Type to search

تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست

یوسف رضا گیلانی کی فتح اس بات کی پیش گوئی ہے کہ ہواوں کا رخ تبدیل ہو رہا ہے

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ پسند نہ کرے جو اپنے لیے کررہا ہے۔

مارچ 2018ء میں چوہدری محمد سرور پنجاب سے سینیٹر بننے میں کامیاب ہو گئے تھے حالانکہ ان کے پاس مطلوبہ ممبران کی تعداد موجود نہیں تھی۔ ان کی فتح کو جمہوریت کے ماتھے کا جھومر قرار دیا گیا تھا لیکن کل ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کی فتح کا تعلق بدعنوانی سے جوڑا جا رہا ہے۔

میں چوہدری سرور کو نہایت نیک اور ایماندار انسان سمجھتا ہوں، اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ حضرت برطانیہ کی پارلیمان کا حصہ رہے ہیں، اور کچھ سیکھا ہو یا نا سیکھا ہو اخلاقی اقدار کا درس ضرور سیکھا ہوگا۔ چوہدری صاحب جوڑ توڑ کی سیاست کے ماہر تھے، اس لئے انھوں نے حکومتی ارکان توڑ کر اپنے ساتھ جوڑ لئے اب جوڑنے کے لئے انھوں نے کس چیز کا استعمال کیا ہے یہ تو اللہ کی ذات ہی جانتی ہے۔

آج یوسف رضا گیلانی صاحب نے بھی حکومتی اراکین توڑ لئے اور اپنے ساتھ جوڑ کر اسلام آباد سے پی ڈی ایم کے لئے نشست نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ چوہدری سرور کے زمانے میں کوئی ووٹ ضائع نہیں ہوا تھا، بلکہ تمام ووٹ کاسٹ ہوئے تھے جبکہ اس دفعہ ووٹوں کو ضائع کر کے جمہوریت کو توانا کیا گیا ہے۔

میری نظر میں غلط نا چوہدری سرور تھے اور نا ہی یوسف رضا گیلانی، بات یہ ہے گندہ ہے پر دھندہ ہے یہ۔ مسئلہ یہ درپیش ہے کہ کل سے ہمارے پاکستان تحریک انصاف والوں نے اس بات کو بدعنوانی سے جوڑنے کا جو علم اٹھا ہے، اس کو اگر چھوڑ دیں تو ان کے لئے اور ملک کی صحت کے لئے اچھا ہے۔ کیونکہ مومن اپنے اور اپنے بھائی کے لئے ایک ہی طرح کی چیز پسند کرتا ہے۔

ووٹ ضائع کرنے والوں میں جو مبینہ نام گردش کر رہے ہیں ان میں شہریار آفریدی، زرتاج گل، اور فواد چوہدری شامل ہیں، کچھ قریب 4 قومی اسمبلی کے اراکین جن کا تعلق کراچی سے ہے انھیں بھی ووٹ کاسٹ کرنے کی بجائے ضائع کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جن کے نام جمیل احمد خان، فہیم خان، عطاء اللہ خان اور اسلم خان ہیں۔ ان لوگوں کی مبینہ ویڈیو بھی سیاست کے بازار میں گردش کر رہی ہے۔ کل 7 ووٹ ضائع ہوئے ہیں اور 4 ووٹ حزب اختلاف کو اضافی پڑے ہیں یوسف رضا گیلانی 169 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ہیں اور 164 ووٹ کے ساتھ حفیظ شیخ دوسرے نمبر پر براجمان ہیں۔ اس تعداد سے واضح ہے کہ 11 گھر کے بھیدی تھے جنھوں نے لنکا ڈھا دی۔

اس تمام تر سیاسی میلہ کے بعد کا منظرنامہ حکومت کے لئے زیادہ تشویشناک ہے، کیونکہ پی ڈی ایم کے مردہ میں اس فتح نے جان ڈال دی ہے اور اگر یوسف رضا گیلانی چیرمین سینٹ منتخب ہو گئے تو قانون سازی اور باقی معاملات مزید الجھ جائیں گے۔ حکومت میں ایسے سیاسی دانشور موجود نہیں ہیں جو حزب اختلاف کو اینگیج کر سکیں۔ ایوان کی کارروائی اور قانون سازی کے لئے بہرحال آپ کو حزب اختلاف کو منانا ہی پڑتا ہے۔

اصولًا اخلاقی طور پر تو وزیراعظم کو استعفی دے دینا چاہیے کیونکہ وزیراعظم کے نامزد امیدوار حفیظ شیخ  حکومت اور اسکے اتحادیوں کے 180 اراکین کی حمایت نا حاصل کر سکے جسکی بنیاد پر موجودہ حکومت قائم ہے، وزیراعظم کیونکہ مغربی جمہوریت سے کسی زمانہ میں نہایت متاثر تھے اس میں الیکشن ہارنے کی صورت میں لوگ نا صرف حکومتی عہدہ سے استعفی دیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ اپنی جماعت کی سربراہی سے بھی استعفی دے جاتے ہیں۔ جبکہ میرے وزیراعظم صاحب نے مجموعی طور پر 3 الیکشن ہارے، 1 میں حصہ نہیں لیا لیکن استعفی نہیں دیا کیونکہ یہی تبدیلی تھی۔ میرے وزیراعظم نے ایوان سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جو نہایت کٹھن مرحلہ ہو گا اور اگر حزب اختلاف اور مقتدر حلقوں میں کسی قسم کی اعتماد سازی کا امکان ہے جس کی سرگوشیاں شہر اقتدار میں ہو رہی ہیں، تو ایسی صورت حال میں حکومت کو اپنے بل بوتے پر ممبران کی تعداد پوری کرنی ہو گی جو سینٹ انتخابات سے بھی زیادہ جان جوکھوں کا کام ہے۔

اس سب کی بنیادی وجہ حکومتی کارکردگی ہے، جسکی حالت اتنی پتلی ہے کہ اگر مقتدر حلقوں کا دست شفقت نا ہو تو یہ حکومت کب کی پیا کے گھر سدھار چکی ہوتی۔ دوسرا حکومتی مسئلہ سیاسی نا پختگی ہے، کیونکہ وزیراعظم کی کچن کی کیبنٹ غیر سیاسی لوگوں پر مشتمل ہے، جو کونسلر تک نہیں منتخب ہو سکتے ہیں،  یہی وجہ ہے انھوں نے ہر جگہ محاذ کھول رکھا ہے۔ حکومت اس لئے بھی قائم تھی کہ بیک ڈور ڈپلومیسی کا دروازہ شہباز شریف کی گرفتاری اور نوازشریف کی تقریر کے بعد سے بند ہو گیا تھا، مگر اب جب ہم معروضی حالات دیکھتے ہیں تو نوازشریف کے لہجہ کی نرمی، حمزہ شہباز کی ضمانت اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اور مقتدر حلقہ شاید اب ایک صفحہ پر موجود نہیں ہیں یا کم از کم انھوں نے اپنا جھکاؤ حکومتی پلڑے میں کسی حد تک کم کیا ہے تاکہ میزان میں توازن لایا جا سکے۔ شاید وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف ایک صفحہ کا راگ الاپنے کی بجائے اپنی کارکردگی والے صفحہ پر بھی توجہ دے سکے، یہ تو آنے والا وقت ہی تعین کرے گا۔

یوسف رضا گیلانی کی فتح اس بات کی پیش گوئی ہے کہ ہواوں کا رخ تبدیل ہو رہا ہے، لیکن یہ تیز ہوائیں بارش (انتخابات) کی نوید لاتی ہیں یا آندھی (ان ہاوس تبدیلی) کی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ آندھی کی صورت میں کم از کم پنجاب میں تبدیلی آ کر رہے گی اور پاکستان میں پنجاب کی تبدیلی مرکز کی تبدیلی کا شاخسانہ ہوتی ہے۔ اس تبدیلی سے بچاو صرف اور صرف کارکردگی سے ممکن ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *