Type to search

خبریں

میو ہسپتال میں مبینہ طور پر ایک ڈاکٹر اور دو سٹاف کے افراد کرونا ویکسین لگنے کے بعد کرونا کا شکار

 

 مختلف میڈیا رپورٹس میں میو ہسپتال ذرائع کے حوالےسے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہسپتال کے  ڈاکٹر آفتاب کو 23 فروری کو ویکسین لگائی گئی تھی اور ان میں 5 دن بعد کرونا کی علامات ظاہر ہوئیں  جب کہ ہیڈ نرس عصمت اور وارڈ انچارج تنویر بھٹی کو کورونا ویکسین کے افتتاح کے موقع پر انجیکشن لگائے گئے تھے، ان دونوں میں 15 دن بعد کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ میوہسپتال میں اب تک 1100 ہیلتھ ورکرز کو کرونا ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ویکسین یہ گارنٹی نہیں دیتی کہ اس کے لگنے سے 100 فیصد نتائج آئیں گے اس لیے حفاظتی اقدامات جاری رکھنا ہوں گے۔

 

دوسری جانب ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین کی پہلی خوراک لگنے کے 14 دن بعد اینٹی باڈیز بننا شروع ہوتی ہیں لہٰذا ویکسین لگنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد بھی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد ضروری ہے.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *