Type to search

تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست میڈیا

ڈسکہ میں دھچکہ، اور PTI کی مطیع اللہ جان کو خاموش کروانے کی حسرتِ ناتمام

موجودہ حکومت جس دن سے آئی ہے، میڈیا کی گھچی مروڑنے پر تلی ہوئی ہے۔ کبھی بقراطِ عصر فواد چودھری صاحب میڈیا مالکان کو کاروبار کو ٹھیک سے چلانے کے طریقے سمجھانے کے لئے کوئی نیا فارمولہ نکال لاتے ہیں کہ جس سے الیکٹرانک میڈیا کا بھٹہ ہی بیٹھ جائے۔ کبھی نصرت جاوید، نجم سیٹھی، مرتضیٰ سولنگی اور طلعت حسین جیسے صحافیوں کو نوکریوں سے نکلوایا جاتا ہے۔ سیاسی مخالفین سے سیاسی محکومین کی طرح برتاؤ کی تو مثال ہی کیا دی جائے، ابھی کل ہی ایک صوبے کا اپوزیشن لیڈر کوئی پونے دو سال بعد جیل سے باہر آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر صحافیوں کی ٹوئیٹس ڈیلیٹ کروانے کی کوششوں سے لے کر ویب سائٹس بند کروانے اور لوگوں کی آوازیں دبانے کے لئے پیمرا اور PTA کے بے سر و پا مسودوں تک، کون سی کوشش ہے جو عمران خان کے الفاظ میں میڈیا کی مدد سے حکومت میں آنے والی جماعت نے اس ملک میں سنسرشپ کے لئے استعمال نہیں کیے؟

مگر ایک آدمی پر تو اس حکومت کی خصوصی نظرِ کرم ہے۔ اور اس کا نام ہے مطیع اللہ جان۔ جسے نوکری سے نکلوا کر چین نہیں ملا تو اس کے خلاف طرح طرح سے پراپیگنڈا کروایا گیا۔ وہ خاموش نہیں ہوا۔ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف فیصلہ آیا تو اس نے لگی لپٹی رکھے بغیر جو کچھ اسے سچ لگا، وہ اپنے یوٹیوب چینل پر آ کر کہہ ڈالا۔ عدالت ناراض ہوئی اور توہینِ عدالت کے مقدمے میں اسے بلا لیا۔ ابھی وہ وہاں پہنچنے نہ پایا تھا کہ اس کے اغوا کی ایک بھونڈی کوشش کی گئی یعنی ایک ایسی جگہ سے اغوا کرنے کی کوشش ہوئی کہ جہاں CCTV کیمرا صاف صاف سب کچھ ریکارڈ کر رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر شور مچا لیکن ٹی وی پر بالکل خاموشی مسلط کی گئی۔ پر جب غیر ملکی سفارتکاروں نے ان کی بازیابی کے لئے ٹوئیٹس کرنا شروع کر دیں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے بیانات جاری ہو گئے تو ان کو چار و ناچار چھوڑ تو دیا گیا لیکن سپریم کورٹ نے ان کے اغوا کو پھر بھی مبینہ اغوا ہی لکھا۔

اب جب کہ حکومت اور پوری انتظامیہ کے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دو ٹوک فیصلہ دے دیا ہے کہ ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کروایا جائے کیونکہ انتظامیہ اس میں ملوث تھی تو صرف ایک صحافی مطیع اللہ جان میں ہی یہ ہمت تھی کہ براہِ راست سوال کر سکے کہ ان سب اداروں کے سربراہ یعنی وزیر اعلیٰ پنجاب استعفا دیں گے؟ اس سیدھے سوال پر شبلی فراز سے رہا نہ گیا اور دل کی بات زباں پر لے ہی آئے۔ بولے، بالکل استعفا نہیں دینا چاہیے بلکہ آپ کو چاہیے کہ صحافت چھوڑ دیں۔ ارد گرد کھڑے انصافی عہدیداروں نے دانت نکال کر اس فسطائی سوچ کا خیر مقدم کیا۔

مگر وائے ناکامی کہ زندگی کے اتنے مشکل موڑ پر کہ جب مبینہ دھاندلی (جو کہ عدالتی کمیشن کے سامنے ثابت بھی نہ کی جا سکی) کے خلاف 126 دن کا دھرنا دینے کا ریکارڈ فخریہ دکھانے والے خود ایک حلقے میں الیکشن کروانے کے لئے پوری صوبائی انتظامیہ کو لگا کر دھاندلی کر رہے تھے اور پھر پکڑے بھی گئے، ایسے میں الیکشن کمیشن کے آگے تو بادلِ نخواستہ سرِ تسلیم خم کر دیا مگر مطیع اللہ جان کو خاموش کروانے کی حسرتِ ناتمام شبلی فراز کے منہ پر تو آ گئی مگر پوری یہ بھی نہ ہو پائے گی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *