کھیل کی بہتری کے لئے کرکٹ بورڈ میں لگانے کے بجائے ملک کا وزیراعظم بنا دیا جاتا ہے۔ ججز موومنٹ کے بعد وکلا کسی قانون کے تابع نہیں رہے، وہ اب ججز کو احکامات جاری کرتے ہیں اور تعمیل نہ ہونے پر عدالتوں کو تالے لگا دیتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے ججز واٹس اپ پر احکامات وصول کر کے جے آئی ٹی بناتے ہیں۔
سینیٹ کے انتخابات کے بارے میں حکومتی ریفرنس پر عدالت عظمیٰ میں سماعت جاری ہے۔  عدالت عظمٰی میں اب تک کی بحث سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہمارے معزز جج صاحبان کی ایک خواہش تو یہ ہے کہ سینیٹ میں ڈالے گئے ووٹ کی پڑتال ہو سکے اور دوسرے یہ کہ جس جماعت کے اسمبلی میں جتنے ممبر ہیں اس حساب سے اسے سیٹیں ملنی چاہیئے ہیں۔ اب اس مسئلہ پر چیف الیکشن کمیشنر صاحب نے جو مؤقف اپنایا ہے وہ عین آئین کے مطابق ہے۔  پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر اسمبلی میں کسی جماعت کے ممبران کی تعداد پر ہی سینیٹ کی نشستیں ہونی چاہیئے ہیں تو پھر انتخابات کرانے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کے ممبران کے حساب سے سینیٹ کی نشستیں تقسیم کر سکتا ہے۔ اس میں نہ ووٹ بکے گا نہ ہی جماعتوں کے سربراہ ہیجان میں مبتلا ہونگے اور نہ ہی اتخابات کے انتظامات پر کروڑوں کا سرمایہ برباد ہوگا۔
ہمارا مقصد نہ ہی عدالتوں پر تنقید کرنا ہے اور نہ ہی کسی جماعت کی حمایت مقصود ہے بلکہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جس چیز پر آئین پاکستان واضح ہے اس پر بحث کی کیا ضرورت ہے۔
ہماری عدالت عظمٰی چیف الیکشن کمشنر سے یہ پوچھ رہی ہے کہ 2018 میں سینیٹ انتخابات کے دوران جو رقوم تقسیم کی گئیں کیا آپ نے اس کا کوئی نوٹس لیا؟ اگر توہین عدالت نہ ہو تو پوچھا جا سکتا ہے کہ مرحوم جج ارشد ملک کی اعترافی ویڈیو کا معزز عدالت نے کوئی نوٹس لیا؟
کیا عدالت عظمٰی نے چیئرمین نیب کی ویڈیو آنے کے بعد کوئی نوٹس لیا؟ کیا یہ وہی چیئرمین نیب نہیں جنہیں صرف حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے؟ معذرت کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ آپ خود یہی کام کر رہے ہیں۔ کیا بِی آر ٹی منصوبے میں کرپشن کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو آپ نے ہی ‘سٹے’ آرڈر نہیں دیا۔
بیشک عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن یہ بھی انسان کے اعمال کے مطابق ہوتی ہے۔ ادارے سب ہی محترم ہوتے ہیں کیونکہ وہ ملک کے ہوتے ہیں اور عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں لیکن ان اداروں میں موجود افراد کی عزت انکے اپنے اعمال سے مشروط ہے۔ کیا وجہ ہے کہ قوم آج بھی جسٹس کیانی، جسٹس کارنیلیئس وغیرہ کو یاد کرتی ہے؟ کیوں جسٹس منیر، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ عوام میں عزت نہ پا سکے؟ ظاہر ہے انکا اعمالنامہ بغض اور دباؤ کے تحت کی گئی نا انصافیوں سے بھرا ہے۔ آج بھی ہماری عدالتوں میں ایسے منصف بیٹھے ہیں قوم جنکی عزت کرتی ہے لیکن ساتھ ہی برادارانہ یوسف بھی موجود ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جب براڈشیٹ کیس میں کاوے موسوی نے پاکستانی عدالت کا فیصلہ برطانوی عدالت کے سامنے رکھا تو جج صاحب نے اسے پر کاہ کی بھی اہمیت نہ دی۔ رب کائنات نے اگر عدل کا میزان آپ کے ہاتھ میں دیا ہے تو آپ کو ہر دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلہ کرنا ہو گا چاہے وہ کسی کو پسند آئے یا نہیں کیونکہ روز محشر آپ کو بھی اپنے اعمال کا حساب اس منصف کو دینا ہے جو آپ کے اعمال کے مطابق فیصلہ دے گا۔
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *