Type to search

تجزیہ جمہوریت سیاست

انتہا پسندوں کوخوش کرنے کی بھاری قیمت

از رضا رومی

ملک کے وزیرِ داخلہ، جن پر داخلی سکیورٹی اور عوام کے تحفظ کی ذمہ دار ی ہے، پر قاتلانہ حملہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ کچھ روز قبل نواز شریف کی ٹیم کے دو ٹوک لہجے میں کھری بات کرنے والے رہنما پر ایک نوجوان انتہا پسند نے حملہ کیا۔ پریس رپورٹ کے مطابق ملزم نے اپنے اقبالی بیان میں کہا کہ اُس نے حملہ تحریکِ لبیک کے رہنما خادم رضوی کی شعلہ بیانی سے متاثر ہوکر کیا تھا۔

2017 میں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف کی ناہلی کے بعد سے ان کی پارٹی اور سیاست کئی طرح کے حملوں کی زد میں آئی ہے۔ بدعنوانی کے مقدمات کے علاوہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف خطرناک طریقے سے مذہبی کارڈ کھیل کر ان کی پنجاب میں حمایت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناتے اس بات کا تعین کرتا ہے کہ مرکزمیں کس کی حکومت ہوگی۔ گذشتہ سال حکمران جماعت نے ارکانِ پارلیمان کے حلف نامے میں ایک معمولی سی تبدیلی کرنا چاہی، لیکن اسے توہین کا ایشو بنا کر اچھالا گیا۔

ریاست نے 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ یہ معاملہ یہاں ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی اُن کے خلاف انتہائی جذبات بھڑکائے جاتے رہے۔ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے اجرا سے لے کر عوامی عہدوں کے حلف ناموں تک مذہبی عقائد کا اظہار ضروری بنا دیا گیا۔ یقیناً ریاست سے بھی بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن ملک کے دانشور طبقے نے بھی ان خرابیوں کو مہمیز دینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ آج انتہا پسندی اس درجے کو پہنچ چکی ہے کہ عام شہری تو کجا، منصب پر موجود وزرا بھی ان کی گولیوں سے محفوظ نہیں۔ مزید قہر یہ ہے کہ گولی چلانے اور اسے بھڑکانے والی سوچ کے خلاف تک اشتعال نہیں پایا جاتا۔ بلکہ خوف کا یہ عالم ہے کہ کوئی بات تک کرنے کا روادار نہیں۔

گذشتہ سال ہم نے حکومت کے خلاف جھوٹی خبروں کی بھرمار دیکھی۔ ان میں سے زیادہ تر حساس مذہبی موضوعات کے بارے میں تھیں۔ میڈیا کے کچھ دھڑوں اور تجزیہ نگاروں اور مبصرین نے اس موقع سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ مذہب کے حساس موضوع کو سیاسی اور مالی مفاد کے لئے استعمال کرنے کی خوفناک جسارت کی گئی۔ حکمران جماعت نے مذہب پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا لیکن سیاسی مخالفین نے اس سے فائدہ اٹھانے کا خطرناک داؤ کھیلا۔ کچھ بریلوی گروہوں نے انتہائی جذبات بھڑکا کر سیاسی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ اس سے پہلے حکومت عدالتی حکم کی تعمیل میں گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی دے چکی تھی۔ اس پر بھی ردعمل ہوا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ردعمل کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے نوازشریف مخالف طاقتوں نے بریلوی مسلک کو بھڑکایا تا کہ پنجاب کے انتخابی حلقوں میں ان کی سیاسی قوت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

احسن اقبال پر حملے کے بعد بھی جھوٹی خبریں پھیلانے کا سلسلہ جاری رہا۔ نارووال سے ہی تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنما ابرارالحق اور کچھ دیگر رہنماؤں نے خود احسن اقبال پر الزام لگایا کہ اُنہوں نے خود پر جعلی حملے کا ڈرامہ رچایا ہے۔ ابرار الحق نے تو احسن اقبال اور پی ایم ایل (ن) کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے گناہ (جو اُنہوں نے کیا ہی نہیں) کی معافی مانگیں۔ عمران خان نے ایسی ہی سوچ رکھنے والے ایک اور ‘کھلاڑی’، عامر لیاقت حسین، کو پارٹی میں شامل کر لیا ہے۔ شواہد واضح ہیں کہ اگلے عام انتخابات میں عقیدے کے حساس موضوعات سیاسی ایجنڈا بنا کر پیش کیے جائیں گے۔

ہم سیاسی حربوں کو مذہب کا مقدس لبادہ پہنا کر فائدہ اٹھانے، اور بعد میں اس کا خمیازہ بھگتنے کی طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ 1949  میں قراردادِ مقاصد کی منظوری کے بعد سے مذہب کے ہر سیاسی استعمال نے معاشرے کو تقسیم کیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ محض عقیدے کے سہارے ہم قوم کو متحد رکھنے میں ناکام رہے۔ مشرقی پاکستان کے باشندے ہم سے کم مسلمان نہیں تھے، لیکن وہ ہمارے ساتھ نہ رہ سکے اور علیحدگی کی راہ اپنائی۔ بھٹو، جو کہ ایک سیکولر اور لبرل سیاست دان تھے، نے محض سیاسی مفاد کے لئے پاکستان کو مزید اسلام پسندی کی طرف دھکیلا لیکن وہ خود کو نہ بچا سکے۔ دائیں بازو کی تحریک نے بھٹو کا تختہ الٹنے میں اُس وقت کی اسٹبلشمنٹ کے فعال بازو کا کردار ادا کیا۔

1980 کی دہائی میں ضیاء نے قومی سلامتی کے دیگر فیچر بھی مذہب کے رنگ میں رنگ دیے، جیسا کہ ‘اسلامی بم’، اور ‘عالمگیر اسلامی شناخت’۔ اس کے بعد سے اس راستے سے واپسی کے لئے قدم اٹھانا ناممکن ہو چکا ہے۔ مشرف اپنی تمام تر روشن خیالی کے باوجود ایسا کرنے میں ناکام رہے، اگرچہ اُنہوں نے کچھ سخت قوانین کو تبدیل کرنے کی کوشش ضرور کی۔ ایسا لگتا ہے کہ نواز حکومت کو زعم تھا کہ پنجاب کی عوامی طاقت اس کے ساتھ ہے، چنانچہ وہ اس لہرکا رخ موڑنے کا جوکھم اٹھا سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو جاتی لیکن مخالف سیاسی جماعتوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور زہریلا پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔ خدشہ ہے اس حماقت کی حقیقی قیمت تمام سیاسی جماعتوں کو بتدریج چکانی پڑے گی۔ اور تو اور، پی ایم ایل (ن) کے کیپٹن صفدر نے ممتاز قادری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی سیاسی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔

نومبر میں تحریک لبیک کو رام کرنے کے لئے کیا گیا معاہدہ ایک خطرناک رجحان کی طرف اشارہ ہے۔ خادم رضوی اور دیگر انتہا پسندوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ کمزور حکومت احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے میں ناکام رہی۔ اس پر افسران نے معاہدہ کرایا، مظاہرین کے ہاتھ لفافے تھمائے اور اُنہیں گھر بھیج دیا۔ یہ اُنہیں ہلہ شیری دینے کے مترادف تھا۔ وہ جان گئے کہ وہ اپنی کوئی بھی بات منوانے کے لیے یہ راہ اپنا سکتے ہیں، اور حکومت اُنہیں روکنے کی مجاز نہیں۔ اس دوران میڈیا کا کردار بھی قابلِ تحسین نہ رہا۔ کچھ میڈیا ہاؤسز نے تو کھل کر انتہا پسندوں کے مؤقف کو عام کیا۔ کچھ دیگر چینلز اس انتہا پسندی کے نشانے پر رہے۔

اس کھولتے ہوئے ماحول میں ایک بیس سالہ نوجوان کے ایک وزیر کی جان لینے کی کوشش کرنے پر حیرت کیسی؟ ہم نے جو بیج بوئے، اُن کی زہریلی فصل کاٹنی ہے۔ گرفتار شدہ حملہ آور کا تعلق انتہائی مذہبی خاندان سے ہے۔ وہ دن دور نہیں جب انتہا پسندوں کے جتھے عام شہریوں پر اور پھر مزید انتہا پسند اُن پر حملہ آور ہوں گے۔ نفرت اور تعصب کی کھیتی اور کیا رنگ لا سکتی ہے؟ پی پی پی اور اے این پی کو 2013 کے عام انتخابات میں انتہا پسندوں نے دیوار کے ساتھ لگا دیا تھا۔ دعا کی جانی چاہیے کہ اس مرتبہ پی ایم ایل (ن) کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ایسا ہو تو اس میں دوسری جماعتوں کے لئے شادیانے بجانے کی کوئی وجہ نہیں، وہ بھی وقت آنے پر اسی انجام سے دوچار ہوں گی۔ اس سے بچنے کے لئے سیاست سے بالاتر ہو کر ایک مفاہمت اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے کہ سیاسی اختلاف کی حد کہاں تک ہے، اور مذہب کو سیاست سے کس لئے الگ رکھنا چاہیے۔ لیکن اب جب کہ ہم 2018 کے عام انتخابات کی دہلیز پر ہیں، ایسی کوئی کوشش ہوتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *