Type to search

ادب انسانی حقوق تجزیہ

آج کا پی ایچ ڈی اور چائے خانے پہ کام والا، دونوں میں فرق کیا ہے؟

قلندر کے آستانے پر رونق کچھ معمول سے زیادہ تھی۔ ایک مرید حب الوطن حال ہی میں امریکہ کی ایک عظیم الشان یونیورسٹی سے فزکس میں پی ایچ ڈی کر کے لوٹا تھا۔ ایک ہاتھ میں قائدِ اعظم یونیورسٹی کا تقررنامہ بطور اسسٹنٹ پروفیسر طبعییات دوسرے میں مٹھائی کا ٹوکرا سنبھالے قلندر کا آشیرواد چاہتا تھا۔

‘ابے پوست پی گیا ہے کیا؟ ادھر ہی مرنا تھا تو امریکہ کاہے کو گیا؟’
‘حضور امریکہ کے بجائے پاکستان کو میری ضرورت زیادہ ہے۔ فزکس کے نت نئے علوم سے جب قوم واقف ہوگی تو کیا انقلاب برپا ہوگا۔ ‘
‘ابے تو کیا بیچتا ہے۔ فزکس تو ہمارے گھر کی لونڈی ہے۔ یہاں کے تو مستری بھی آئن سٹائن کے باپ ہیں۔ جانتا نہیں انجینئر وقار آغا کو۔ قریب دس برس قبل اس نے پانی سے چلنے والی کار بنائی تھی۔ اس ایجاد کی گواہی تمام افلاطونی ٹی وی اینکروں نے دی ۔ جامد پیر نے تو اسے کائنات کا سب سے بڑا سائنسدان قرار دیا۔ اور تو اورمحسن پاکستان و شمالی کوریا ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی اس  آبی  کار  کا تیل پانی شیدے استاد کی طرح چیک کر کے  قوم کو یقین دلایا کہ:

 

سائینسداں تو دو ہیں، آغا اور قدیر

باقی جو ہیں وہ شام و سحر خیریت سے ہیں

 

اسکے بعد پتہ چلا کہ وہ تو ایک نمبر کا فراڈیا تھا اور پولیس کو دھوکہ دہی کے کئی مقدمات میں مطلوب بھی تھا۔ پھر تو کیا ڈاکٹر بشیر الدین کو نہیں جانتا۔ یہ  خدائی نیوکلئیر سائنسدان جنات کے ذریعے بجلی پیدا کرتے ہیں۔  ان کے گھر کا بجلی کا بل بھی جن ہی ادا  کرتے ہیں۔ یہاں چپے چپے ایسے پیر فقیر ہیں جو پانی پر دم کر کے اسے مقناطیسی کر دیتے ہیں۔ ایسے پانی کا ایک قطرہ کروڑوں ایکڑ رقبے پر پھیلی فصل کی آب پاشی کیلئے کافی ہے۔ اس ایک قطرے کی بدولت فصل ہزار گنا زیادہ ہووے ۔ ان ہی کی بدولت اسلام کا بچا کچا قلعہ ابھی تک ناقابل تسخیر ہے۔  ہے تیرے پاس فزکس کا کوئی ایسا کلیہ جو پیسہ منٹوں میں ڈبل کردے؟ نہیں نا!  لیکن اپنا پیر ڈبل شاہ یہ کام چٹکی بجاتے کر دیوے ہے۔ ہم نے اسکی قدر نہ کی۔ آجکل  ڈونلڈ ٹرمپ کا ایڈوائیزرہے۔ اور بھول گیا جوسلوک ہم نے ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ کیا؟
‘انکے ساتھ تو معاملہ کچھ اور تھا۔ میں تو سید ہوں!
‘ابے تو سید ہو یا بھنگی۔ یہ ابو جہل کی قوم ہے۔ چل سلام صاحب کو چھوڑ، کیا تجھے نہیں معلوم انہوں نے ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کیساتھ کیا کیا؟
‘یہ کون صاحب ہیں؟’
‘ابے ڈاکٹر ہودبھائی کو نہیں جانتا!’
‘نہیں حضور!’
‘پھر اسکا مطلب ہے تیری پی ایچ ڈی فزکس میں نہیں چورن بنانے  یا کلچے لگانے میں ہے۔’
‘حضور ہم بھی نہیں جانتے ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کو۔ آج ان کے بارے میں ہمیں آگاہ کریں۔’ قلندر کا ایک اور مرید ڈاکٹر جانگلو اجہل بولا جو موجودہ حکومت میں مشیر خصوصی برائے تعلیم تھا۔ دور چاہے فوجی کا ہو یا جمہوری آمر کا، تعلیم کا ٹھیکہ صرف اسی کے لئے مختصص تھا۔
‘تو نام کا نہیں علم کا بھی جانگلو ہے۔ کس گدھے نے تجھے محکمہ تعلیم سونپ دیا۔ڈاکٹر ہودبھائی کو نہیں جانتا!’
‘حضور سب سے پہلےآپ کے دادا کی سفارش سے، اسکے بعد کے ادوار میں آپکے والد اور اس حکومت میں آپ ہی کی سفارش سے اس عظیم الشان عہدے پر براجمان ہوں۔’
‘بکواس نہ کر! اچھا بھئی اب سنو قصہ پرویز ہودبھائی!’ قلندر جھٹ سے کام کی بات پر آیا قبل اسکے کہ جانگلو اپنی بکواس کی مزید بڑھت کرتا۔

‘ڈاکٹر پرویز ہودبھائی اس ملک کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ہم نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو ہم بطور قوم دیگر سرمایہ وطن کے ساتھ کر چکے ہیں مثلاً کلاسیکل موسیقی، تاریخی عمارات، جنگلات، آب و ہوا، پانی، دریا، سمندری حیات، سیاحی مقامات، ریلوے، پاکستان ائیر لائن، مشرقی پاکستان، بلوچستان، قبائیلی علاقے، پی ٹی وی،  وغیرہ وغیرہ۔’

‘سرکار سیدھا کیوں نہیں کہتے کہ مکمل بیڑہ غرق!’ قلندر کا منہ چڑھا مرید چوہدری چول بولا۔
‘ہاں ہاں مکمل بیڑہ غرق جو تیرے باپ نے تیری اماں کے حسن وجمال کے ہر پہلو کے ساتھ  ہر زاویے سے کیا اوپر نیچے تیرہ بچے پیدا کر کے!’ قلندر نے غصے سے چول کی جانب دیکھتے کہا۔ چول چپکا ہو کے ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ گیا۔

‘ڈاکٹر ہودبھائی نے سینتالیس سال قائدِ اعظم یونیورسٹی میں پڑھایا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد دس سال مفت پڑھایا۔ اور جانتے ہو کیا صلہ ملا؟ ایک دن اچانک انہیں کہا گیا کہ وہ اپنا کمرہ خالی کریں اور آئندہ یونیورسٹی کا رخ نہ کریں۔’

‘ایسا کیوں کیا گیا؟’ حب الوطن بولا
‘کیونکہ وہ طلباء میں سوچنے کی صلاحیت بیدار کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں۔ سنو اور کرتے جاؤ ماتم قوم کی جہالت اوربے حسی پر۔ ہودبھائی ایم آئی ٹی یونیورسٹی سے جب ماسٹرز کر چکے تو انہیں قائد اعظم یونیورسٹی جو اس وقت اسلام آباد یونیورسٹی کہلاتی تھی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی ملازمت بذریعہ پاکستانی سفارتخانہ واشنگٹن مل گئی۔ سفارتخانہ انکی قابلیت سے اچھی طرح شناسا تھا۔ لہذا ان سے پوچھا کیا تنخواہ لینا پسند کرینگے۔ انہوں نے کہا جو مرضی دے دیں میرا مقصد تو ملک وقوم کی خدمت کرنا ہے۔ انہوں نے سات سو روپے 1973 میں طے کی جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ تھی۔ اگر یہ چاہتے تو امریکہ میں ہی رہ سکتے تھے۔ وہاں کی شہریت تو چٹکی بجانے میں مل جاتی۔ ہزار گنا زیادہ تنخواہ کی ملازمتیں انکے آگے ہاتھ باندھ کھڑی تھیں۔ لیکن یہ پاکستان واپس آ گئے۔ اب انکے ساتھ ایک ہاتھ ہو گیا۔ اسوقت کی وائس چانسلر ڈاکٹر کنیز فاطمہ یوسف نے انہیں نوکری دینے سے انکار کر دیا اور انکی درخواست پر یہ تبصرہ داغ دیا کہ یہ جماعت اسلامی کے ایجنٹ ہیں جنہیں سی آئی اے کے ایماء پر یونیورسٹی میں تعینات کیا گیا ہے۔’

قلندر کو یہاں رکنا پڑا ۔ اٹھا اور کس کر ایک لات ڈاکٹر اول جلول کو رسید کی جو خراٹے لے رہا تھا۔ ‘ابے میں اتنی اہم گفتگو کر رہا ہوں اور تو سو رہا ہے’ لات کھا کر اول جلول ہمہ تن گوش ہوا۔ اس نے ٹاک شو اینکری میں میٹرک کیا ہوا تھا اور قلندر کی چھتر چھایہ کارتوس خان حکومت میں وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کا قلمدان سنبھالے ہوا تھا۔ قلندر دوبارہ شروع ہوا۔

‘ڈاکٹر کنیز فاطمہ کتنی عظیم خاتون تھیں کہ انہوں نے ہودبھائی کو جماعت اسلامی کا ایجنٹ سمجھا۔ کیا خراج تحسین تھا۔ اسلام کا سپاہی اور مجاہد۔ نہ جانے کس اذیت سے محترمہ گور میں گذرتی ہونگی جب ہودبھائی کو آج کل کے خطابات سے پکارا جاتا ہو گا۔ اب تک معاشرے کے ٹھیکیدار ہودبھائی کو را، موساد، سی آئی اے، کے جی بی، خاداور ایم آئی کا ایجنٹ قرار دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو کافر اور دہریہ ایسے القابات سےبھی نوازا جا چکا ہے۔ اب تو دنیا میں کوئی ایسی خفیہ ایجنسی باقی نہیں جس کے لئے ہودبھائی کام نہ کرتے ہوں۔ صرف ایک انسان، پورے دن میں چوبیس گھنٹے۔ اگر کھانے پینے اور سونے ایسی ضروریات سے بھی آزاد ہو، کیا اتنے ملکوں کا بیک وقت ایجنٹ ہو سکتا ہے۔ اس بات پر تو انہیں نشانِ حیدر یا وکٹوریہ کراس ملنا چاہیے تھا۔’

‘ کنیز فاطمہ صاحبہ کی یہ رائے اس دور کی کوڑی پر  منتہج تھی کہ ہودبھائی کی مونچھ بغیر طویل داڑھی تھی۔ حالانکہ انہیں تو خوش ہونا چاہیے تھا۔ سرد جنگ عروج پر تھی ۔سی آئی اے اور جماعت اسلامی بھائی بھائی تھے۔ جب فاطمہ صاحبہ کے خلاف جمعیت نے تحقیقات شروع کروائیں تو ایک کاغذ برآمد ہوا جس میں انگریزی میں لکھا ہوا تھا:

Hoodbhoy appears to me an agent of Jamat-e-Islami!

خیر کسی نہ کسی طرح یہ غلط فہمی دور کی گئی مگر دوسرا ہاتھ انکے ساتھ یہ ہوا کہ انہیں بطور لیکچرر رکھا گیا حالانکہ انٹرویو کے وقت پیشکش اسسٹنٹ پروفیسر کی گئی تھی۔ اس طرح انہیں گریڈ اٹھارہ کے بجائے سترہ دیا گیا۔ خیر ان کا مشن تو طلباء میں جرات سوال پیدا کرنا تھا۔ سوچنے سمجھنے اور تحقیق کرنے کے عادت پیدا کرنے کی تھی جو کہ یہ اب تک کر رہے ہیں۔ سو انہوں نے یہ تنزلی بھی ہنسی خوشی قبول کر لی۔ یہ یونیورسٹی کی تاریخ میں واحد شخص ٹہرے جنہیں ڈی موٹ کیا گیا۔ تنزلی کے ازالے کے لئے ان کو سو روپے اضافی الاونس کا لارا لگایا گیا۔ جو کہ کنیزفاطمہ بی بی نے نامنظور کردیا۔ مزید برآں چھ ماہ تک ان کو تنخواہ کی ادائیگی نہ ہوئی۔ اس کے باوجود یہ اپنا کام مکمل جانفشانی سے کرتے رہے۔’

‘اب ایک بہت اہم بات بتانے جا رہا ہوں، غور سے سننا۔۔۔’ادھر قلندر کے منہ سے یہ جملہ نکلا ادھر جھٹ سے پروفیسر اول فول کا فون ٹر ٹر کرنے لگ گیا۔ قلندر کو شدید کوفت ہوئی۔ آستانے پر فون کھلا چھوڑنے کی اجازت نہ تھی۔ قلندر اٹھا۔ اس احمق کے سر پر دو جوت دیے اور چوہدری چول کو حکم دیا کہ اس گدھے کی رکنیت مریدی فی الفور منسوخ کرے۔ پروفیسر اول فول کے پیروں تلے تو زمین نکل گئی۔ پروفیسر ایگری کلچر میں مڈل فیل تھا۔ رکنیت کی منسوخی کا مطلب تھا کہ اسے وزارت ادب و آداب یعنی منسڑی آف کلچر سے بھی ہاتھ دھونے پڑینگے۔ کتنی منت سماجت کے بعد یہ وزارت ملی تھی۔ چول نے اول فول کو آنکھ ماری۔ اشارہ سمجھا دیا۔ اول فول قلندر کے قدموں میں لوٹنے لگا۔ فون آستانے کی ریسیپشنسٹ بیگم شاہی ڈھنڈورچن کے سپرد کیا۔ جرمانے کے طور پر پانچ لاکھ چندے کا چیک بھی آستانے کی نظر چڑھایا۔ تب جا کر قلندر کا دل پسیجا اور رکنیت کی منسوخی کا حکم منسوخ ٹہرا۔

‘تو اہم بات یہ تھی کہ ہودبھائی ایسا نابغہ، ایم آئی ٹی سے فارغ التحصیل قائد اعظم یونیورسٹی کےشعبہ فزکس کے معیار سے حد درجے متاثر ہوا۔ اب میں پروفیسر ہودبھائی کے چند جملے من و عن دھرا رہا ہوں جو انہوں نے مجھ سے ایک انٹرویو میں کہے تھے:

“جب میں نے فزکس ڈیپارٹمنٹ میں قدم رکھا تو مجھے ایسا لگا کہ میں تو امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں پہنچا ہوں۔ کیونکہ اتنا اچھا معیار تھا وہاں پہ۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے ایک شاگرد تھے پروفیسر ریاض الدین۔ انہوں نے ہی یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کی بنیاد ڈالی تھی۔ ریاض الدین بہت سادہ انسان اور انتہائی عظیم سائنسدان تھے۔ میں نے ان کی کتاب پر ایک تبصرہ بھی لکھا ہے جو میں آپ کو بھیج دونگا۔ یعنی آٹھ دس ایسے practicing  physicists     تھے کہ میں تو بہت ہی مرعوب ہوا۔ ”

اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ کہ لیبز کیسی تھیں تو انہوں نے فرمایا: “لیب وغیرہ نہیں تھیں۔ لیب تو کوئی بھی کہیں بھی  بنا سکتا ہے۔ یہ سب تھیوریٹیکل فزکس تھی جو اب پاکستان میں ناپید ہو چکی ہے۔ اسوقت دماغ کی فزکس بہت زوروں پر تھی۔”

میں نے ایک اور سوال داغا کہ کیا یہ آٹھ دس لوگ ڈاکٹر عبدالسلام کے لیول کے تھے تو ھودبھائی نے جواب دیا: “انکے لیول کے تو نہیں مگر ان سے دو لیول نیچے کے تو ضرور تھے۔ پھر بھی یہ ایک بہت اونچا درجہ تھا۔ دو سال پڑھانے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میں بہت ہی جونئیر ہوں۔ اس احساس کے تحت میں پی ایچ ڈی کے لئے واپس ایم آئی ٹی چلا گیا۔”

“اب تم سب ان جہلاء کے پاس جاؤ اور یہ بتاو کہ جس ہودبھائی کو یہ غدار گردانتے ہیں اسے پی ایچ ڈی کرنے کی تحریک قائد اعظم یونیورسٹی نے دی۔ اور یہ غدار پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد امریکہ کی اعلی ترین یونیورسٹیوں میں نوکریوں پہ لات مارے واپس پاکستان آ گیا اسی یونیورسٹی میں پڑھانے جہاں اسے وعدہ گریڈ اٹھارہ کا کر کے سترہ دیا گیا۔ جہاں صرف سوروپے کے حقیر اضافے کو نہ صرف رد کیا گیا بلکہ چھ ماہ کی تنخواہ بھی نہ دی گئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دس سال تک یہ یونیورسٹی ان سے منت سماجت کرتی رہی کہ جناب ہماری مدد کریں اور وہ بھی اپنے خرچے پہ۔ یہ دس سال مفت پڑھاتے بھی رہے۔ پھر بھی انکو اگلے دن اپنے کمرے سے بے دخل کر دیا جاتا ہے کہ جناب ہمارے پاس جگہ کم ہے جبکہ کرونا وائرس کی وجہ سے یونیورسٹی سائیں سائیں کر رہی تھی۔ درو دیوار پہ الو بول رہے تھے۔” قلندر جذباتی انداز میں گویا ہوا۔

“اور یہ ایم آئی ٹی سرکار کے نہیں اپنے بل بوتے پہ گئے تھے۔ انہیں وہاں ریسرچر کی نوکری ملی تھی۔ اس کے علاوہ یہ فارغ وقت میں کسی لائبریری یا ریسٹورنٹ میں کام کیا کرتے تھے۔ انہوں نے باتھ رومز تک اپنے ہاتھوں سے صاف کئے۔ اور وطن کے محبت میں واپس لوٹے۔ ان سے بڑا محب وطن کون ہوگا! ”

“جب یہ تین سال بعد واپس لوٹے 1978 میں، تو یونیورسٹی کے حالات بگڑ رہے تھے۔ مرد مومن (جس کا اسلام سے دور دور تک واسطہ نہ تھا البتہ حقیقی معنوں میں مرد منافقت، مرد ابن الوقت اور مرد جوتا چاٹ تھا ) کا دور شروع ہو چکا تھا۔ 1973 میں انکی کلاس میں صرف ایک برقعہ پوش لڑکی ہوا کرتی تھی جو احمدی تھی۔  ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے تک پورے کیمپس میں ایک ہی برقعہ ہوا کرتا تھا حالانکہ جمعیت بھی اپنا وجود رکھتی تھی۔ اب جب وہ یونیورسٹی جاتے ہیں تو برقعے ہی برقعے ہوتے ہیں۔ کلاس میں لڑکیوں کے چہرے بھی چھپے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کوئی سوال بھی نہیں کرتا۔ جو انہیں پڑھاؤ وہ پی جاتے ہیں۔  اب مٹی کے مادھوؤں کو لیکچر دیا جاتا ہے۔”

“یونیورسٹی کا معیار یوں گرنا شروع ہوا کہ مڈل ایسٹ نے بہت ساری پرکشش ملازمتیں پیدا کیں۔ یونیورسٹی کے بہترین دماغ وہاں چلے گئے۔ مگر یہ کہیں نہیں گئے۔ انہوں نے اسی بنجر زمین کو سر سبز کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ وائس چانسلرکنیزیوسف نے اپنوں کو نوازنا شروع کر دیا۔ میرٹ کی کھلے عام دھجیاں اڑنا شروع ہو گئیں۔ یونیورسٹی کا نظام ایسے دھیرے دھیرے بگڑنے لگا حالانکہ اسے بنے چند ہی سال ہوئے تھے۔ شروع کے ہی سال اس کے اچھے تھے۔ اسکے بعد تو ہر شاخ پہ الو بیٹھنے لگا۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی جو تھوڑی بہت ساکھ بنی وہ فزکس ڈیپارٹمنٹ کے دم سے تھی ۔ یہ شہرت قریب پچاسی کے وسط تک رہی اسکے بعد حشر نشر ایک ہوا۔ خرابیاں ایک سے دوسری نسل تک ایسے منتقل ہوئیں کہ ان کے شاگردوں نے اور ان کے شاگردوں کے شاگردوں نے بھی اسی یونیورسٹی میں ملازمت حاصل کی اور جیسا پڑھا تھا ویسا ہی پڑھانا شروع کر دیا۔  یونیورسٹی کا شعبہ فزکس جو کسی زمانے میں اس درسگاہ کا طرہ امتیاز ہوا کرتا تھا اسوقت اتنا ہی پھٹیچر ہے جتنا کسی بھی یوینورسٹی کا کوئی بھی ڈیپارٹمنٹ۔”

“اجی اتنی گراوٹ ہو رہی تھی تو موصوف ایم آئی ٹی دوبارہ کیوں نہ چلے گئے۔ یہاں ہی کیوں رہے؟” قلندر کا مرید صادق چمچہ بولا۔

“تیری اماں ساری عمر پری بیگم کے کوٹھے پر کیوں مجرا کرتی رہی جبکہ فریدہ بائی نے اسے میرے سامنے دس گنا زیادہ honorarium آفر کیا تھا۔ اور فریدہ کا کوٹھا بھی پری کے کوٹھے سے دس گنا بڑا اور centrally airconditioned تھا۔ ساونڈ سسٹم بھی جاپانی تھا۔ اب بتا ذرا سب کو کیا وجہ تھی؟” قلندر نے الٹا صادق چمچے پہ سوال داغ دیا۔

“جی وہ clash of interest کا ایشو تھا۔ اماں تو ابے کے عشق میں گرفتار تھی۔ چونکہ ابا پری بیگم کے کوٹھے پہ سارنگی بجایا کرتا تھا اور ان کا عاشق بھی تھا اس لئے پری بیگم کا کوٹھا چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ اور اماں ابے کی وجہ سے فریدہ بائی کا کوٹھا جوائن کرنے سے قاصر تھی۔” صادق چمچا کھسیانہ ہو کے بولا۔

“تو یہ ہی وجہ ہودبھائی کیساتھ بھی تھی۔ وہ پاکستان کی محبت میں گرفتار تھا۔ ایم آئی ٹی کیسے چلا جاتا۔ اس پر انقلاب کا بھوت سوار تھا جو قریب 2002 میں جا کر اترا۔ اور سوچ سمجھ کر بولا کر۔ ورنہ تیرا مزید کچہ چھٹہ الم نشرح ہو جاوے گا۔”  یہ کہہ کر قلندر پھر سے مریدوں سے مخاطب ہونا ہی چاہتا تھا کہ انٹرکام کی گھنٹی بجی۔ قلندر کے سیکریڑی سید اسحاقے کنجر نے فون اٹھایا:

“کیا! واقعی! اچھا اچھا ایک منٹ۔۔۔” یہ کہہ کر اس نے فون رکھ دیا اور بولا: “حضور ڈاکٹر پرویز ہودبھائی آستانے کی ریسیپشن پر موجود ہیں!”

“ارے اللہ کی شان!” قلندر اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ فوراً ریسیپشن کی جانب دوڑ لگائی۔ ڈاکٹر صاحب کے پیر چھوئے اور انتہائی ادب احترام سے اندر لے آیا۔ اپنے منبر پر جگہ دی انہیں اور کہا: “حضور بہت لمبی عمر ہے آپکی۔ مجھے یاد کر لیا ہوتا۔ آپ نے کیوں آنے کی زحمت کی۔ ابے سالوں سب کے سب ڈاکٹر صاحب کے چرن چھووں۔”

سب مرید حیران کہ کیا مہاجرا ہے۔ صدر، وزیر اعظم سے لیکر آرمی چیف قلندر کے آستانے پر حاضری دیتا ہے۔ قلندر کے پیر چھوتا ہے۔ اور یہ  قلندر ڈاکٹر ہودبھائی کے پیر چھو رہا ہے۔ اپنے مریدوں کو بھی ان کے پیر چھونے کا کہہ رہا ہے۔ خیر قلندر کے آگے کیا مجال کسی کی۔ سب نے پیر چھوئے۔

“ابے ڈاکٹر صاحب کے لئے دونوں مشروب لیکر آ۔ مغرب والا بھی، مشرق والا بھی۔ اگر کوئی شمال جنوب کا ہے تو وہ بھی لے آ تخم لنگا ڈال کے۔” قلندر نے اسحاقے کنجر کو حکم دیتے کہااور ہودبھائی کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

‘ابھی آپ کا ہی چرچہ تھا۔ یہ جو سامنے بیٹھا ہے نہ، یہ اپنا ہونہار برخوردار  ڈاکٹر محب وطن ہے۔ ولایت سے پی ایچ ڈی کر کے آیا ہے آپ کی طریوں۔ آپ ہی کا دوسرا جنم لگے ہے مجھے۔ ہاتھ میں قائد اعظم یونیورسٹی کا پروانہ فریم کرائے اترا رہا ہے۔ وہاں پروفیسری کر کے نیا پاکستان بنانا چاہتا ہے۔ میں اس گدھے کو سمجھا رہا تھا کہ کیا حماقت کرنے جا رہا ہے۔ اب آپ آ گئے ہیں تو خود اپنی زباں میں اپنی آب بیتی سنا دیں۔ اور میں نے یہاں سے یہاں تک ان سب جاہلوں کو آپ کا قصہ سنا دیا ہے۔’  یہ کہہ کر قلندر ہودبھائی کے کان میں کچھ دیر سرگوشی کرتا رہا۔

“بالکل صحیح بتایا قلندر تم نے۔ بھئی تم تو بہت دیانتدار مورخ ہو۔” ہودبھائی بولے۔
“حضور یا میں دیانتدار ہو سکتا ہوں یا مورخ۔ ایک ہی وقت میں یہ دونوں کام ناممکن ہیں!” قلندر بولا۔
“تمہاری جگتیں مارنے والی عادات مزید نکھر گئی ہیں۔ خیر۔ تو میں اس سے آگے کی داستان بیان کرتا ہوں۔”

“اب نئے لوگ تو آ نہیں رہے۔ جو باہر سے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ باہر ہی رہ جاتے ہیں۔ لہذا قائد اعظم ہو یا کوئی اور یونیورسٹی، اب کوئی نہیں آنے والا اس کا معیار بہتر کرنے کو۔ پاکستان میں institutional structure تو ختم ہو گیا ہے۔ اب وہ لوگ gatekeepers ہیں جو اپنے مضمون سے نابلد ہیں۔ جنہیں نہ پڑھنے کا شوق ہے نہ پڑھانے کا نہ تحقیق کا۔  آج کے پی ایچ ڈی سے اگر گفتگو کرو تو پتہ نہیں لگتا کہ یہ پی ایچ ڈی ہے یا چائے خانے پہ کام کرنیوالا! اب اگر تم جیسا باصلاحیت نوجوان باہر سے یہاں آنا چاہتا ہو پڑھانے کے لئے، اول تو اسے نوکری ہی نہیں ملے گی۔ اور اگر مل گئی تو وہ دو مہینے میں اپنا سر پکڑ لے گا اور واپسی کے لئے بوریا بسترا باندھ لے گا۔ اب ہماری یونیورسٹیاں درسگائیں کہلانے کے لائق نہیں۔ یہ سیاست کے اکھاڑے ہیں جہاں کوئی کام کی نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کی سیاست ہوتی ہے۔ قومی سطح کی نہیں۔  فلاں کی ٹانگ کیسے کھینچی جائے، کہاں کہاں سے پیسہ بنایا جائے۔ ایک کورس پڑھا کر، ایک پیپر لکھ کر اپنی تنخواہ مزید کیسے بڑھائی جائے۔ بس یہ ہی ہوتا ہے۔”

“آپ درست فرما رہے ہیں ڈاکٹر صاحب،” قلندر ہودبھائی کی بات کاٹتے بولا۔ “میرے ایک اور استاد اور گرو جناب ڈاکٹر طارق بنوری صاحب جو اسوقت Higher Education Commission  کے چئیرمین ہیں، ایک ملاقات میں مجھے بتایا کہ سرکاری ملازمین کو پی ایچ ڈی کے دوران اچھا خاصہ سپیشل الاونس ملتا ہے۔ ان ہی کے کمیشن کا ایک کلرک کسی مضمون میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے اور ٹھیک ٹھاک وظیفہ سرکار سے اینٹھ رہا ہے۔”

“ایسا ہی ہے قلندر میاں۔ اب آگے سنو۔ تم نے ایک دفعہ مجھ سے کہا تھا کہ اب ہائر ایجوکیشن کا پاکستان میں کوئی فائدہ نہیں لیکن ایک فائدہ تو ہے!”
“وہ کیا حضور!”
“وہ فائدہ لڑکیوں کے حق میں ہے۔ کم از کم گھر سے باہر تو نکل رہی ہیں۔”
“واہ واہ۔ Excellent! یہ تو قبلہ نے بہت پتے کی بات کی!” قلندر کے سب مرید یک زباں بولے۔
“لیکن حضرت وہ باہر تو آرہی ہیں مگر حجاب میں!” قلندر بولا
“یار کچھ تو دنیا دیکھنے کو مل رہی ہے انہیں!” ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔

“ڈاکٹر صاحب ان بچوں کو ذرا اپنی جنگ کے بارے میں بتائیں۔ یہاں کے جرنیل تو جنگ ہارنے میں ملکہ رکھتے ہیں مگر تم سب ان کی جنگ کی کہانی سنو جو یہ جیتے۔” قلندر بولا۔

“یہ کہانی لمبی ہے، مختصراً یہ کہ قائد اعظم یونیورسٹی کی 300 ایکڑ سے زائد زمین 1996 میں بےنظیر بھٹو کی گورنمنٹ جیالوں کو بطور پلاٹ نوازنا چاہتی ہے۔ یونیورسٹی کے تمام ملازمین کو بھی پلاٹس ملنے تھے مگر بڑے بڑے پلاٹ جیالوں نے ڈکارنے تھی۔ میں نے ڈان اخبار کو ایک خط لکھا۔ لب لباب یہ تھا کہ یہ زمین آنے والی نسل کی ہے۔ اسپر کسی کا کوئی حق نہیں۔ یونیورسٹی میں سب ہی میرے خلاف ہو گئے۔ انہیں پلاٹ جو ملنے تھی۔ مجھ پر یہ الزام لگا کہ میں تعلیم کا دشمن ہوں! حالانکہ پلاٹ مجھے بھی ملنا تھا۔ میں یونیورسٹی کی انتظامیہ کے سامنے جب پیش ہوا تو ایک جم غفیر تھا جو ہاتھوں میں خالی بوتلیں تھامے میرا منتظر تھا۔ میرے دوستوں نے مجھے پلٹ جانے کا مشورہ دیا۔ اسکے بعد یونیورسٹی کے ملازمین جلوس کی شکل میں میرے گھر کا گھیراؤکرتے۔ میں نے اپنے دوست ڈاکٹر عبدالحمید نئیر (وہ بھی physicist ہیں) کیساتھ ملکر لاہور ہائی کورٹ کے پنڈی بنچ میں اس فیصلے کیخلاف رٹ دائر کر دی۔ بیرسڑ عابد حسن منٹو نے ہماری درخواست کی بلا معاوضہ پیروی کی۔ وہ ہر پیشی پر اپنے خرچے پر بائی ائر لاہور سے تشریف لاتے۔ ہم یہ کیس جیت گئے۔ نواز شریف کی دوسری گورنمنٹ آ گئی۔ اس نے شدید دباؤ کے باوجود یہ فیصلہ منسوخ کیا اور حکم ہوا کہ یونیورسٹی کے ملازمین کو پلاٹ ملیں گے مگر سیکٹر جی 14 میں۔ اور آج یہ لوگ بشمول میں اسی سیکٹر میں ایک گھر میں سکونت اختیار کئے بیٹھا ہوں۔ اسطرح میں نے یہ جنگ جیتی مگر اب صورت حال یہ ہے کہ یونیورسٹی کے اسی زمین کے بہت بڑے حصے پر اب سینٹ کے سابق چیرمین نئیر بخاری کا قبضہ ہے۔ ان کا ایک محل ہے۔ مین مری روڈ سے ایک لمبی کارپٹڈ روڈ ، بخاری روڈ کے نام سے یونیورسٹی کی زمین پر بنائی گئی ہے جو انکے محل پہ ختم ہوتی ہے۔ اس پر میں نے ڈان میں ایک مضمون لکھا جو شاید وزیراعظم عمران خان کی نظروں سے گذرا۔ بلڈوزر آئے اور محل کی دیواریں گرا دی گئیں مگر کچھ دیر بعد یہ عمل رک گیا۔ نئیر صاحب کے تعلقات ہیں۔ معاملہ دب گیا اور اب تک اس زمین پر ان ہی کا قبصہ ہے۔ مجھے شدید مایوسی ہوئی اور اب میرا دل ٹوٹ چکا ہے۔ اس ملک میں کچھ نہیں ہو سکتا۔ ”

قلندر سمیت سب مرید ہودبھائی کے چہرے پر اداسی کے سائے دیکھ سکتے تھے۔ “ان جہلاء کو LUMS والا واقعہ بھی بتا دیں۔” قلندر لقمہ دیتے بولا۔

“LUMSکا معاہدہ کیوں نہیں renewہوا یہ مجھے سمجھ نہیں آیا۔ چند وجوہات دی گئیں

مجھے جو ایک دوسرے سے متضاد تھیں۔ ایک یہ کہ میں پڑھاتا نہیں۔ آپ اسلام آباد میں ہوتے ہیں لاہور میں نہیں۔ میں نے انہیں کہا میں پانچ دن لاہور میں اور دو دن اسلام آباد میں ہوتا ہوں۔ ایک عام ٹیچر سے زیادہ کورس میں نے پڑھائے۔ اس بات کا LUMSوالے کوئی جواب نہ دے سکے۔ دوسرا، آپ سٹوڈنٹس کو سپروائز نہیں کرتے۔ اسکا جواب یہ تھا کہ میں نے ڈیپارٹمنٹ میں جتنے سٹوڈنٹس سپروائز کئے اتنے کسی اور نے نہیں کیے۔ اسکا بھی وہ جواب نہ دے سکے۔ تیسرا یہ کہ آپ بہت مہنگے ہیں۔ اس کا جواب میں نے یہ دیا کہ تنخواہ تو آپ نے خود ہی مقرر کی۔ 2011 میں قریب چار لاکھ انہوں نے آفر کی تھی اور یہ LUMS کے دوسروں پروفیسروں کے برابر تھی۔ میں LUMS کے وائس چانسلر عادل نجم سے بھی ملا۔ عادل نے کہا کہ یہ ان کے ہاتھ میں نہیں۔ اسکا مطلب تھا کہ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ میں پھر سید بابر علی سے ملا اور پوچھا کہ بابر صاحب کیا پرابلم ہے۔ انہوں نے  کہا کہ کوئی پرابلم نہیں۔ آپ فکر نہ کریں۔ لیکن پھر بھی میرا کنٹریکٹ renewنہ ہوا۔ دراصل ڈیپارٹمنٹ کا چئیرمین صبیح انور اسلامی سوچ کا حامل تھا۔ مجھے پسند نہیں کرتا تھا۔ تو بنیادی طور پر بات یہاں سے چلی۔” ہودبھائی نے بتایا۔

“اب انہیں ستارہ امتیاز والا قصہ بھی سنا دیں۔” قلندر پھر سے بولا۔

“وہ تم ہی بتلاؤ!” ہودبھائی بولے۔

“جنرل مشرف کے زمانے میں ڈاکٹر صاحب کو ستارہ امتیاز سے نوازا گیا مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بالکل ایسے جیسے آفتاب ستار استاد ولایت خان نے بھارتی سرکار کا سب سے پہلے پدما شری، پھر پدما بھوشن، پھر پدما وی بھوشن ٹھکرا دیا تھا” قلندر بولا۔
“کیوں جی!” اب کے قلندر کا سب سے جید جاہل مرید ڈاکٹر گنوار ملک بولا۔ یہ جانوروں کا ڈاکٹر تھا مگر انسانوں کے علاج میں ید طولی رکھتا تھا۔
“ابے تیری جہالت لاعلاج ہے۔ استاد ولایت خان کا کہنا تھا کہ یہ ان سب ایوارڈوں کا فیصلہ دلی میں بیٹھے چریے کرتے ہیں جو موسیقی کے پہلے سر سے بھی ناواقف ہیں۔ ایسے جہلاء سے ایوارڈ وصول کرنا فن اور ستار کی توہین ہے۔ بس یہ ہی وجہ ہودبھائی صاحب نے بھی اپنے جنرل صاحب کو بتلائی تھی جسکا انہوں نے خوشدلی سے خیر مقدم کیا۔”

“کوئی سوال اگر آپ لوگ پوچھنا چاہیں تو میں حاضر ہوں۔” ڈاکٹر ہودبھائی قلندر کے مریدوں سے مخاطب ہوئے۔
“حضور اب کیا سوال باقی ہے!” سب ایک ساتھ بولے۔

 

“آپ نے دل اداس کردیا۔ آپ کا مایوس ہو جانا ایسے ہی ہے کہ آج استاد ذاکر حسین طبلے سے مایوس ہو جائے اور طبلہ بجانا چھوڑ  دے۔ غالب شاعری کرنے سے باز آ جائے۔ بھگت سنگھ آزادی سے نفرت کرنے لگے۔ ” قلندر بولا۔
“اچھا تو پھر میں اجازت چاہوں گا۔” یہ کہہ کر ڈاکٹر ہودبھائی کھڑے ہو گئے۔ قلندر اور سب مرید انہیں باہر تک چھوڑنے آئے۔ پھر سب دوبارہ لاونج میں اکھٹے ہوئے۔
“اب بول کیا پروگرام ہے تیرا!” قلندر ڈاکٹر محب الوطن کی جانب دیکھتے بولا۔
“حضور بھاڑ میں گئی قائد اعظم یونیورسٹی کی نوکری۔ میں پہلی فلائٹ پکڑ کر واپس امریکہ جا رہا ہوں!” محب الوطن اپنے appointment letter کے پرزے پرزے کرتے بولا۔
“شاباش!” سب نے نعرہ مستانہ بلند کیا اور ریشماں پیروں میں گھنگھرو جھنجنھاتے سولہ ماترے ناچنے لگی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *