Type to search

ادب تجزیہ

بنا ہے ایڈیٹر پھرے ہے اتراتا!

قلندر کو جب اپنے جگری یار شاعر موسوی فرعونی کی یاد شدت سے ستانے لگی تو اس نے اپنے پرسنل سیکریڑی سید اسحاقے کنجر کو اس کا نمبر ملانے کو کہا۔ اسحاقے نے نمبر ملایا مگر فرعونی نے کاٹ دیا۔ اسحاقے نے جب یہ بات قلندر کو بتائی تو اس نے اسے ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے پوچھا: “کس کے نمبر سے ملایاتھا؟” سیکریٹری نے کہا کہ اس نے اپنے نمبر سے ملایا تھا۔ اس پر قلندر نے اسحاقے کی مزید عزت افزائی کرنے کے بعد کہا: “ابے تیرے نمبر کو وہ کیوں اٹینڈ کرے گا؟ میرے پرسنل نمبر سے ملا۔ خیر اسحاقے نے ویسا ہی کیامگر اس بار بھی کال کاٹ دی گئی۔ کچھ ہی دیر بعد فرعونی کا ایک لمبا چوڑا ٹیکسٹ میسج آیا جس میں فرعونی نے بعد از مکمل شرعی سلام اس کے خاندان کے ایک ایک فرد کی خیریت دریافت کی تھی۔ اور قلندر کو اس بچے کی پیدائش کی بھی مبارکباد دی تھی جو ابھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ پیغام کا اختتامی جملہ یہ تھا کہ فرعونی انتہائی مصروف تھا۔ سیکنڈوں کی بھی فرصت نہ تھی۔ مزید برآں اس وقت وہ ڈنر سے زلیخائی کر رہا تھا۔ اور کھانا ختم کرتے ہی فون کریگا۔

 

قلندر “او کے” لکھ کر معمولات زندگی میں مشغول ہو گیا۔ رات کو اس نے فرعونی کو خواب میں دیکھا۔ کسی خوبصورت لونڈیا کیساتھ فوٹو شوٹ کروا رہا تھا۔ سینے سے سینا جوڑے پوری بتیسی نکالے ہنس رہا تھا۔ لونڈیا عمر اور شکل میں تو فرعونی کے کام والی ماسی لگتی تھی لیکن فوٹوشاپ کے کمال نے اسے حسن آراء بنا دیا تھا۔ ویسے فرعونی خود کونسا جوان تھا۔ سٹھیاپے کے قریب قریب تھا۔ اس کی انقلابی شاعری سے دق ہو کر کچھ نان سٹیٹ اداکاراؤں نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ اللہ کا شکر ہے بال بال بچ گیا۔ بس اس حملے کے بعد فرعونی پر قسمت کی دیوی مہربان ہو گئی۔ سب سے پہلے تو فرعونی نے

Divided States of Africa

میں سیاسی پناہ لی اور اسی ملک کے خرچے پر پلاسٹک سرجری کرائی۔ اتنا حسین ہو گیا کہ سب غیور پستہ بادام اور ریت والی چھلی بیچنے والے عاشق ہو گئے۔ شکر ہے ملک میں نہ تھا ورنہ ان ہی عاشقوں کے ہتھے چڑھ جاتا۔ اس کے بعد ادھر سے جو بھی ایرا غیرا نتھو خیرا، لچا لفنگا ٹچا فرعونی کے نئے مادرِوطن میں ہوتا اس سے ملنے پہنچ جاتا یا پہنچ جاتی۔ پھر ایک فوٹو شوٹ ہوتا۔ اگر تو ملاقاتی مرد ہوتا تو فرعونی کی تصویر اور مہمان کی تصویر کے درمیان ایک وسیع و عریض صوفہ (جو حلئیے سے کرائے کا لگتا تھا) ہوتا جو دونوں شخصیات کے درمیاں اسں سے زیادہ فاصلہ پیدا کر دیتا جو کرونا وائرس کی بدولت دو اشخاص کے درمیاں لازم ٹہرا۔ لیکن اگر مہمان خصوصی کوئی فردوس، ہیما مالنی، ریکھا یا بھاری چھاتیوں والی زینت امان ہوتی تو صوفہ ایسے غائب ہو جاتا جیسے کوئی بلوچستان کا غریب باشندہ ہو۔ صف باندھ کر سینہ بہ سینہ جب تصویر بنتی تو ایسا لگتا دو مومن بغلگیر ہو رہے ہیں جہاد سے پہلے۔ اور اس کے بعد بلا کا معرکہ شروع ہونیوالا ہے جس کی تصاویر لینا ممنوع ٹہرا۔ درست ہے نیکی کی تشہیر اچھی نہیں۔ قلندر اور اس کے مرید فرعونی کی یہ تصویریں فیس بک بڑی سکرین پر کھول کر ایسے ہی دیکھتے جیسے وہ سنی لیون کی پرانے زمانے کی کلاسیکل فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ فرعونی کی تصاویر نے سنی کی فلموں کی ڈیمانڈ کافی حد تک گرا دی تھی۔

 

اگلے دن قریب دو بجے دوپہر قلندر نےفرعونی کو پھر فون کیا۔ کال نہ لی گئی مگر جواب مفصل آیا جسمیں آستانے کے ہر مرید کی نام لے لے کر خیریت دریافت کی گئی تھی اور آخر میں وہ یہ لکھنا نہیں بھولا کہ وہ کس درجے مصروف ہے۔ مزید یہ کہ قلندر کے بے وقت فون نے اسکے بریک فاسٹ کا مزا خراب کر دیا۔ اور یہ کے صرف پانچ منٹ بعد وہ قلندر کو فون کریگا۔

 

دن گذر گیا۔ رات ہو گئی۔ سونے سے پہلے قلندر نے پھر رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ اس بار بھی فرعونی نے کال لینے کے بجائے ایک جامع میسج بھیجا جس میں اس نے اپنی بے پناہ مصروفیت کا رونا رویا۔ اپنے کچھ نئے اوٹ پٹانگ شعر بھی قلندر کو اصلاح کیلئے بھیجے۔ اور یہ بھی یاد دلایا کہ جب قلندر کا فون آیا تھا اس وقت وہ لنچ کر رہا تھا۔

 

اگلا دن آ  گیا۔ قلندر نے قریب چار بجے سہہ پہر فون کیا۔ کال کاٹ دی گئی اور جواب آیا کہ اس وقت وہ بے انتہاہ مصروف ہے۔ بمعہ و اہل و اعیال گوالمنڈی میں نہاری کھا رہا ہے۔ اور نہاری کھاتے کھاتے کینیڈا میں اک آن لائن مشاعرے میں اپنا تازہ کلام بھی سنا رہا ہے۔ میسج میں لنک بھی دیا گیا تھا اور قلندر اور اسکے تمام مریدوں سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ بھی لاگ ان ہو کر اس مشاعرے میں نہ صرف شرکت کریں بلکہ لائک پر لائک دبا دبا کر مشاعرے کی رونق کو چار چاند لگا دیں۔ اس بار فرعونی نے سچے مومنوں والا وعدہ کیا کہ نہاری یا مشاعرہ جو بھی پہلے ختم ہو اسکے بعد فون کریگا۔

 

قلندر یہ سوچ کر چپ ہو گیا کہ چلو اللہ تعالی صبر کرنیوالوں کیساتھ ہے بے شک وہ بے وقوف ہوں ۔ بیچارہ لمبی وطن بدری کاٹ کر ملک واپس لوٹا تھا۔ ولایت میں غریب کو نہیں ملتا ہو گا کچھ ڈھنگ کا کھانے کو۔ چلو کھانے دو اسے۔ لیکن ایک مسئلہ تھا۔ کھائے بکری کی طرح تھا مگر سوکھے لکڑی کی طریوں جائے جا رہا تھا۔ اب قلندر کو فکر لاحق ہونا شروع ہو گئی کہ اگر دن رات کھائے جا رہا ہے تو اس کا اثر کیوں نہیں دکھ رہا۔

 

کچھ دن بعد قلندر نے فون کرنے سے پہلے میسج کیا کہ بھیا فرعونی اگر بریک فاسٹ، برنچ، لنچ، ہائی ٹی، ڈنر یا سپر نہیں کر رہے ہو،  مزنگ میں مچھلی سے دھینگا مشتی نہیں کر رہے ہو ، نیز شبنم اور شمیم آرا کی ہم عمر جوان دوشیزاؤں کے بلاوز میں گھس بیٹھئے بن فوٹو شوٹ نہیں کروا رہے تو کیا بندہ فون کر سکتا ہے؟ جواب آیا۔ بہت بہت معذرت۔ ابھی فون کرتا ہوں۔ اس بار جواب آ ہی گیا۔

 

فرعونی نے قلندر سے معذرت ہی اتنے معصومانہ انداز میں کی کہ قلندر کے سارے گلے شکوے دور ہو گئے۔

 

“یار فرعونی یہ ہر وقت کھاتے ہی رہتے ہوں؟”

“نہیں قلندر بھائی۔ کام بھی کرتا ہوں۔ آپکا تو آستانہ ہے۔ پاپی پیٹ والا ٹنٹہ تو آپ نے پالا نہیں۔ مجھے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے زندہ رہنے کے لئے۔ آپ کی طرح ویلا تھوڑی ہوں۔ اور پھر ٹائم بھی نہیں ہوتا۔”

“یار فرعونی تم وطن بدری سے پہلے ایسے تو نہ تھے۔ مجھے تو تمہارے لہجے میں رعونت کے استھائی اور انترے عین سم پر آتے نظر آ رہے ہیں۔”

“ارے نہیں قلندر بھائی۔ آپ سمجھ نہیں رہے۔ میں تو خود آپکی طرح درویش ہوں۔ میرا رعونت سے دور دور تک واسطہ نہیں! اچھا ایک کال آ رہی ہے۔ ابھی ٹائم نہیں ہے بعد میں بات ہو گی۔” یہ کہہ کر اس نے آناً فاناً فون کاٹ دیا۔ اور اسکے بعد ایک طویل میسج کیا جس میں اس نے قلندر کے تمام خدشات دلائل سے دور کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ قلندر کا آدھ گھنٹہ اس میسج کو پڑھنے میں لگ گیا۔

 

قلندر کی سمجھ میں نہ آیا کہ اسے ہو کیا گیا ہے؟ اچھا بھلا شاعر ہوا کرتا تھا۔ ریٹنگ میں کشور ناہید اور نوشی گیلانی سے بھی آگے نکل گیا تھا۔ جگہ جگہ اس کا کلام چھپتا تھا۔ خیبر سے کراچی کوئی ایسی دیوار اسکے کلام سے سلامت نہ بچی تھی۔ ٹرک والے بھی بمپر پر اسکے اشعار کی تشہیر کرتے پھر رہے تھے۔ قلندر کے تو  نان اور کلچے بھی اسی کے کلام میں آ رہے تھے۔ جب تک شاعر تھا ایسا نہ تھا۔ اب کیا بن گیا ہے جو ایسا ہو گیا ہے۔ قلندر نے سوچا دفع کرو۔ نہیں بات کرنا چاہتا تو نہ کرے۔ پیارا انسان ہے۔ جہاں رہے جدھر رہے خوش رہے اپنے خرچے پہ۔

 

خیر کچھ روز بعد یہ راز بھی کھل ہی گیا کہ کیوں فرعونی اب انسان کو انسان نہیں سمجھتا۔ وطن بدری کے دوران کسی کالیے نے اسے کروڑوں روپے کی گرانٹ دیکر پراپیگنڈے کے لئے ایک ویب سائیٹ بنانے اور چلانے کا ٹھیکہ دے دیا تھا۔ ویب سائٹ کا نام تھا “دقیانوسی دور ڈاٹ کام”۔ بس اسی کام کی دلالی میں لگا ہوا تھا۔ قلندر کو بے حد دکھ ہوا اپنے دوست کے کھو جانے کا۔ بس ٹھان لی فرعونی کی ویب سائیٹ برباد کرنے کی۔ ایک فون کیا اپنے آستانے کے سب سے بڑے ڈونر حاجی ملاوٹ حسین کو۔ حاجی صاحب بوریاں بھر کے نوٹ لے آئے اور قلندر نے ہیرو دلیپ کمار اور ولن جیون کی مشہور فلم “نیا دور” کے نام پر ایک ویب سائیٹ لانچ کردی جس نے چند ہی دنوں میں “دقیانوسی دور ڈاٹ کام” کا بھٹہ بٹھا دیا۔ آخر کار فرعونی کو اپنی حماقت کا احساس ہوا۔ قلندر کے آستانے پر حاضر ہوا۔ قلندر کے پیر چھو کر معافی مانگنا چاہتا تھا لیکن اس نے فرعونی کو ایسا نہ کرنے دیا۔ گلے لگایا۔ اور “نیادور” کی گدی اسے سونپ کر طبلہ بجانے لگ گیا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *