Type to search

صنف عوام کی آواز

سیتا ہی کودے آگ میں، سیتا ہی کھائے ٹینڈے

پدر شاہی نظام کی برکت سے یوں تو کہیں بھی عورت ہونا آسان نہیں ہے۔ آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، زندگی عورت اور مرد کے لئے یکساں نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ بہت سے معاشرے اخلاق کے اعتبار سے خود کو بہت بہتر کر چکے ہیں وطن عزیز میں حالات مختلف ہیں۔ ایسی بات نہیں کہ یہاں عورتوں کے لئے جینا بالکل محال ہے۔ بہت سی باتوں میں پاکستانی معاشرہ عورت کے لئے سہل بھی ہے لیکن اگر مجموعی حالات دیکھیں تو مسئلہ ٹیڑھا ہی ہے۔

گھر بیٹھی بہو کو بھی چین سے جینے تھوڑی دیتے ہیں

یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ یہ رویہ کسی خاص طبقے یا مکتبہ فکر تک محدود نہیں۔ گھر بیٹھی بہو بھی اسی چکی میں پستی ہے جس میں بینک  میں دفتری کام کرنے والی عورت۔ جس نے اپنے آپ کو سماج کے مروجہ اصولوں پر خود کو قربان کر دیا اس کی زندگی بھی کوئی پھولوں کی سیج نہیں۔ لیکن ہاں اگر کسی ویڈیو گیم کی طرح مشکل کا لیول دیکھا جائے تو زمانے کی دیواریں توڑنے والی عورت اس گیم کے لیول ٹو پر ہے۔

یا تو عورت ستی ساوتری ہوتی ہے، یا وہ سموسے منگا کر کھاتی ہے

ہم عورتوں کو شروع سے یہی بتایا گیا کہ آواز نیچی رہے۔ گھر سجانے بنانے پر توجہ دی جائے۔ ہر بات پر ہاں کی جائے۔ کوئی کچھ بھی کہے پھر بھی زبان بند رکھی جائے۔ مجھے یاد ہے کہ ہماری نانی چٹوری عورت کو بہت برا گردانتی تھیں کہ اچھی عورت وہ ہے جو کھانے پینے ہر زیادہ توجہ نہ دے۔ اپنے حصے کی بوٹی مرد کو نہ دینے والی عورت بھی بری ہے۔ گھر پکے ٹینڈے کھانے سے انکار کرنے والی عورت بھی بری ہے۔ اپنے لئے بازار سے سموسے منگانے والی عورت بھی بری ہے۔ یعنی ہر وہ عورت جو کسی بھی اعتبار سے اپنی رائے کا اظہار کرے یا اپنا کوئی بھی فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے، بری عورت ہے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں برداشت اور رواداری کا دور دور کام نہیں اس بری عورت کو ہر قسم کی لعن طعن اور تشنع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے

سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ ہر کسی کو وہ آواز مل چکی ہے جو پہلے ناممکن تھی۔ اب بھلے چپ کر کے ٹائپ کر دیجئے، آواز ہر جگہ ہی گونجے گی۔ اب ‘بری’ عورتوں کی تعداد بھی بڑھ چکی ہے اور ان پر ہونے والی تنقید بھی۔ ہمارا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے لہٰذا جو کہیں گے دل سے کہیں گے۔ مزاج کچھ ایسے بن چکے ہیں کہ عزت کے لائق صرف اسی کو سمجھا جاتا ہے جو کسی کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی ہو۔ جس عورت کی اپنی کوئی پہچان ہو وہ اس رویے کے لئے تیار رہے۔ ان عورتوں کو معاشرے کی عزت پر بھی بٹہ سمجھا جاتا ہے۔ ننگی گالیاں دینے والے تو قوم کی غیرت کے رکھوالے ٹھہرے۔

ماہرہ پر بھی حکم ایسے چلاتے ہیں جیسے اپنے گھر کی عورتوں کو غلام سمجھتے ہیں

یہ رویہ صرف عام باشعور خواتین کے لئے ہی مختص نہیں۔ یقین نہ آئے تو خواتین سیلیبرٹیز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ملاحظہ کر لیجئے۔ میشا شفیع ہوں یا ماہرہ خان کوئی محفوظ نہیں۔ ایک عام تصویر پر بھی انہیں جن القابات سے نوازا جاتا ہے ان کو برداشت کرنا انہی کی ہمت ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود وہ تمام خواتین لکھاری، اداکار، سیاستدان، تجزیہ نگار ان کے عتاب سے محفوظ نہیں۔ آپ رائے عامہ سے ہٹ کر کوئی بھی بات کریں تو ایک طوفان بدتمیزی کا مقابلہ کرنے کو کمر بھی کس لیں۔

اس معاملے کا حل شاید آپ ہم سے بہتر تجویز کر پائیں۔ لیکن اگر یہ حل زبان بندی ہے تو ہم سے نہ ہو پائے گا۔ فکری پختگی، شعور اور شائستگی کا تڑکہ لگ سکے تو نوازش ہو گی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *