Type to search

تجزیہ جمہوریت سیاست

جب ن نے ق میں سے ’ط‘ نکالی

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے سابق وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ چیئرمین کے الیکشن کے لئے اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ تاحال ڈپٹی سینیٹ چیئرمین کے عہدے کے لئے امیدوار کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ اس حوالے سے اب تک مسلم لیگ ن سے ڈاکٹر مصدق ملک جب کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) سے مولانا عطاالرحمٰن اور غفور حیدری کے نام سامنے آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پاس سینیٹ میں 55 ووٹ موجود ہیں جب کہ حکومتی اتحاد کے ووٹوں کی تعداد 43 ہے۔ انہیں مکمل یقین ہے کہ ان کے امیدوار سینیٹ میں واضح برتری حاصل کر کے چیئرمین سینیٹ بن جائیں گے۔

رؤف کلاسرہ صاحب کے مطابق حکومتی اراکین کی بہت سی ناراضگیاں ہیں۔ وہ حکومتی امیدوار کو ووٹ نہیں دینا چاہتے۔ عمران خان صاحب ان پر پیسے لینے کا الزام لگاتے ہیں، مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ ان کی جانب سے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کے وعدے نے حکومتی اراکین کو PDM کو ووٹ دینے کے لئے راضی کیا۔ حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، یہ بات طے ہے کہ اگر اراکین کو اپنا مستقبل پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ نظر آتا تو وہ بہرحال ووٹ عمران خان کے امیدوار کو ہی دیتے۔

کلاسرہ صاحب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جن اراکین قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا ہے، ان سے صرف یہ ڈیل نہیں کی گئی کہ یہ سینیٹ انتخابات میں PDM کا ساتھ دیں گے بلکہ یہ ڈیل بھی کی گئی ہے کہ اگر بات عدم اعتماد کی تحریک تک گئی تو وہ اس میں بھی حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے جس کے بعد انہیں اپنی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ لیکن وہ اس کے لئے تیار ہیں۔

یہاں ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ 2008 میں جب مسلم لیگ ن نے پنجاب میں حکومت بنائی تو اس وقت ان کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی اتحاد میں تھی۔ دوسری جانب وفاقی کابینہ میں ن لیگ پیپلز پارٹی کی جونیئر شریکِ کار تھی۔ چند ہفتوں بعد ن لیگ نے تو کابینہ سے خود کو علیحدہ کر لیا لیکن پیپلز پارٹی پنجاب حکومت کا حصہ رہی۔ نتیجتاً پیپلز پارٹی نے وفاق کی سطح پر مسلم لیگ ق سے اتحاد کر لیا۔ مگر پنجاب میں ن لیگ نے پیپلز پارٹی سے پیچھا چھڑانے کے لئے ق لیگ سے اتحاد کرنے کی بجائے اس کا ایک فارورڈ بلاک بنا لیا۔ تب تک اٹھارھویں ترمیم معرضِ وجود میں آ چکی تھی۔ اس ترمیم کے تحت اگر کسی جماعت کا پارلیمانی سربراہ سپیکر کو درخواست دے کہ اس کے کچھ ممبران بجٹ پاس کروانے یا وزیر اعظم یا صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے الیکشن کے لئے پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں لہٰذا انہیں ان کی نشست سے de seat کر دیا جائے تو سپیکر ایسا کر سکتا ہے۔ اس مسئلے کا توڑ یہ نکالا گیا کہ پنجاب اسمبلی میں ق لیگ کے آدھے سے زیادہ اراکین فارورڈ بلاک کا حصہ بن گئے اور انہوں نے سپیکر کو یہ درخواست دے دی کہ وہ چودھری ظہیر کو اپنا پارلیمانی لیڈر نہیں مانتے اور ان کی جگہ ڈاکٹر طاہر علی جاوید کو اپنا پارلیمانی لیڈر بنوا ڈالا تھا۔ جس کے بعد ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

یہ سارا معاملہ واضح طور پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہی کہا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود چونکہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر کی نشست پر شریف خاندان کے وفادار رانا اقبال براجمان تھے، انہوں نے فارورڈ بلاک کے خلاف اس وقت تک کارروائی نہ کی جب تک کہ اس کی تعداد ق لیگ کے کل اراکین کے آدھے سے زیادہ نہیں ہو گئی۔

یہ واقعہ یاد کروانا اس لئے ضروری تھا کہ لازمی نہیں کہ جو اراکین حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے، وہ اپنی نشستیں ہر حال میں کھوئیں گے۔ PTI کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے قومی اسمبلی کے اراکین کی اصل تعداد 116 تھی۔ رؤف کلاسرہ کی بات مان لی جائے تو 35 اراکین تو پہلے ہی حکومت کا ساتھ چھوڑنے کو تیار ہیں۔ یہ تعداد بڑھ کر کل اراکین کی تعداد کا 50 فیصد ہونے تک اگر سپیکر فیصلہ نہ لے تو بعد ازاں پارٹی کا پارلیمانی لیڈر بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ PTI کے اپنے سپیکر اسد قیصر ایسا کیسے ہونے دیں گے؟ جواب یہ ہے کہ اسی لئے تحریک عدم اعتماد کا فوری خطرہ عمران خان کو نہیں، اسد قیصر کو ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم کے اعتماد کے ووٹ کے برعکس، سپیکر کے خلاف آئی تحریکِ عدم اعتماد میں رائے شماری خفیہ ہوتی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *