Type to search

انصاف حکومت خبریں

لگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہ رہے ہیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے کیس میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستوں کی لائیو کوریج سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے منیر اے ملک کی بیماری کے باعث جسٹس قاضی فائز کو دلائل دینے کی اجازت دے دی۔

اپنے دلائل کے آغاز میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت سے کہا کہ جہاں آپ کو محسوس ہوکہ میں حد پار کررہا ہوں مجھے روکا جائے، اس پر جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ججز کی ایک ذمہ داری صبر اور تحمل کرنا بھی ہے، اگر کچھ لوگ آپ کے خلاف ہیں تو آپ کے حامی بھی ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے اور آزادی اظہار رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔

جسٹس فائز عیسٰی نے کہا کہ پی ٹی وی پارلیمنٹ کی کاروائی براہ راست دیکھاتا ہے۔ آئین میں پارلیمنٹ کی کاروائی براہ راست دیکھانے کا ذکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست کوریج میں ایڈیٹنگ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کئی صحافیوں کو وکلاء سے زیادہ قانون کا علم ہے۔ بعض کنٹرولر صرف یہ کہا وہ کہا کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ فیصلہ چاہیے میرے خلاف آئے لیکن ٹی وی پر براہ راست آنا چاہیے۔ عدالت کو دیکھنا ہے کہ ججز کو کیسا ماحول فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرے نام پر داغ لگا ہوا ہے جسے صاف کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کیا کہ اپنی درخواستوں میں اٹھائے گئے نکات پر دلائل دیں،دائیں بائیں بیٹھے ججز اتنی تفصیلات سن کر فوکس نہیں کرپا رہے لہٰذا بہتر ہوگا کہ براہ راست اصل مدعے پر آئیں۔

جسٹس قاضی فائز نے دلائل دیتے ہوئے سوال کیا کہ عمران خان، عارف علوی اور وزرا ذاتی حیثیت میں گفتگو کرسکتے ہیں، میں بطور جج ذاتی حیثیت میں بھی گفتگو نہیں کرسکتا؟ عوام کو انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ زیادہ چالاک نا ہونے کی وجہ سے اپنا نقطہ سمجھا نہیں سکا، دو سال سے میرے خلاف حکومتی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، سپریم کورٹ کے جج اور اہلخانہ کے خلاف سرکاری چینل سے پروپیگنڈا کیا گیا، مسئلہ 10 لاکھ تنخواہ کا نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کا ہے اور میں یہ جنگ اپنے ادارے کے لیے لڑ رہا ہوں۔

اپنے دلائل کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جذباتی ہوگئے اور عدالت سے سوال کیا کہ اگر میری جگہ آپ کی اہلیہ اور بچے ہوتے تو آپ لوگ کیا کرتے؟ کل کو کسی بھی جج کو پروپیگنڈا میں گھسیٹا جاسکتا ہے، اگر فاضل ججز کو کوئی بات گراں گزری ہوتو معذرت چاہتا ہوں۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ آج ملک میں میڈیا کی حالت دیکھ لیں، صحافیوں کو اسلام آباد سے اغوا کرلیا جاتا ہے اور صحافیوں کے اغوا پر وزیراعظم کہتے ہیں مجھے کیا معلوم کیا ہوا، صحافیوں پر تشدد ہوا کسی نے انکوائری تک نہیں کی، ذمہ داروں کا نام بتاؤں تو میرے خلاف ریفرنس آجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان پر بات کی جائے تو خاموش کرادیا جاتا ہے، ایک فوجی ڈکٹیٹر کی اقتدار کی ہوس نے ملک تباہ کردیا۔

جسٹس قاضی کے دلائل پر جسٹس عمر نے کہا کہ جج صاحب یہ قانون کی عدالت ہے، ہم نے مقدمات کے فیصلے کرنے ہیں، آپ کو کسی سے مسئلہ ہے تو اسے عدالت سے باہر رکھیں، بہتر ہوگا کہ ہم اپنی حدود سے باہر نا نکلیں۔

جسٹس منظور ملک نے کہا کہ قاضی صاحب جذباتی نا ہوں، کیس پر فوکس کریں، اس پر جسٹس قاضی نے کہا کہ میری ذات کو بھول جائیں، ملک کے لیے جذباتی ہورہا ہوں، لگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہ رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے جسٹس قاضی کے دلائل کے دوران ہی سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *