Type to search

ادب تجزیہ

چوہدری گجرصاحب کسوٹی والے!

  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

’جاہلوں! تمہیں گجر صاحب کی کہانی سناتا ہوں۔‘ قلندر مریدوں سے مخاطب ہوا۔

’گجر صاحب کو کون نہیں جانتا۔ آستانے پر بغیر پانی ملا دودھ ان کے ہی طویلے سے تو آتا ہے۔ بہت فیاض اور ملنسار انسان ہیں۔ کوئی اور کہانی سنائیں۔‘ یہ مخدوم لپاڑیا تھا۔

’ابےلپاڑیے یہ دودھ والاگجرنہیں، کسوٹی والاگجرہے۔ اپنے استاداور دوست  گجر کی بات کر رہا ہوں ۔  یہ بھی خان بے نمازی کے طرح انتہائی قابل انسان تھے۔ گرامر کی رو سے درست انگریزی لکھنا او ر بولنا ان پر ختم تھا۔ اس کے علاوہ سیاسی امور ملکی وغیر ملکی، تاریخ، مذہب، میڈیا، پاک بھارت تعلقات اور صحافت ایسے دقیق موضوعات پر ان کی معلومات اور رائے ہر خواندہ، نیم خواندہ اور نا خواندہ  کو لاجواب کردیتیں۔ ابتدا میں انگریزی زبان میں صحافت کی۔ پھر گوروں کے پاس دو دہائی ملازمت کی۔ گوروں نے ان کے انگریزی کے علم سے خوب فیض حاصل کیا۔  نائب قاصد ٹائپ گورے سے لیکر منسٹر لیول تک کا گورا کوئی بھی کیبل، مراسلہ یا خط (خواہ کتنا حساس اور خفیہ ہو) اس وقت تک حکام بالا کو بھیجتا جب تک گجر صاحب کودکھلا نہ دے۔

گجر صاحب اسکا بغور مطالعہ کرتے، prepositions, verb, noun, , tenses, adverbاور دیگر parts of speechکی غلطیاں ایسے درست کرتے کہ لکھنے والا ان کے قدموں میں گر جاتا۔  سینکڑوں گورے ان  ہی کی ایڈیٹنگ اور علم کی بدولت راتوں رات ترقی پا کر صدر ، وزیر اعظم ، منسٹر یا مشیر بنے ،  چشم زدن میں ریٹائر کئے گئے یا نکالے گئے، اور منٹوں میں دنیا کی اعلی ترین درسگاہوں میں انگریزی اور پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اور گھنٹوں بعد ان کا اتا پتہ نہ رہا!‘

 

’گجر صاحب کا انگریزی دانوں اور دیسی لوگوں پر سب سے بڑا احسان ایک عدد معرکتہ لاآرا  انگریزی سیکھنے کی کتاب تھی جو انہوں نے تیس برس کی عرق ریزی کے بعد مکمل کی۔ اسے ازبر کر کے جاہل سے جاہل حیوان(انسان بھی حیوان ہی ہے ایک قسم کا)بھی   فر فر انگریزی بولنے اور شیکسپیر کی طرح انگلش لکھنے کے قابل ہو جاتا ۔ اس کتاب کی افادیت کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ گورا سول سروس کے امتحانات میں یہ بطور لازمی مضمون شامل ہے۔ بیوروکریٹ بننے کے لئے اسکا امتحان پاس کرنا لازمی ہے۔ اگرچہ کامیابی کے نمبر سو میں سے صرف تین تھے لیکن پھر بھی بڑے بڑے طرم خان اس امتحان میں فیل ہی ہوتے۔ پاس صرف وہی امیدوار ہوتے جو اس کتاب سے لاعلم تھے۔   نامی گرامی بیوروکریٹ اس کتاب کو سرہانے رکھ کر سوتے۔‘

 

’گجر صاحب کا ایک پسندیدہ مشغلہ اپنے علم، عقل، فہم و فراست اور دلائل سے جہلاء کی سوچ بدلنا تھا۔ ایسے جہلاء جنہوں نے مطالعہ پاکستان، اسلامیات، پاکستانی تاریخ میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہو۔ منسٹر ہو یا اسکا اردلی  ، گجر صاحب اسے دو قومی نظریے کے بھیترپوشیدہ فلسفے سے آگاہ کیے بغیر نہ رہ پاتے۔ چونکہ سب ہی ان کی بہت زیادہ عزت کیا کرتے تھے، لہذا ہاں میں ہاں ملا دیتے۔ گجر صاحب اسے اپنی کامیابی پر محمول کرتے۔ ‘

 

’گجر صاحب کا ایک اور شغل شہر میں ہر سیمینار، ورکشاپ اور اسی قسم کی محفلوں میں شرکت کرنا تھا چاہے وہ کتنی ہی غیر اہم کیوں نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ فکر بھی لاحق رہتی کہ آمدنی کو جائز طریقے سے کیسے بڑھایا جائے۔ حالانکہ گورےانہیں بہترین تنخواہ دیا کرتے تھے۔ اتنی کہ بقول یوسفی صاحب اس میں کلکتہ کی گوہر جان اور ایک سو ایک رنڈیوں کاناچ گانا ہو جائے۔ اپنی صحافت کے دن انہیں رہ رہ کر یاد آتے جس میں انہیں اتنے پیسے ملتے کہ بس کا کرایہ بھی مشکل سے نکلتا۔ اکثر سوچتے کہ گوروں کی نوکری چھوڑ کر دوبارہ  صحافت شروع  کردیں۔ لیکن میں روک دیتا یہ کہہ کر کہ کیا فاقوں مرنے کا ارادہ ہے! ‘

 

’گجر صاحب کے ساتھ مجھے  communicationکا مسئلہ درپیش رہتا تھا۔ یہ ایک ہی وقت میں درجن سوال پوچھتے۔ ابھی ایک کا جواب مکمل نہ ہوتا یہ مزید ایک درجن سوال کر بیٹھتے۔ انہیں سوال پوچھنے کا بے حد شوق تھا۔ جواب میں یہ ہر گز دلچسپی نہ رکھتے تھے۔‘

 

’ایک دن یہ ریٹائر ہو گئے۔ اور اسکے ساتھ ہی وہ پرانا سوال اٹھا۔ آمدنی کیسے بڑھائی جائے۔ میں نے عرض کیا جناب آپ کے پاس علم کا خزانہ ہے۔ کتابیں لکھیں، بچوں کو انگریزی سکھائیں۔ اپنا یو ٹیوب چینل کھولیں۔ اچھے اچھے انٹرویو کریں۔ جلد ہی ٹھیک ٹھاک پیسے کمانا شروع ہو جائینگے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا، جواب میں یہ ہر گز دلچسپی نہ رکھتے تھے۔ ایک اچھی بات ان کے بارے میں بتانا بھول گیا کہ یہ مشورے پر یقین رکھتے تھے۔ کہتے تھے کہ اگر کوئی نہ ہو تو دیوار سے ہی مشورہ لے لینا چاہیے۔ اس بھی اچھی بات ان کی یہ تھی کہ کسی کے مشورے کو سرے سے سنتے ہی نہ تھے۔ اگر کوئی انکی فرمائش پر مشورہ دے رہا ہو تو جھٹ سے ایک نیا سوال داغ دیتے جو ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کی بہترین مثال ہوتا۔مثلاً انہوں نے کل پرسوں مجھ سے پوچھا کہ کیمرے سے ریکارڈنگ کیسے کرتے ہیں۔ میں نے ابھی بتانا شروع کیا ہی تھا کہ ان کا اگلا سوال تھا آپکے گھر میں بجلی کتنی دفعہ جاتی ہے۔ میں نے عرض کیا معلوم نہیں کیونکہ شمسی توانائی سے گھر چلتا ہے تو ان کا اگلا سوال تھا کہ یورپ میں کتنے فیصد لوگ کوئلہ استعمال کرتے ہیں!‘

 

’ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا سب سے اہم مسئلہ پیسہ تھا کیونکہ گوروں کی غلامی میں مقامی ملازمین کے لئے پینشن میسر نہ تھی۔ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ روٹی کلب کی ممبرشب لے لی جہاں روٹی تک مفت نہ ملتی ۔  اس کلب سے اچھے تو  NGOs کےوہ سیمینار ٹہرے جہاں دو گھنٹے کی بکواس سننے کے بعد روٹی کے ساتھ ساتھ آٹھ دس ڈشیں اور تین چار سوئیٹ ڈشیں مفت کھانے کو ملتیں۔ دو گھنٹے کی بکواس کو skipبھی کیا جا سکتا ہے۔ وہ ایسے کے عین کھانے کے وقت سے پانچ منٹ پہلے جب آخری بکواسی بھی اپنی بک بک کے آخری پیراگراف پر ہو آپ ہال میں اپنی انٹری مار دیں۔ لیکن روٹی کلب میں رکنیت کی فیس کے علاوہ ہر میٹنگ کا چندہ بھی دینا پڑتا تھا۔ دس روپے کی روٹی تین ہزار میں پڑتی۔  آنے جانے کا پٹرول کا خرچہ علیحدہ۔   حاصل وصول یہ کہ چند جانے بہت سے انجانے شرفاء  و غیر شرفاء کے ساتھ تصویر کھنچوا لی اور اپنے تئیں ملک میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ خوش قسمتی ٹہری اگر ان تصاویر کو چند یار دوستوں نے فیس بک پر لائک کا شرف بخش دیا۔  اب یہ اس کلب میں اتنےکھُبےہوئے ہیں کہ اس کے تمام مسائل کا بوجھ ان ہی کے تندرست اور جوان کندھوں پر ہے۔‘

 

’income generateکرنے کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ فی سبیل اللہ قوم کے جہلاء  میں علم کی روشنی بذریعہ فیس بک پھیلانے کا بیڑہ اٹھایا۔ طریقہ واردات کچھ ایسا تھا کہ ایک دور کی کوڑی سوال کی شکل میں فیس بک پر ڈالتے ۔ مقصد اس موضوع پر پورا لیکچر دینا تھا جو یقیناً پورا ہوتا ایسے کہ کوئی اس اہم سوال کو نظر انداز کئے بغیر نہ رہ سکا اور کچھ نہ کچھ  comment والے  sectionمیں ڈالدیا۔ بس اندھا کیا چاہے دو آنکھیں اور یہ پورا راگ الاپ دیتے۔ اسکے بعد بحث برائے بحث یا الزامات کی بوچھاڑ شروع ۔ بےوقوف لوگ اپنے آپ کو انکے سوالات جوابات سے دور رکھتے۔‘

 

’سرکار گجر صاحب کس قسم کے سوالات اٹھاتے تھے؟’ قلندر کے مرید کبڑے وجیہہ نے پوچھا۔

‘ابے کوئی بھی اہم حکمت دانائی سے بھرپور سوال مثلاً افریقہ  کی رہنے والے کس رنگت کے ہوتے ہیں؟ لندن میں ہر گورا انگریزی میں کیوں گفتگو کرتا ہے؟ ابن انشاء ، ابن بطوطہ، ابن زیاد اور ابن الوقت چاروں کزن الگ الگ زمانے میں کیوں پیدا ہوئے؟ نرگس ڈانس کرتے ہوئے ہلتی کیوں ہے؟  فہمی نسٹ ، غلط فہمی نسٹ وہمی نسٹ کس زبان کے الفاظ ہیں وارث شاہ نے انہیں کلام میں استعمال کیوں نہیں کیا؟ غالب بڑا شاعر ہے یا کشور ناہید؟  زلیخا مرد تھی یا عورت اور ان کا ذکر ہمیشہ یوسف کے حوالے سے کیوں ہوتا ہے؟  جنرل محمود نے پستول میاں نواز شریف کی کنپٹی پر رکھ دیا پھر بھی انہوں نے استعفی دینے سے  انکارکردیا۔نتیجتاً ان کی کلائی مروڑنا پڑی تو نواز شریف کی کتنی چوڑیا ں ٹوٹیں؟ نو، گیارہ یا تیرہ؟  پیمپر اور پینٹی میں کیا فرق ہے؟ دونوں کی قیمتوں میں بھی بہت فرق ہے۔  اگر پطرس بخاری ہے تو پیٹر کی ذات کیا ہو گی؟ اگر فیض احمد فیض امجد اسلام امجد ہے تو احمد فراز احمد کیوں نہیں۔ کیا بھارت میں ایسا ہوتا ہے؟ بنگلہ دیش کی عوام بنگلوں میں نہیں رہتی تو اسے بنگلہ دیش کیوں کہا جاتا ہے۔ تحقیق کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟ عمران خان ، نیو خان اور استاد بڑے غلام علی خان میں کیا فرق ہے؟‘

’یہ تو بہت اہم سوالات ہیں۔ انہیں تو کسوٹی ایسا کوئی پروگرام کرنا چاہیے؟’ کبڑا وجیہہ بولا۔

’تو نے درست فرمایا۔ لیکن میں گجر صاحب کی اس حکمت عملی سے متفق نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ سب بہت اہم سوالات ہیں۔ فیس بک پر ٹوٹوں کی شکل میں ضائع ہو جائینگے۔ انگریزی کی کتاب کے بعد اب ایک کتاب تاریخ اور سیاست کے بارے میں ہونی چاہیے جس میں ان تمام سوالات اور ان سے ملتےجلتے معاملات کا مکمل احاطہ کیا جائے۔ آنے والی نسلوں پر یہ بہت بڑا احسان ہو گا۔ اور اگر یہ کتاب موجودہ امریکی صدر کی نظر سے گذر گئی تو فوراً انہیں اپنا سپیشل ایڈوائزر وہ بھی تا حیات مقرر کر دے گا۔ آنے والی تما م نسلیں، گوری، کالی یا گندمی ان کی کتاب سے فیضیاب ہوتی رہیں گی۔ افسوس میری یہ ایک نہیں سنتے۔ روز علم کا دریا اسی طرح بہتے بہتے سمندر کے کھارے پانی میں جا گرتا ہے۔ یہ ڈیم بنانے کا سوچتے  ہی نہیں! شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات!‘

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *