Type to search

تجزیہ سیاست

سینیٹ الیکشن میں کیا ہوگا؟: ‘ٹف ٹائم حکومت کے لئے نہیں بلکہ اپوزیشن کے لئے ہے’

گذشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان میں سینیٹ الیکشن کا شور ہر طرف گونج رہا ہے،کبھی ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے ہنگامہ تو کبھی اوپن بیلٹ اور خفیہ رائے شماری پر بحث و مباحثہ اور کبھی پنجاب میں سیٹوں کی بندربانٹ پر خاموش تماشا  کی خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنتی رہی۔ بہرحال اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہوچکی ہیں اور 48 نشستوں پر سینیٹ انتخابات کیلئے آج میدان لگ چکا ہے کہیں نئے اور کہیں پرانے بڑے بڑے امیدواروں کا بڑا ٹاکڑا ہونے جارہا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اپنی اپنی واضح جیت کیلئے پراُمید بھی ہیں لیکن جیت کس کا مقدر بننے جارہی ہے فیصلہ چند گھنٹوں میں سامنے آنے والا ہے جس میں بڑے بڑے دعوے سچ بھی ثابت ہوسکتے ہیں اورریت کی دیوار کی مانند ڈھیر بھی۔

3مارچ 2021کے انتخابات کا سب سے دلچسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہوگا جہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں اور کامیابی کے لئے دونوں جانب سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی مجموعی تعداد 181ہے جبکہ اپوزیشن بینچز پر موجود ارکان کی تعداد 160 ہے۔ یوں اگریوسف رضا گیلانی اِس نشست پر کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ حکومت کے لئے بڑا آپ سیٹ ہوسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت اوپن بیلٹ کے تحت الیکشن کرانے کیلئے تگ ددو کر رہی تھی جبکہ اپوزیشن اوپن بیلٹ کے تحت ووٹنگ کی حامی ہونے کے باوجود خفیہ رائے شماری کے موقف پر ڈٹی ہوئی تھی جس پر عدالتی رائے بھی سامنے آچکی ہے کہ خفیہ رائے شماری کا طریقہ کار اپنایا جائے اور الیکشن کمیشن نے بھی عدالتی فیصلے کے بعد اپنا موقف باقاعدہ طور پر پیش کردیا ہے کہ حسب ماضی سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری کے مطابق ہی ہونگے۔موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تاحال سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر تفصیلی رائے موصول نہیں ہوئی تاہم الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی رائے پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ حکومت کا موقف ہے کہ عدالت نے ٹیکنالوجی کے استعمال کاکہا ہے جس کے لئے بارکوڈ یا سیریل نمبر وغیرہ سے بیلٹ پیپر کو قابل شناخت ہونے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو عملی اقدامات کرنے چاہیے۔دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے اگر قابل شناخت بیلٹ پیپرز متعارف کروا دیئے گئے تو ووٹ کو خفیہ نہیں رکھا جاسکتا اس لئے عدالت نے بھی خفیہ رائے شماری کو برقرار رکھا ہے اور اب عدالت کی رائے کے بعد الیکشن کمیشن کا مضبوط کردار سامنے آنا چاہیے۔

یہاں تعجب کی بات تو یہ ہے اپوزیشن نے جن سے ہاتھ ملا کر سینیٹ کی سیٹیں آپس میں بانٹیں انہیں وہ اُنہیں ”ووٹ چور“ پکارتے ہیں۔ جبکہ عمران خان انہیں کرپٹ ترین سمجھتے ہیں اور ہر روز قوم کو بتاتے ہیں کے وہ اِنہیں ”این آر او نہیں دیں گے“۔ یہ خبریں بھی بازگشت میں ہیں کہ دوسرے صوبوں میں بھی اسی قسم کا بندوبست کرنے پر بات چیت جاری ہے۔تو اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا خفیہ رائے شماری اور اوپن بیلٹ کی باتیں صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہیں؟ اگر سیاستدانوں میں نظریات اہمیت نہیں رکھتے تو پھر عوام کو کیوں نظریات پر دست گریبان رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے؟ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے اپنی اپنی باری لگوا لیں،پہلے بھی ایسا ہوچکا ہے توپھر اب کیوں نہیں؟

پنجاب کی سینیٹ کی سیٹوں پر جو کچھ ہوچکا ہے اِس تناظر میں راقم کی رائے یہی ہے کہ ٹف ٹائم حکومت کے لئے نہیں بلکہ اپوزیشن کے لئے ہے۔ اپوزیشن کے ہاتھوں میں غیرمتوقع طور پر کوئی بڑی کامیابی ملتی نظرنہیں آرہی یہی وجہ ہے کہ وہ گیو اینڈ ٹیک کیلئے آمادہ ہوگئی۔ بہرحال اگر اب باقی سیٹوں پربھی تمام جماعتوں کے معاملات طے ہوچکے ہیں یا  پھر ہورہے ہیں اورسیاسی برتری کی جنگ صرف اسلام آباد کی ایک سیٹ پر آکرٹھہر جاتی ہے تو پھر بھی گیم اپوزیشن کے لئے جیتنا آسان نہیں۔ جیسے ایک کے بعد ایک سرپرائز پہلے بھی مل چکے ہیں اور اب بھی کوئی بعید نہیں کہ عدالت کی جانب سے خفیہ رائے شماری میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے کوئی غیرمتوقع تشریح سامنے آنے کے بعد رات گئے الیکشن کمیشن کی حکمت عملی بد ل سکتی ہے۔ ویسے سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں، کھیل کسی بھی وقت کوئی بھی رُخ اختیار کرسکتا ہے،ممکن ہے کہ دونوں جانب سے معاملات طے نہ بھی ہوں اور اپوزیشن ہی کوئی بڑا سپرائز دے دے.  جس کی بظاہری سیاسی منظرنامے کوئی زیادہ اُمید نہیں۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہی ہوجائے اور حکومت توقعات سے زیادہ ووٹ لے کر اپوزیشن کو بڑا جھٹکا لگا دے اور اپنے اِسی موقف کو دہرائے دے کہ پہلے ہی کہا تھا کہ خفیہ رائے شماری سے اپوزیشن کو نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ  خفیہ طاقتوں کا نیوٹرل ہونا اُس وقت ممکن ہے جب تک حکمران جماعت کی جیت ممکن ہے بصورت دیگر آخری لمحے میں خفیہ طاقتیں بھی کوئی سرپرائز دی سکتی ہیں۔ گیم آن ہے بس چند گھنٹوں میں سب کچھ منظرعام پر آجائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *