Type to search

تجزیہ جمہوریت

وزیر اعظم کا ملالہ کو جواب

قلندر اپنے وسیع مرید خانے میں فرش پر بچھے ہاتھ کے بُنے بیش قیمت ایرانی قالین پر بیٹھا تین تال اتی درت لے میں بجا رہا تھا۔ سامنے اسکی مریدنی ریشماں پاؤں میں گھنگھرو باندھے محو رقص تھی۔ سب مرید واہ واہ سبحان اللہ سبحان اللہ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ لے کا آخری درجہ بھی ختم ہو چکا تھا۔ سم بہ سم لے تھی۔ نہ ریشماں نہ ہی قلندر رکنے کا نام لے رہے تھے۔ وہ ذرا سے لے بڑھاتی تو قلندر بھی اتنی ہی لے بڑھا دیتا۔ دونوں ہی دل ہی دل میں ایک دوسرے کو کوس رہے تھے۔ ریشماں سوچ رہی تھی کہ آج اس اتائی طبلئیے کا نا دھن دھن نا گھسیڑ کر رکھ دونگی۔ اور قلندر یہ ٹھانے بیٹھا تھا کہ یہ حرافہ اپنے آپ کو بہت تیار اور لے کار سمجھتی ہے۔ آج اسے ایسا تگنی کا ناچ نچاؤں گا کہ غش کھا کر گر پڑے گی۔ لیکن دونوں کی ریاضت بے انتہا تھی۔ قلندر کی بطور اتائی اور ریشماں کی بطور کنجری۔

 

اب معاملہ انا کا بن چکا تھا۔ ریشماں چاہتی تھی کہ قلندر کا ہاتھ تھکے اور وہ تہایہ مار کر سم پر آوے۔ قلندر چاہتا تھا کہ ریشماں چکردار لیوے اور اسکے ساتھ وہ سم مار دے۔ لمحہ یہ آن پہنچا تھا کہ اگر یہ خود نہ رکے تو ایک نہ ایک کو تو دل کا دورہ پڑے ہی پڑے۔ بھلا ہوں قلندر کے مرید حاجی کذاب  کا جو یکدم وارد ہو گیا اور آتے ہیں قلندر کے پاؤں میں گر پڑا۔ ساری محفل کا مزا کِر کرا ہو گیا مگر صرف مریدوں کی نظر میں۔ اندر اندر دونوں – قلندر اور ریشماں – نے شکر کیا کہ عزت بچ گئی اور دونوں چَھا چُھو بھی گئے۔

 

“ابے جاہل دیکھ نہیں رہا تھا کہ محفل عروج پر ہے۔ ایک دم طبلے پر گر گیا۔ ابے طبلے کو پیٹ رہا تھا تیری اماں کو نہیں!” قلندر غصے سے بولا۔

“معافی حضور معافی!لائف اینڈ ڈیتھ کا معاملہ نہ ہوتا تو ہر گز یہ گستاخی نہ کرتا،” حاجی کذاب بولا۔ یہ صاحب وزیرِاعظم کے میل مرشد ہیں۔ ان کا ان کی فی میل مرشد سے کوئی تعلق نہیں۔

 

“ابے جید جاہل اتی درت میں لے کا کام ہو رہا تھا۔ اس سے بڑی لائف اینڈ ڈیتھ ٹریجڈی کیا ہو سکتی تھی۔ بلڈی فول۔ یو ہیو نو مینرز،” قلندر بہت غصے میں ہو تو روانی سے انگریزی پھوٹ پھوٹ کر اس کے منہ سے نکلتی۔ “بول کیا مصیبت آن پڑی؟”

 

“حضور اپنے وزیرِ اعظم صاحب ایک مشکل میں ہیں۔ وہ ہے نہ ولایت میں ایک چھوکری ملالہ، اس نے ایک خط لکھ مارا ہے خان صاحب کو۔ پوچھتی ہے کہ احسان اللہ احسان کیسے فرار ہوا۔”

 

“ابے تو میں کیا کروں؟ یہ تو اس مرد مومن اپنے احسان بھائی سے پوچھ کہ وہ کیسے فرار ہوا۔”

“حضور کے علم میں نہیں کہ میں خان صاحب کا ڈی فیکٹو وزیرِ اطلاعات و نشریات ہوں۔ ابھی تک جتنی بھی معرکتہ لاآرا پریس ریلییزز ان کے نام سے مارکیٹ میں آئیں ہیں بندے نے ہی تحریر کی ہیں،” حاجی کذاب بولا۔

“اچھا تو وہ احمق تو تھا۔ مجھے تو پہلے ہی شک تھا کہ اپنا خان تو ولایت سے پڑھا ہے۔ ایسی چولیں نہیں مار سکتا۔ اب راز افشاء ہوا کہ وہ تو ہی ہے۔ کہیں یہ وہ تو نہیں، کہیں یہ وہ تو نہیں!” قلندرمدن موہن کا گانا جو لتا منگیشکر نے فلم حقیقت میں گایا تھا انتہائی سر میں گانے لگا۔ مریدوں نے واہ واہ شروع کی اور قلندر نے ڈانٹ کر کہا: “تم ہڈحراموں کو خوشامد کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے؟” سب یک زباں ہو کر بولے: “نہیں حضور!”

 

“تو کچھ بھی جواب دے دے جیسے پہلے دیتا رہا ہے۔ خانہ پری ہی کرنی ہے۔”

“نہیں حضور۔ وہ کوئی معمولی لونڈیا نہیں۔ کوئی اور ہوتا تو جواب دینے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ نوبل پرائز ملا ہوا ہے اسے۔”

 

“ابے نوبل پرائز تو ہر لچے لفنگے کو ملا ہوا ہے۔ دیکھ اپنے اوبامہ کو۔ اس سے زیادہ اس انعام کا حقدار تو اپنا ملک اسحاق یا ریاض بسرا تھا۔ اوبامہ سے زیاہ خدمات ہیں انکی انسانیت کیلئے۔” قلندر نے جواب دیا۔

 

“حضور ملک کی عزت کا معاملہ ہے۔ جواب تو دینا پڑے گا مگر ایسا ہو کہ سب کے منہ بند ہو جائیں۔”

“تو میں کیا کروں؟ میرا دماغ کیوں چاٹ رہا ہے؟”

“حضور کا اقبال بلند ہو۔ آپ ایسا دانشور کہاں اس خلقتِ خدا میں۔ سب اس امر پر متفق ہیں کہ اگر جواب آپ ڈرافٹ کر دیں تو ایسا مدلل ہو گا کہ کسی کی مجال نہیں مزید کچھ پوچھ گھاچھ کرے،” حاجی کذاب بولا۔

“ابے اردو تو درست بولا کر۔ پوچھ گھاچھ نہیں ‘پوچھ گچھ’ درست لفظ ہے،” قلندر نے پھرڈانٹ کر کہا۔

 

“دیکھا نہ حضور میں درست ہی کہہ ریا تھا۔ آپ ایسا علم کہاں کسی کے پاس اس دیار میں!”

“سالے خوشامد بند کر۔ ملک کی رسوائی کا معاملہ نہ ہوتا تو کبھی اس نیکی برباد گناہ لازم ٹائپ ٹنٹے میں نہ پڑتا۔ ابے چکرم جلدی سے قلم دوات لے کر آ۔”

 

“حضور قلم دوات رہنے دیں۔ یہ موبائل فون کے ریکارڈر میں ریکارڈ کروا دیں۔” حاجی کذاب بولا۔

“چل پھر کر ریکارڈ!” قلندر بولا۔

 

پیاری بیٹی ملالہ!

 

امید ہے تم خیریت سے ہو گی۔ ماشااللہ بہت بڑی ہو گئی ہو۔ اس بات کا احساس ضیاء بھائی کو بھی ستانے لگا ہے۔ تب ہی انہیں یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ اپنا جیون ساتھی تم خود چنوں گی۔

 

تم نے اپنے چچا اور تایا حضور سے جواب طلب کیا ہے کہ احسان اللہ احسان کیسے فرار ہوا۔ یہاں تک تو تمہارا ٹوئیٹ جواب کا حقدار ہے اور اگلی سطر میں جواب بھی ملے گا۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ تمہیں ولایت میں رہ کر بھی دوست اور دشمن میں فرق معلوم نہ ہو سکا۔ کوئی بات نہیں۔ بڑوں کا کام چھوٹوں کو سمجھانا ہی ہوتا ہے۔ دیکھو نہ مجھے بھی کئی باتیں تمہارے تایا جان ہی سمجھاتے ہیں۔ علم و حکمت و دانش کے ایسے ایسے نایاب موتی بکھیرتے ہیں کہ ان کے سامنے مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے آکسفورڈ میں بھی بھاڑ ہی جھونکی۔ انگریزی کا محاورہ رہ رہ کر یاد آتا ہے:

Casting pearls before swine

تو جواب حاضر ہے ہر سوال کا جو اٹھایا اور جو اٹھایا جا نہ سکا۔ پیاری بٹیا تمہیں کس نے کہہ دیا کہ تمہارا بڑا بھیا احسان اللہ احسان فرار ہو چکا ہے۔ بچپن میں تم میرے ساتھ چھپن چھپائی کھیلتی تھیں۔ میں اپنے بنی گالے کے بڑے سے محل میں کسی کونے کھدرے میں چھپ جاتا تھا۔ تم برسوں مجھے ٹیلو نہ کر پاتیں۔ تنگ آ کر میں اپنے آپ کو خود ہی تمہارے روبرو پیش کر دیتا۔ تم تو جانتی ہوں تمہارا احسان بھیا کتنا شرارتی ہے۔ کہیں چھپ گیا ہو گا۔ خود ہی سامنے آ جائے گا۔ محل کے چاروں طرف پہرے دار ہیں۔ محل سے باہر یا اندر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ جائے گا کہاں۔ جب بھوک سے تنگ آئیگا تو خود ہی ڈائننگ ٹیبل پر آ جاوے گا۔ تم بالکل بھی فکرمند نہ ہو بلکہ اپنے تایا سام سے پوچھوں کہ ملا عمر کس طرح ہنڈا 125 پر ان کی تحویل سے فرار ہو گیا تھا۔

 

اور بٹیا یہ تم نے بہت زیادتی کی کہ معصوم احسان کا ٹوئیڑ اکاؤنٹ بند کروا دیا۔ مومن کے جھوٹ ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ بنا تحقیق سنی سنائے باتیں اپنی وال پر شئیر کردے۔ بٹیا میں منہ نہیں کھولنا چاہ رہا تھا کہ کہیں تمہارا دل نہ ٹوٹ جائے۔ تم نے قرآن مجید میں حضرت موسی اور حضرت خضر کی ملاقات کا قصہ تو پڑھ ہی رکھا ہو گا۔ اگر نہیں پڑھا تو میں تمہاری چچی جان کو کہہ دونگا وہ تمیں سکائپ پر سنا دینگی۔ جمعے کے جمعے وہ اپنے تمام مریدوں سے آن لائن مخاطب ہوتی ہیں۔ بہت ہی روح پرور منظر ہوتا ہے۔ کروڑوں لائکس ملتے ہیں۔

 

ہاں تو میں ذکر کر رہا تھا حضرت موسی اور حضرت خضر کا۔ اس قصے کا لب لباب یہ ہے کہ حضرت موسی ہر سوال کا جواب جاننا چاہتے تھے۔ ہر سوال کا جواب جاننا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ چیزیں سوالات میں مصلحت اور مشیت ایزدی کی شکل میں پوشیدہ ہوتی ہیں جن کا نہ جاننا جاننے سے بہتر ہوتا ہے۔ دراصل اپنے ضیاء بھائی یعنی تمہارے والد گرامی تمہاری فورسڈ میرج کروانا چاہتے تھے اور پہلا پھسلا کر تمیں دوبارہ سوات لانا چاہتے تھے۔ تمہیں تو معلوم ہے ولایت یعنی برطانیہ میں فورسڈ میرج کتنا بڑا مسئلہ ہے اور اس حوالے سے یہ اسلامی قلعہ پاکستان بلاوجہ کتنا بدنام ہے۔

 

تمہارے احسان بھیا کو اس مذموم منصوبے کی بھنک پڑھ گئی۔ چونکہ پچپن سے محب وطن اور اسلام کا ادنی سپاہی ہے، تمہاری زندگی مکمل تباہی سے بچانے کی خاطر پرائی آگ میں کود پڑا۔ جیسے تیسے ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بنایا اور تمہیں دھمکی دے ڈالی تا کہ تم بھولے سے بھی سوات کا رخ نہ کرو۔ ادھر تم یہاں وارد ہوتیں ادھر جال تیار ہوتا۔ اور تمہاری باقی ماندہ زندگی اپنے شوہر، ساس سسر، دیوروں دیورانیوں، جیٹھ جھٹانیوں اور انکی چنڈال چوکڑی کی خدمت کرتے گذر جاتی۔ اور دوسری طرف تمام فیمینسٹ، عورتوں مردوں کے حقوق والی این جی او مفت میں مجھے، تمہارے تایا اور ہماری مملکت خداداد کو بدنام کرتیں۔ امید ہے اب تمہیں اس ٹوئیٹ میں موجود مصلحت اور مشیت کا پتہ چل گیا ہو گا۔ اور تمہارے چچا اور تایا کا تمہیں یہ مشورہ ہے کہ اس سے پہلے ضیاء بھائی کوئی نئی چال چلیں تم کوئی اچھا سا گورا یا کالا لونڈا دیکھ کر سول یا ڈی فیکٹو میرج کر ڈالو۔

 

ڈھیر ساری دعاؤں کیساتھ

 

تمہارا چچا کارتوس خان

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *